جرائم کے خاتمہ کے لیے کراچی سیف سٹی منصوبے کی فوری بحالی اشد ضروری ہے

32

کراچی (اسٹاف رپورٹر )پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کراچی پاکستان کی معیشت کے لیے شہہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے جس کا قومی آمدن میں 70فیصد حصہ ہے۔ کراچی میں امن کی بحالی ، دہشتگردی کے خاتمہ اور جرائم کے انسداد کے لیے پاکستان آرمی، رینجرز اور سندھ پولیس نے بے دریغ قربانیاں دی ہیں، جس نے شہر کی روشنیاں لوٹانے اور کاروباری سرگرمیاں بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ کراچی باوجود اس کے کہ پاکستان کا معاشی اور صنعتی حب ہے ، اب تک سیف سٹی منصوبہ سے محروم ہے۔سی پی ایل سی کی اعداد وشمار کے مطابق کراچی میں گزشتہ 3ماہ کے دوران اسٹریٹ کرائمز کے تقریباً20ہزار واقعات ہوئے جس کے نتیجے میں شہریوں سے394گاڑیاں، 8ہزار موٹرسائکلیں اور 10 ہزار موبائیل فونز چھینے گئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں 38فیصد گاڑیاں، 18فیصد موٹرسائیکلیں اور صرف5فیصد موبائل فونز ریکور کیے گئے۔ سابقہ پنجاب حکومت نے 12ارب روپے کی لاگت سے لاہور میں سیف سٹی منصوبہ کامیابی کے ساتھ تکمیل تک پہنچایا اور مزید 6بڑے شہروں بشمول راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد، بہاولپور، گجرانوالہ اور سرگودھا میں اس منصوبہ کی منظوری دی اور کام شروع کروایا۔ کراچی میں بھی لاہور کے طرز پر سیف سٹی پراجیکٹ منظور کیا گیا لیکن اس منصوبہ میں ہونے والی 550ملین روپے کی مبینہ کرپشن کے باعث نیب کی مداخلت سے یہ منصوبہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ