فلسطینی نژاد امریکی طالبہ ایک ہفتے  سے اسرائیلی ہوائی اڈے پر بند

54

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکام نے فلسطینی نژاد امریکی طالبہ کوبن گوریون ہوائی اڈے پر ایک ہفتے سے روک رکھا ہے۔ اسرائیل میں داخل ہونے کی اجازت کا فیصلہ عدالت پر چھوڑا کر اسے تنگ کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق لارا قاسم کو اس لیے اسرائیلی حکومت انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے کہ وہ امریکا میں اسرائیل کے بائیکاٹ کے لیے جاری عالمی تحریک بی ڈی ایس کی
سرگرمیوں میں شامل رہی۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے گروہ اسرائیل کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیکر مسترد کرچکے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق لارا قاسم کو بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایمی گریشن مرکز میں رکھا گیا ہے۔ وہ گرفتار نہیں بلکہ اسے ہرقسم کی سہولت دی جا رہی ہے۔ وہ جب چاہے امریکا واپس جا سکتی ہے۔واضح رہے کہ 2017ء میں اسرائیل نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کی رو سے عالمی سطح پر اسرائیل کے بائیکاٹ کی حمایت کرنے والوں کو اسرائیل میں داخل ہونے، سرمایہ کاری کرنے یا کسی بھی دوسرے مقصد کے لیے آنے کی اجازت نہیں دی ہوگی۔ عالمی سطح پر جاری تحریک بی ڈی ایس اسرائیل پر جامع ہاپندیاں بالخصوص اقتصادی، ثقافتی تعلیمی اور سیاسی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ لارا القاسم اسرائیل کی عبرانی یونیورسٹی میں ایم اے کی طالبہ ہے۔ وہ 2 اکتوبر کو امریکا سے اسرائیل کے بین الااقوامی ہوائی اڈے بن گوریون پہنچی جہاں اسے روک لیا گیا تھا۔ اسے اسرائیل ہی کی طرف سے تعلیمی ویزا بھی جاری کیا گیا، تاہم اب صہیونی ریاست لارا کو ملک بدر کرنا چاہتی ہے۔
امریکی طالبہ/بند

Print Friendly, PDF & Email
حصہ