لاپتا افراد کیس‘ کاغذی کارروائی نہیں رزلٹ چاہیے‘عدالت برہم

30

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے لاپتا افراد کیس میں پولیس کی کارکردگی پر برہمی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ،50 سے زائد لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی، عدالت نے پولیس کی کارکردگی پر افسوس اور برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ لاپتا افراد کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے لیے پریشان ہوتے ہیں ان کی داد رسی کون کرے گا؟عدالت کا پولیس افسران سے کہنا تھا آپ لوگ اپنی آئینی اور قانونی ذمے داری پوری نہیں کرتے ہر بار روایتی رپورٹس لے کر آجاتے ہیں ،ہمیں کاغذی کارروائی نہیں رزلٹ چاہیے۔ عدالت نے سندھ پولیس ،ڈی جی رینجرز اور دیگر فریقین سے 21 اکتوبر تک پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔ لاپتا قاری نذیر کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ہمارے عزیز کو 4 سال گزر گئے ،7جے آئی ٹیز بنائی گئیں مگر اس کا کچھ پتا نہیں چلا۔ لاپتا فیضان کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ فیضان کو 2016 ء سے پی ایس بغدادی سے لاپتا کیا گیا تھا۔ فیضان کی گمشدگی کے حوالے سے سندھ پولیس نے 4 جی آئی ٹیز بنائیں مگر کچھ نہیں ہوا ۔عمر علی کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ عمر علی کو 2015ء میں گورنگی سے لاپتا کیا گیا، بازیابی کے لیے جی آئی ٹی 2018ء میں بنائی گی۔لاپتا افراد کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ہمارے پیاروں پر اگر کوئی الزام ہے تو ان کوعدالت میں پیش کیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ