لاہور: پارکنگ کمپنی میں 95 کروڑ روپے کی کرپشن کی تحقیقات

23

اسلام آباد (آن لائن) نیب حکام نے لاہور پارکنگ کمپنی میں کروڑوں روپے کی مالی بدعنوانیاں اور کرپشن کی تحقیقات شروع کردی ہیں، جن میں بدعنوانیوں کی بھرمار سامنے آئی تھی، دستاویزات کے مطابق ڈیلی ویجیز اسٹاف کے نام پر انتظامیہ نے 47 کروڑ روپے کمپنی کے اکاؤنٹس سے نکالے ہیں جبکہ نجی کمپنی کو لاہور کے اہم مقامات پر پارکنگ فیس وصول کرنے کے ٹھیکے میں مبینہ طور پر 95 کروڑ روپے کی کرپشن سامنے آئی ہے، یہ نجی کمپنی (AGCN) تھی جس کو کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی آشیرباد حاصل تھی۔ نیب نے کرپشن اور مالی بدعنوانیوں کو تحفظ دینے والے کمپنی کے بورڈ آف
ڈائریکٹرز کے خلاف بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں، بورڈ آف ڈائریکٹر میں صحافی اور کالم نکار تجزیہ نگار سلمان غنی بھی شامل ہیں جو شہباز شریف دور میں کمپنی کے کئی سال تک مسلسل بورڈ آف ڈائریکٹر کے مستقل ممبر رہے ہیں اور مالی مفادات حاصل کر تے رہے، جس پر ان کیخلاف تحقیقات جاری ہیں، کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے لگژری گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنے کی منظوری دی اور لاہور کی مشہور رینٹ اے کار والی پارٹی کو کروڑوں روپے ادا بھی کیے، سلمان غنی کے علاوہ دیگر ممبران میں کرنل(ر) مبشر، عبداللہ خان سہیل، ڈاکٹر عمر سیف، خواجہ حیدر لطیف، سلیمان غنی، ایم پی اے نسرین نواز، چیف ٹریفک آفیسر رائے اعجاز، سردار نصیر احمد، ایم پی اے کرن ڈار، ایم پی اے رمضان صدیقی بھی شامل تھے، کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر قلب عباسی، جنرل منیجر آغا مامون، شعیب عالم، ریحان وحید اور عثمان بھی انتظامیہ کے ممبران تھے، جنہوں نے کمپنی میں کرپشن اور مالی بدعنوانی کی انتہا کردی اور قومی فنڈز کو بے دردی کے ساتھ لوٹا اور قومی فنڈز پر اپنی عیاشیوں کی انتہا کردی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.