گومل یونیورسٹی میں جاری کرپشن پر وائس چانسلر اوررجسٹرارکوبرطرف کیاجائے

44

ڈیرہ اسماعیل خان (آئی این پی) گومل یونیورسٹی میں جاری کرپشن کے حوالے سے وائس چانسلر اوررجسٹرارکوفی الفوربرطرف کیاجائے، غیرقانونی اورغیرڈیرہ وال کلاس تھری اورکلاس فورکویونیورسٹی کوفارغ کیاجائے ۔ سفارشی اورمیرٹ کے خلاف بھرتیاں ختم کی جائیں۔ نیب اپنی ذمے داری پوری کرے اورعوامی شکایات پر کاروائی کرے ۔اگرحکومت نے10محرم الحرام تک ہمارے مطالبات پورے نہ کیے تواس کے بعدعوام اورسول سوسائٹی کوآگے لائیں گے اورادارے کو بچانے کے لیے تالہ بندی کی طرف جائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار کنونیئرگومل یونیورسٹی بچاؤ تحریک زاہدمحب اللہ ایڈووکیٹ نے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔اس موقع پرممبربارکونسل خیبرپختونخواملک طاہر وسیم ڈیال ایڈوکیٹ ،جنرل سیکرٹری ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن احسان اللہ ملک ایڈوکیٹ ، جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار ایسوی ایشن اصغربلوچ ،مسلم لیگ (ن ) کے ضلعی جنرل سیکرٹری چوہدری ریاض ایڈوکیٹ ،جے یوآئی کے ضلعی سیکرٹری اطلاعات حافظ محمدشاہداورمرکزی تاجر اتحاد کے صدرحامدعلی رحمانی موجودتھے جبکہ گواساکے عہدیداران بھی موجودتھے ۔زاہد محب اللہ ایڈوکیٹ نے کہاکہ ہم گواساکی جاری تحریک جوکہ گومل یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ کی کرپشن اورغیرقانونی اقدامات کے خلاف ہے کی حمایت کرتے ہیں اوران کے تمام مطالبات کی تائید بھی کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ چانسلر گومل یونیورسٹی کے لیٹرمور خہ 11-3-2015نمبرSOCU-U.H.E/3-23/2014میں دوسری باتوں کے علاوہ ڈاکٹرفرید خان اس وقت کے وائس چانسلراوررجسٹراردلنوازکی پروموشن اورتقرری کو غلط قراردے کر ان کے خلاف کاروائی کرنا اورسابقہ تنخواہیں وصول کرنے کا حکم دیاگیا اس پر عمل کیاجائے ۔ کمشنر ڈیرہ جاوید خان مروت کاشکریہ اداکرتے ہیں کہ انہوں نے ہماری درخواست پر توجہ دی اورہمیں تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ گومل یونیورسٹی ہماراایک بڑااثاثہ ہے جس کی قدر تعلیم یافتہ اورباشعور لوگوں کو ہوسکتاہے ۔ بدقسمتی سے یونیورسٹی کے ساتھ اچھاسلوک نہیں کیاگیا۔ آج یہ اہم ادارہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکاہے ۔ کچھ لوگ اس ادارے کو لوٹ کرکروڑپتی اورارب پتی بن چکے ہیں جن کے خلاف نیب ،سپریم کورٹ ، صوبائی ومرکزی حکومتوں کے ذمہ داران کو تحریری شکایات کی گئیں ۔ ڈیرہ کے دردرکھنے والے لوگوں نے احتجاج کیا۔ روڈ پر کیمپ لگائے لیکن حالات جوں کے توں ہیں ۔ اب بھی یونیورسٹی کے اساتذہ اوران کامنتخب فورم گواسااوریونیورسٹی کے کلاس تھری اورکلاس فورملازمین کی یونینز پچھلے کئی دنوں سے سراپااحتجاج ہیں ۔ آج گومل یونیورسٹی پاکستان کی تمام یونیورسٹیز کی ریکنگ کے حساب سے گومل یونیورسٹی 2017-18کی ریکنگ میں26نمبر سے 38نمبرپر آگئی ہے ۔ زرعی یونیورسٹی کااعلان ہوااوراس میں کافی کام بھی ہوالیکن موجودہ وائس چانسلر اس کی تکمیل میں مسلسل رکاوٹ ڈال رہے ہیں اوراس کے اثاثہ جات کی تقسیم میں مسائل بنارہے ہیں ۔ موجودہ وائس چانسلر کے دورمیں145افراد کے قریب بھرتی کیے گئے جب کہ یونیورسٹی میں مزید بھرتیوں پر پابندی تھی ۔اس میں مخصوص لوگوں کو نوازا گیا ۔پنجاب اوربنوں کے علاقوں سے لوگوں کو غیرقانونی طورپر بھرتی کیاگیا۔ ملک طاہر وسیم ڈیال ایڈوکیٹ ممبربار کونسل خیبرپختونخوانے کہاکہ ڈیرہ کے حقوق پر کسی کوڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے ۔ گومل یونیورسٹی میں جاری کرپشن کے خلاف وکلا ہرفورم پرگومل یونیورسٹی بچاؤتحریک کے ساتھ ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ