فرقہ وارانہ تصادم کی روک تھام کے لیے ضابطہ اخلاق جاری

41

کراچی (اسٹاف رپورٹر)محکمہ داخلہ سندھ نے محرم الحرام کے دوران امن وامان کے قیام اور مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور فرقہ وارانہ تصادم کی روک تھام کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کردیاہے جس کے تحت مندرجہ ذیل اقدامات عمل میں لائے جائیں گے ۔جن پر عمل درآمد کرنا تمام ذمے داران کے لیے لازم ہو گا۔ محرم الحرام کے دوران کار پارکنگ کے مقامات مجالس اور جلوسوں سے دور رکھے جائیں گے۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنر امام بارگاہوں ،مجالس کے مقامات ،جلسے جلوس کی گزرگاہیں ،مساجد اور اطراف میں اسٹریٹ لائٹس اور سڑکوں کی مرمت اور گندے پانی کی نکاسی وصفائی کے سلسلے میں متعلقہ اداروں کی مدد سے محرم الحرام کے آغاز سے قبل ضروری اقدامات عمل میں لائیں گے نیز بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے گی ۔انتظامیہ ،ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پیز ،میڈیا مینجمنٹ کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دیں گے جو کہ اچانک پیدا ہونے والے مسائل کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے کام کرے گی۔ سبیل کے پانی میں زہر کی ملاوٹ کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے ضلعوں کے تمام اسپتالوں کو ہائی الرٹ رکھا جائے گا ۔8سے10محرم تک سینما گھر اور تھیٹر بند رہیں گے ۔کوئی مقرر ،خطیب ،ذاکر یا واعظ اپنی تقریر میں اہل بیتؓ ،انبیا کرام ؑ ،اصحاب رسولؐ، خلفائے راشدینؓ ،ازواج مطہراتؓ ،یا امام مہدیؓ کی نہ توہین کرے گا ،نہ تنقید کرے گا۔محرم کے آغاز
سے قبل امن وامان کو یقینی بنانے کے لیے تمام کمشنرز ،ڈپٹی کمشنرز ،ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس اور ایس ایس پیز تمام مکاتب فکر بشمول شیعہ وسنی کے قائدین سے میٹنگ کریں گے اور ان کے مسائل کے سدباب کے لیے مناسب اقدامات عمل میں لائیں گے ،نیز آئی جی سندھ ،کمشنرز ،ڈی آئی جیز ،ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پیز اپنے اپنے کنٹرول روم قائم کریں گے جو کہ محکمہ داخلہ کے کنٹرول روم سے مسلسل رابطے میں رہیں گے ۔متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پیز مقامی مذہبی رہنماؤں کو اشتعال انگیز تقاریر سے باز رکھیں گے اور خلاف ورزی کرنے والے مقررین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پُرامن ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے اشتعال انگیز مقررین کے بین الصوبائی اورضلعی سطح پر نقل وحرکت پر مکمل پابندی لگادی گئی ہے جس پر سختی سے عمل کرایا جائے گا ۔شر انگیز مواد پر مشتمل پمفلٹ، کیسٹس، وڈیو کی تقسیم اور فروخت کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی ۔ جن علما پر پابندی لگائی گئی ہے ان کی کیسٹس اومذہبی رہنماؤں کو اشتعال انگیز تقاریر سے باز رکھیں گے اور خلاف ورزی کرنے والے مقررین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ر ریکارڈنگ چلانے پر قطعی طور پر پابندی ہوگی مزید یہ کہ ایام عزا کے دنوں میں کیبل آپریٹرز کو پابند کیا جائے کہ وہ قابل اعتراض سی ڈیز ،چینلز نشر نہ کریں ۔ضلعی ایس ایس پیز اہم قائدین کی تقاریر کو ریکارڈ کرنے کے پابند ہوں گے۔ عوامی مقامات ،شاہراہیں ،سرکاری عمارات اور حساس تنصیبات پر سیاسی وفرقہ وارانہ جھنڈے اور بینرز لہرانے کی سختی سے ممانعت ہوگی ۔متعین شدہ بم ڈسپوز ایبل اسکواڈ کو استعمال میں لایا جائے گا تاکہ مجالس کے مقامات اور جلوسوں کے راستوں کی بروقت فنی طور پر جانچ پڑتال کی جاسکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے ۔ضلعی پولیس حساس مقامات پر کیمروں کی مدد سے شر پسند عناصر پر کڑی نگاہ رکھے گی تاکہ فور ی کارروائی عمل میں لائی جاسکے اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب شدہ گاڑیاں بھی صوبے بھر میں زیر استعمال لائی جائیں گی تاکہ جلوسوں کی صحیح طور پر نگرانی کی جاسکے ۔محرم الحرام کے دوران اسلحہ لے کر چلنے اور دکھانے پر مکمل پابندی عائد ہوگی ۔لاؤڈاسپیکرکی آواز صرف مجالس ،اجتماع اور جلوس کے شرکا تک محدود رکھی جائے ۔خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ضابطہ اخلاق کی عملی نفاذ کے لیے مانیٹرنگ کے نظام کو مؤثر بنایا جائے گا اور جس کسی مکتب فکر کے افراد کی طرف سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگی، انتظامیہ ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی ۔
ضابطہ اخلاق

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.