ریلوے خسارہ کیس،سعد رفیق کو جواب جمع کرانے کیلئے ایک ماہ کی مہلت

213

سپریم کورٹ نے ریلوے خسارے سے متعلق کیس میں سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کو جواب داکل کرنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ریلوے میں خسارے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی چیف جسٹس ثاقب نثار نے خواجہ سعد رفیق کو فوری طلب کر لیا۔ چیف جسٹس نے کہا ریلوے میں خسارے کی رپورٹ آنے کے بعد کیس نیب کا بنتا ہے۔ خواجہ سعد رفیق کو جلد بلائیں۔ چیف جسٹس نے گزشتہ سماعت پر سعد رفیق کو حکم دیا تھا کہ وہ آئندہ سماعت پر پیش ہوں۔

چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا خواجہ سعد رفیق کہاں ہیں؟ریلوے پاکستان کے نمائندے بتایا کہ خواجہ سعد رفیق اب وزیر نہیں رہے ، ہوسکتا ہے خسارہ کی رپورٹ کرنے کے بعد کیس نیب کو بھی دیا جائے۔ خواجہ سعد رفیق عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا خواجہ صاحب آپ نے آڈٹ رپورٹ دیکھی۔ خواجہ سعد رفیق نے بتایا ہم نے ریلوے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا ، میں یہاں بے عزتی کرانے نہیں آیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی کوئی بے عزتی نہیں کررہا سعد رفیق نے بتایا این اے 131کا الیکشن ہے جواب جمع کرانے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دی جائے۔چیف جسٹس نے کہا خواجہ صاحب آج تو آپ گھر سے غصے میں آئے ہیں۔خواجہ سعد رفیق نے جواب دیا میں غصے میں نہیں آیا۔ چیف جسٹس نے کہا خواجہ صاحب آپ سے جو پوچھا جارہا ہے وہ بتائیں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میں شاباش لینے آتا ہوں آگے سے ڈانٹ پڑ جاتی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا آپ جواب جمع کرائیں پھر دیکھتے ہیں شاباش ملتی ہے یا نہیں۔ خواجہ صاحب آپ بے فکر ہو جائیں ناانصافی نہیں ہوگی۔ سعد رفیق نے بتایا میں ایک ہزار صفحات کی آڈٹ رپورٹ پر کیس جواب جمع کراؤں میں کوئی اکاؤنٹس افسر نہیں ، مجھے بتائیں کہ میرے متعلق رپورٹ کہا گیا کہ میں نے بدعنونای کی یا کرپشن کی ہے ، میرے ساتھ انصاف نہیں ہورہا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنا غرور گھر چھوڑ کرآیا کریں ، آپ اپنا رویہ درست کریں غصہ کس بات کا ہے آپ کو ،یہاں آپ سے جو پوچھا جا رہا ہے صرف اس کا جواب دیں ، آپ گھر سے سوچ کر آئے تھے کہ عدالت کی بے حرمتی کرنی ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ میں عدلیہ کی توہین سے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا آپ وکیل کریں اور کسی کنسلٹنٹ سے مشورہ کر کے جواب دیں۔ خواجہ سعد رفیق نے بتایا میں ریلوے کو جتنا ٹھیک کر سکتا تھا اتنا کرنے کی کوشش کی ، سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق کو جواب داخل کرنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ