جلدی امراض میں تشویش ناک اضافہ 16ہزارآپریشن

50

کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبے میں جلدی امراض میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ7 ماہ کے دوران صرف ادارہ برائے جلدی امراض سندھ (انسٹی ٹیوٹ آف اسکن ڈیزیز سندھ) میں 4 لاکھ 72 ہزار 830 مریضوں کا معائنہ کیا گیا۔ جلدی امراض کے16 ہزار 165 آپریشن کیے گئے جب کہ بیماریوں کی تشخیص کے23 ہزار 882 ٹیسٹ کیے گئے۔ ادارے سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ7 ماہ کے دوران سب سے زیادہ فنگس کے کیسز رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 2 لاکھ9 ہزار740 رہی۔ دوسرے نمبر پر متعدی خارش کا مرض رہا جس سے متاثرہ ایک لاکھ 10 ہزار 880 مریضو ں کا علاج کیا گیا۔ اس کے علاوہ چہرے کے کیل مہاسوں کے48 ہزار 790، ایگزیما کے 25 ہزار 328، بیکٹیریل انفیکشن کے 22 ہزار 75، وائرل انفیکشن کے 20 ہزار 298، گرمی دانوں کے4 ہزار718، سورائسز کے 4 ہزار 95، لائیکن پلانس کے4 ہزار29، بال خورہ کے 3 ہزار 935، برص کے3 ہزار 246، چھائیوں کے 813 جب کہ دیگر جلدی امراض کے14 ہزار 883 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ اس عرصے کے دوران اسپتال میں سہولتوں کی بہتری سے بھی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اسپتال میں مختلف جلدی امراض کے علاج کے لیے نئے فارمولے، لوشن اور مرہم تیار کیے گئے جو مریضوں کو مفت فراہم کیے جاتے رہے، مختلف
جلدی بیماریوں کی وجوہ جاننے کے لیے آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے ساتھ اسٹڈیز کی گئیں اور علاج میں بہتری لائی گئی، لیبارٹری میں ایچ آئی وی ایڈز کے تشخیصی ٹیسٹ کی سہولت کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے ادارہ برائے جلدی امراض سندھ کے ڈائریکٹر اور معروف ماہرامراض جلد ڈاکٹر اقبال نبی سومرو نے بتایا کہ مختلف جلدی امراض کی وجوہ مختلف ہیں جن کی احتیاط بھی الگ ہے۔ متعدی خارش کے مریض کو چاہیے کہ گرم کپڑے، چادریں اور کمبل کو خوب گرم پانی سے دھوئیں، سخت دھوپ میں پھیلائیں۔ ایگزیما سے بچاؤ کے لیے جلد کو نم رکھا جائے، سر میں تیل لگایا جائے اور زیادہ صابن سے نہ دھویا جائے، سورائسز سے محفوظ رہنے کے لیے سگریٹ نوشی سے گریز کیا جائے، ذہنی ٹینشن نہ لی جائے اور بے مقصد دواؤں کا استعمال نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو چاہیے کہ ان بیماریوں کو نظر انداز نہ کریں اس سے مرض بڑھتا رہتا ہے اور بعد میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جلدی امراض ہو جانے پر عوام مستند ماہر امراض جلد سے ہی رابطہ کریں۔
جلدی امراض

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.