۔فاروق بندیال کو عزت دو؟

213

فروری14 1978ء کے اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ معروف اداکارہ شبنم کے گھر واقع گلبرگ لاہور میں ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے، ۔خبر کے مطابق اس ڈکیتی کا سب سے شرمناک پہلو یہ تھا کہ اداکارہ کے شوہر روبن گھوش کی موجودگی میں شبنم کے ساتھ ۔اجتماعی زیادتی کی گئی۔ گینگ ریپ میں سات ملزمان فاروق بندیال، وسیم یعقوب بٹ، طاہر تنویر، جمیل چٹھہ، جمشید اکبر ساہی، ظفر اور آغا عقیل شامل تھے۔ فاروق بندیال جو اِس واردات کی سرغنہ تھا اس کا تعلق خوشاب سے ہے اور یہ تمام ملزمان گورنمنٹ کالج لاہور سے فارغ التحصیل تھے۔ جنرل ضیا الحق کا زمانہ تھا، اس ہائی پروفائل مقدمے کی سماعت کے لیے اسپیشل ملٹری کورٹ قائم کی گئی جس نے تمام ملزمان پر جرم ثابت ہوجانے کے بعد سزائے موت سنا دی، تاہم ایس ایم ظفر جیسے وکلا اور بعض دیگر صاحبان کی غلطیوں کی وجہ سے ملک کے صدر اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر نے مجرموں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔
جنرل ضیا الحق جو آج بھی ہمارے نزدیک ایک مجاہد کا درجہ رکھتے ہیں اُن کے اِس عمل پر بہت افسوس ہوا کہ اُس ذوالفقار علی بھٹو کو کہ جس نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، 1973ء کا متفقہ آئین منظور کیا اور اِن سب سے بڑھ کر یہ کہ قادیانیوں کو کافر قرار دے کر مسلمانوں کی صفوں کو ہمیشہ کے لیے رسول اللہؐ کے دشمنوں سے پاک کردیا۔ اُس پر تو کوئی رحم نہ کیا گیا اور پھانسی پر چڑھا دیا گیا مگر ایک خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کرنے والے درندوں کو اس لیے رہا کردیا گیا کہ غالباً جنرل صاحب گینگ ریپ کے مجرموں کی تعلیم، خاندانی اثر و رسوخ اور شرافت سے بہت زیادہ متاثر ہوگئے۔
موسیقار روبن گھوش دنیا چھوڑ گیا، شبنم نے اداکاری چھوڑ دی لیکن لوگوں نے اپنا حافظہ نہیں چھوڑا۔ ہر روز کا سورج غروب ہو کر تمام اچھے اور بُرے واقعات پر رات کا پردہ ڈال دیتا ہے مگر تاریخ کی کتاب اپنی بند جلدوں کے درمیان بھی تمام واقعات کو من و عن محفوظ رکھتی ہے تا کہ جب کوئی کسی کو یاد کرے تو معلوم ہوجائے کہ وہ کون تھا اور کہاں ہے۔ کچھ اِسی طرح کا معاملہ گزشتہ دنوں ایک تصویر کے ساتھ بھی پیش آیا کہ جس میں عمران خان مسکراتے ہوئے فاروق بندیال کے گلے میں تحریک انصاف کے پرچم والا رومال ڈال رہے ہیں۔ حیرت ہے کہ فاروق بندیال اب تک زندہ ہے حالاں کہ مذکورہ واردات کے افشاں ہونے پر اُسے اپنے خاندانی عزت و وقار کی خاطر بہت پہلے ڈوب مرنا چاہیے تھا اگر جنرل ضیا الحق اُس کو پھانسی نہ دے سکا تو اُسے خود ہی اپنی موت کا بندوبست کرلینا چاہیے تھا کیوں کہ ضمیر کا بوجھ غیرت مند لوگوں کے لیے زندگی کے بوجھ سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
3 جنوری 2005ء کو بلوچستان میں سوئی کے مقام پر 31 سالہ ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ ایک کیپٹن نے ریپ کیا، کیپٹن کا نام حماد تھا۔ نواب اکبر بگٹی کو جیسے معلوم ہوا تو شدید ردعمل دیا اور کیپٹن کے کورٹ مارشل کا مطالبہ کیا تاہم جنرل مشرف نے نواب بگٹی کے اس طرح کے مطالبے کو اپنی توہین سمجھا کیوں کہ جنرل مشرف بھی ایسے ہی مزاج کا شخص تھا کہ جس کے پاس غیرت نام کی کوئی چیز نہیں تھی، تب ہی تو جنرل مشرف نے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو امریکا کو فروخت کردیا اور آج تک کبھی بھی اپنے اس فعل پر کسی شرمندگی کا کوئی اظہار نہیں کیا تاہم نواب اکبر خان بگٹی ایک غیرت مند بلوچ سردار تھا جس کے ’’شازیہ کیس‘‘ کی وجہ سے جنرل مشرف
کے ساتھ تعلقات بگڑتے چلے گئے اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ بالآخر جنرل مشرف نے ایک فوجی آپریشن کے ذریعے 26 اگست 2006ء کو نواب اکبر بگٹی کو پہاڑوں کے اندر قتل کردیا۔ نواب بگٹی مر کر بھی زندہ رہا کیوں کہ وہ شہید کہلایا اور جنرل مشرف زندہ رہ کر بھی شرمندہ ہوگیا۔ کیوں کہ اس نے مظلوم ڈاکٹر عافیہ اور ڈاکٹر شازیہ کی عزتوں کے مجرموں کے ساتھ سمجھوتا کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ نواب بگٹی عزت اور غیرت کی موت مر گیا لیکن جنرل مشرف اپنے اوپر بے غیرتی اور بے ضمیری کے بہت سے الزامات لے کر فاروق بندیال کی طرح زندہ ہے۔
فاروق بندیال جیسے غیرت اور عزت سے عاری لوگوں کے زندہ رہنے پر کوئی تشویش نہیں کیوں کہ پاکستان میں اب تک ایسی سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں موجود ہیں کہ جو عورت کی بے عزتی کرنے والوں کے لیے ’’محفوظ کیمپ‘‘ ہیں۔ عورت کی توہین اور اُسے بے پردہ کرنے والوں کو نہ صرف عزت دی جاتی ہے بلکہ وہ بعض جماعتوں میں تو ’’قیادت‘‘ کے مقام پر فائز ہیں۔ 30 اکتوبر 2017ء کو ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک گاؤں گھارامٹ کے علاقے میں شریفاں بی بی کو برہنہ کرکے گاؤں کی گلیوں میں چلنے پر مجبور کیا گیا۔ واقعے کی خبر آجانے کے بعد عوامی سطح پر غم و غصے کا اظہار ضرور کیا گیا تاہم تحریک انصاف کی سابقہ حکومت نے مظلوم لڑکی کی داد رسی کے لیے کوئی اطمینان بخش کارروائی نہیں کی۔ اسی طرح سے ایک دوسرے واقعے میں پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ دوست محمد کھوسو پر الزام ہے کہ اُس نے اداکارہ سپنا کو قتل کردیا، اداکارہ کے ساتھ اُس کی معصوم بیٹی بھی تھی، اداکارہ کے اغوا اور گمشدگی کی ایف آئی آر پولیس نے جون 2010ء میں درج کی تھی تاہم چند روز پہلے سابق گورنر پنجاب ذوالفقار کھوسو نے تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر فرمایا کہ میرا بیٹا دوست محمد کھوسو بھی تحریک انصاف میں شامل سمجھا جائے جب کہ اسی طرح سے ایک تیسرا واقع بھی یاد آرہا ہے کہ جب ایک اور سابق گورنر پنجاب ملک غلام مصطفی کھر کے صاحبزادے بلال کھر نے ایک خاتون فاخرہ یونس کے منہ پر تیزاب پھینکا تھا۔ مئی 2000ء میں تیزاب ڈالنے کا واقع ہوا، مجرم بلال کھر گرفتار ہوا اور 2003ء میں بری ہوگیا۔ متاثرہ لڑکی کی تین درجن سے زیادہ سرجریاں ہوئیں اور بالآخر اس مظلوم لڑکی نے 12 سال بعد خودکشی کرلی۔ عزت دار فیملی کی تعلیم یافتہ لڑکی طاہرہ کھوسو کو اُس کے شوہر نے باپ اور بھائی کے سامنے انتہائی بے دردی سے قتل کردیا۔ یہ واقعہ جیکب آباد (سندھ) میں 2015ء میں پیش آیا جب کہ گزشتہ دنوں ایک دوسرا درد ناک واقعہ بھی جیکب آباد ہی میں پیش آیا جب ایک خاتون صنم سکندر عمرانی کو اس کے بچوں کے سامنے قتل کردیا گیا۔
یہ تو وہ چند واقعات تھے جو ہمارے ذہن میں تازہ تھے اور قلم بند کردیے گئے، ورنہ ہر روز کے اخبارات اور خبرنامے دیکھ اور پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم درندوں کے درمیان رہتے ہیں جہاں مرد، عورت اور معصوم بچے کی زندگی اور عزت کی کوئی قدر نہیں، جب جس کو موقع ملتا ہے دوسرے کو لہولہان اور بے آبرو کردیتا ہے۔ رحم، درگزر اور پناہ دینے کا رواج اور روایتیں ختم ہورہی ہیں، دوسروں کی عزتوں اور زندگیوں کو بچانے کے لیے اپنی جان داؤ پر لگا دینے والے بہت کم ہوتے جارہے ہیں۔
یاد رہے کہ دین اسلام جو سلامتی کا دین ہے وہ غیرت اور عزت کو پسند فرماتا ہے، اللہ اور اُس کے رسولؐ کے حکم کی خلاف ورزی ہو اور کسی مسلمان کی غیرت نہ جاگے، کوئی شخص اسلام قبول کرے اور اُسے عزت نہ ملے یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں۔ محمد بن قاسمؒ ، محمد علی جناحؒ اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ تک تلوار، دلائل اور قلم نے جو جوہر دیکھائے اُس کا مطلب یہی تھا کہ مسلمانوں کی عزت و عظمت کو بحال کیا جائے۔ آج جو کہا جارہا ہے کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ جملہ درست نہیں بلکہ کہا یہ جانا چاہیے کہ ’’عزت کو ووٹ دو‘‘ کیوں کہ جب عزت دار ووٹ لے کر آگے آئے گا تو وہ ووٹ کو ازخود عزت مل جائے گی۔
ہم آخر میں یہ کہنا چاہیں گے کہ فاروق بندیال جیسے کرداروں کو ہر گز معاف نہ کیا جائے کیوں کہ ان کو معافی کا مطلب بے غیرت کے عمل کی حوصلہ افزائی ہوگی، جو کسی سیکولر معاشرے میں تو برداشت کی جاسکتی ہے لیکن ایک مسلم ملک اور اسلامی معاشرے میں اس طرح کے قابل نفرت عمل کو ہرگز ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
اللہ ربّ العزت سے دُعا ہے کہ وہ ہم سب کو عزت اور غیرت کی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

Print Friendly, PDF & Email