مریم افغانی

130

 

غزالہ عزیز

پچھلے ہفتے لیاری کے محلے ’’میران پیر‘‘ عبدالستار افغانی کی بیگم مریم افغانی کے گھر جانا ہوا۔ ایک دفعہ پہلے بھی اس محلے میں آنا ہوا تھا لیکن موسم کا فرق تھا۔ اُس دن سخت گرمی تھی، 2018ء مئی کا مہینہ حبس اور تپش کی شدت تھی لیکن مریم خالہ کے چہرے کی مسکراہٹ اور مزاج کی چستی پر گرمی کا ذرا اثر نہ تھا۔ گرم جوشی سے ملتے ہوئے ماضی کے اوراق یوں پلٹتی رہیں جیسے ساری یادیں بالکل تازہ ہوں، وقت کی کوئی گرد انہیں دھندلا نہیں کررہی تھی لیکن اب وہ وہاں نہیں تھیں، عدن کے سفر پر روانہ ہوچکی تھیں، اُن کی تعزیت کے لئے ان کے گھر کی سیڑھیاں طے کرنے کے لیے جب ہم آگے بڑھے تو ایک بزرگ کہنے لگے ’’آپ عبدالستار افغانی صاحب کی بیگم کی تعزیت کے لیے آئیں ہیں؟۔
ہم نے کہا ’’جی ہاں‘‘
’’تو یہ شامیانہ جو لگا ہے آپ وہاں چلی جائیں‘‘
ہم جو ابھی سوچ رہے تھے کہ تیسرے فلور تک چڑھنا ہے ہم نے ذرا اطمینان کا سانس لیا، پچھلی دفعہ ہم تیسرے فلور تک چڑھ کر گئے تھے۔ تنگ اور مخدوش سیڑھیاں پھر اندھیرا۔۔۔ باہر سورج کی تیز روشنی کے بعد جب اندر آئے تھے تو اور زیادہ تاریکی محسوس ہوئی تھی۔ تب ہم ایک ایک سیڑھی پر یہ سوچتے رہے کہ یہ کراچی کے دو دفعہ بننے والے میئر کا گھر ہے، میئر جو شہر کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے، اس بات کو عبدالستار افغانی کے بعد آنے والے میئر حضرات نے ثابت بھی کیا۔ چائنا کٹنگ تو صرف ایک ہلکا ہاتھ تھا جس کے ذریعے کراچی کی زمینوں کو اپنے خزانے بھرنے کے لیے استعمال کیا گیا، اپنے اپنے کئی کئی محل دو محلے بنائے گئے۔ یہ سوچے بغیر کہ رخصت ہو کر تو دو گز کی زمین ہی میں جانا ہے۔۔۔ اور حق کے بغیر حاصل کی گئی زمینوں کا وزن اپنے سینے پر برداشت کرنا کوئی کھیل نہیں۔ دوسری طرف ساری جائداد اور زمینیں تو وارثوں کے لیے چھوڑ جانا ہوگا۔ جس کو وہ دل بھر کر انجوائے کریں گے۔ اس لحاظ سے عبدالستار افغانی کس قدر عقل مند تھے۔ دو بار کراچی کے میئر بنے ایک بار قومی اسمبلی کے رکن بنے۔ انتقال کے وقت وہ قومی اسمبلی کے رکن تھے لیکن اپنے پیچھے یہی ساٹھ گز کا فلیٹ چھوڑ گئے، اُن کا انتقال بھی اُسی فلیٹ میں ہوا تھا اور ان کی بیگم مریم افغانی بھی یہیں سے آخری سفر پر روانہ ہوئیں۔ حرام کی کمائی کا کوئی بوجھ اُن کے کاندھوں پر نہ تھا۔ ایسا نہ تھا کہ مواقعے نہیں تھے، مریم خالہ نے بتایا تھا کہ ایک ایک دستخط کے لیے لوگ تیس چالیس لاکھ کی آفر لاتے تھے۔ سوچیے کہ یہ زمانہ 1980ء کی دہائی کا تھا کہ جب تیس چالیس لاکھ کا مطلب آج کے تیس چالیس کروڑ ہوتا تھا۔
یہ ایک سال پہلے کی یادیں تھیں جو یاد آرہی تھیں۔ مریم خالہ بھی کیسی بیوی تھیں انہوں نے اچھے اور شاندار گھر کے لیے رونا نہیں ڈالا۔ پُرآسائش زندگی کے لیے شور نہیں مچایا، تیسرے فلور پر ایک چھوٹے سے ساٹھ گز کے تنگ فلیٹ پر قانع ہو کر بیٹھی رہیں اور آخری وقت تک وہیں رہیں۔ افغانی صاحب کی حلال کی کمائی پر صبر شکر کے ساتھ گزارا کیا، بچوں کو حلال کھلایا، خود حلال کھایا اور حرام کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھا۔ ورنہ دُنیا اپنی پوری حشر سامانیوں کے ساتھ سامنے ہی تو تھی بس دو قدم پر۔۔۔ ایک سائن۔۔۔ ایک ہاں۔۔۔ بدعنوانیوں سے ذرا سا صرف نظر۔۔۔ بس پھر سب کچھ پہنچ میں۔۔۔ لیکن عبدالستار افغانی نے تو اس قدر احتیاط رکھی کہ سرکاری مراعات تک لینے سے انکار کیا، ورنہ حکومت کی طرف سے میئر کو پلاٹ تو دیا ہی جاتا ہے۔ آج ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے میئر کے نام کوئی چھوٹا سا پلاٹ بھی نہیں۔
تعزیت کے لیے شامیانے میں داخل ہوئے۔ زمین پر دری بچھی تھی، خاندان کی خواتین وہاں موجود تھیں، نوجوان، بزرگ، ننھی بچھیاں سب ہی۔۔۔ یہ عبدالستار افغانی کا گلشن تھا۔ خاندان میں وہ پہلے فرد تھے جو جماعت اسلامی سے متعارف ہوئے۔ لیکن آج ایک بڑا کنبہ ہے جو دین کی سمجھ کے ساتھ ساتھ ایک مقصد حیات بھی رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ عبدالستار افغانی اور مریم افغانی کے لیے خاندان کے بچے بچے کو بہترین صدقہ جاریہ بنائے۔ مریم افغانی کی عمر نوے اور سو سال کے درمیان ہوگی وہ آخری وقت تک جب تک ہوش و حواس میں رہیں جماعت کے کاموں میں مشغول رہیں۔ آخر میں بیت المال کی ناظمہ تھیں۔ اتنی عمر ہونے کے باوجود وہ اجتماعات میں جایا کرتی تھیں۔ آخر میں سماعت انتہائی کمزور ہوگئی تھی، اس کے بعد بھی جاتی تھیں کہ لوگوں کے لیے ایک مثال ہو۔ وہاں موجود نوجوان بچیاں بتا رہی تھیں کہ وہ ہمارے ساتھ خوب باتیں کرتیں، مل جل کر رہتیں، شادی شدہ پوتیاں اور نواسیاں آتیں تو خوب خاطر کرتیں۔ بچوں کے ساتھ مختلف کھیل کھیلتیں، انہیں اپنے ساتھ لگا کر رکھتیں تھیں۔ بچوں اور نوجوانوں کے ہاتھ میں موبائل ناپسند کرتیں تھیں، کہتی تھیں ضرورت کے وقت موبائل استعمال کرو، بے ضرورت استعمال کرنا ایسا ہے کہ دراصل وہ تمہیں استعمال کررہا ہے کہ تمہارا وقت ضائع ہورہا ہے، وقت ضائع کرنے سے بچو۔ اس محفل میں مریم خالہ نہیں تھیں لیکن اُن کی باتوں کی خوشبو پھیلی تھی۔ اُن کی بہو نے بتایا کہ بابا (عبدالستار افغانی) اماں کو بہت چاہتے تھے۔ کہتے تھے ’’یہ تو میری پَری ہے‘‘۔
آج اُن کی پَری اُڑ کر اُن کے پاس چلی گئی۔ یقیناًوہ ایک دوسرے سے ملاقات کرکے بہت خوش ہوئے ہوں گے۔ مجھے پچھلی ملاقات یاد آگئی جب مریم خالہ کی آنکھوں میں افغانی صاحب کو یاد کرکے آنسو آگئے تھے اور انہوں نے چپکے سے دوپٹے کے کونے سے انہیں سمیٹ لیا تھا۔ سچ ہے جانے والے چلے جاتے ہیں لیکن اپنی یادیں چھوڑ جاتے ہیں، پھر عبدالستار افغانی جیسے لوگ جنہوں نے دیانت اور امانت داری کا جو معیار قائم کیا آج کے سیاست دانوں کے لیے اتنا اُونچا ہے کہ اُسے سر اُٹھا کر دیکھنے ہی سے انہیں اپنی دستاریں گرنے کا ڈر ہوتا ہے۔ جیسے عبدالستار افغانی سادگی کا موقع تھے، ویسے ہی اُن کی بیگم مریم افغانی تھیں۔ اُمید ہے کردار کی ایسی روایت افغانی خاندان پیش کرتا رہے گا۔۔۔ کہ اہل کراچی کی آنکھوں میں یادوں اور خوابوں ہی کا نہیں اُمید کے جگنوؤں کا بھی بسیرا ہے۔