جماعت اسلامی کا قیام (اگست ۱۹۴۱ء) (باب سوم)

164

 

محمود عالم صدیقی

دیندار گروہ کی مخالفت
بقول مولانا مودودی ؒ ہمیں تو امید تھی کہ اسلامی انقلاب کے لیے ایک جماعت کی تشکیل کا نام سن کر کمیونسٹ‘ سوشلسٹ اور قوم پرست چوکنے ہوں گے اور اگر کوئی گروہ مقابلے کے لیے اٹھا بھی تو وہ مغربی جاہلیت سے ماؤف لوگوں کا گروہ ہوگا مگر ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں تو سکون تھا اور حملے کا آغاز اس دیندار گروہ کی طرف سے ہوا جس سے ہم اپنے آپ کو بالکل مامون سمجھے بیٹھے تھے بلکہ جس سے ہمیں توقع تھی کہ وہ رہنمائی اور پیشوائی اور تائید و اعانت کے لیے آگے بڑھیں گے۔ ان میں ایک گروہ تو وہ تھا جو کانگریس کا ہمنوا اور متحدہ قومیت کے حامی علماء کا وہ گروہ تھا جس کی مولانا نے بھر پور دلائل سے مخالفت کی تھی۔ دوسرے وہ اصحاب تھے جو جماعت اسلامی کے قیام سے پہلے اس کام کی اہمیت اور ضرورت ظاہر کرتے چلے آئے تھے اور جس شخص کو وہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں متکلم اسلام‘ مفکر اسلام اور صاحب رشد و ہدایت کہا کرتے تھے اب وہ ان کی نظر میں قابل مذمت اور شکوک و شبہات کا ہدف اور مرکز بن گیا تھا۔ ان اصحاب میں مولانا عبدالماجد دریا بادیؒ اور سید سلیمان ندویؒ سب سے نمایاں تھے۔ سید مودودیؒ کو ان حضرات کی طرف سے مخالفت پر بے حد قلبی دکھ ہوا تھا اور کم از کم ان بزرگوں کی طرف سے انہیں اس رویے کی بالکل توقع نہیں تھی اور جن خدشات اور شکوک و شبہات کا وہ اظہار کر رہے تھے وہ خود ان کے اپنے تخیل کے پیدا کردہ تھے۔ جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہ تھا۔
کارکنوں کو امیر جماعت کی ہدایات
صبح شوریٰ کے اجلاس میں مذکورہ لائحہ عمل طے ہونے کے بعد ۴؍شعبان کو ہی پھر اجتماع عام منعقد ہوا اور امیر جماعت نے حاضرین کو اس لائحہ عمل کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور مختلف کام سرانجام دینے کے لیے ہدایات دیں۔ ان ہدایات میں مقامی جماعتوں کے قیام کے طریقہ کار‘ ماتحت امراء کا عزل ونصب‘ جماعت میں داخلے کا طریقہ‘ مطالعہ لٹریچر کی ضرورت اور اہمیت‘ مقامی کارکنوں میں صلاحیتوں کے لحاظ سے تقسیم کار‘ ہفتہ وار اجتماعات کا انعقاد اور ہفتہ بھر کی کارکردگی کا جائزہ‘ مطالعہ قرآن و سیرت النبی برائے ہدایات و رہنمائی‘ نفل عبادات کا التزام‘ اپنی سیرت اور اخلاقی پاکیزگی کا بلند معیار رکھنا تاکہ خدا ور خلق خدا کے سامنے سرخرو ہوا جائے۔ بحث و مناظرے سے اجتناب برتنا‘ تحریک اسلامی کے مزاج میں خود کو ڈھالنا اور ذمے دار طریقہ کار اپنانا۔ دور از کار اور غیر متعلق سرگرمیوں سے پرہیز اور یکسوئی سے اپنے نصب العین کی جانب گامزن رہنا‘ مخاطب کی ذہنیت اس کی غلط فہمی اور گمراہی کے اصل اسباب جان کر ایسا طریقہ تبلیغ اپنانا جو باوقار‘ بلیغ اور بے موقع نہ ہو اور انتہائی شائستہ لہجے میں اور حکمت کے ساتھ تبلیغ کرنے کے بارے میں واضح اور تفصیلی ہدایات دیں۔ بعد ازاں امیر جماعت اور ارکان شوریٰ نے ارکان جماعت کو علیحدہ علیحدہ بلاکر ان کے حالات اور صلاحیتوں کے لحاظ سے کام سپرد کیے۔ اجتماع کے آخری دن امیر جماعت نے اصحاب شوریٰ کے مشورے سے حسب ذیل امور طے کیے۔
۱۔ جماعت کے اہل قلم ارکان‘ ملک کے اخبارات اور رسائل میں جماعت کے نظریے کو پھیلانے اور جماعت کے بارے میں شائع ہونے والی غلط بیانیاں اس سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کے ازالے اور سدباب کی حتیٰ المقدور کوشش کریں۔
۲۔ ہر سال جماعت کے ارکان کا اجتماع منعقد کیا جائے۔
۳۔ جماعت کے مسلک کے بہترین ترجمان چند منتخب ارکان‘ سال میں ایک مرتبہ وفد یا وفود کی شکل میں ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کریں اور ملکی بڑے بڑے اداروں اور درس گاہوں میں نفوذ کی کوشش کریں۔
۴۔ ایک ہفتہ وار اخبار جماعت کی طرف سے جاری کیا جائے۔
ان فیصلوں کے بعد تشکیل جماعت کا اولین اجتماع ۲۹ ؍اگست ۱۹۴۱ء بمطابق ۵؍ شعبان ۱۳۶۰ھ کو ختم ہوگیا۔
پہلا تنظیمی دورہ
اکتوبر ۱۹۴۱ء میں امیر جماعت اپنی جماعت کے پہلے تنظیمی دورے پرنکلے۔ دورے کا مقصد تنظیم و توسیع کے مزید اقدامات کرنا‘ جماعت کے خلاف غلط فہمیوں کو دور کرنا اور لوگوں سے تبادلہ خیال کرنا تھا۔ چنانچہ انہوں نے دہلی‘ علی گڑھ‘ الٰہ آباد‘ سرائے میر‘ لکھنؤ اور بریلی کا دورہ کیا۔ لوگوں سے کثرت سے رابطہ ہوا اور تبادلہ خیال ہوا۔ لوگوں کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا اور افہام تفہیم کے ذریعے ذہنی یکسوئی کی صورت پیدا ہوئی۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی دعوت پر ۳۰؍اکتوبر ۱۹۴۱ء کو انسان معاشی مسئلہ پر اپنا مقالہ پڑھا۔
روداد اولین مجلس شوریٰ لاہور (۲۶‘ ۲۷‘ ۲۸‘ فروری ۱۹۴۲ء محرم ۱۳۶۱ھ)
دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے ملک اضطرابی کیفیت سے دوچار تھا۔ لہٰذا مارچ ۱۹۴۲ء میں سالانہ اجتماع عام منعقد نہیں کیا گیا اور امیر جماعت نے مجلس شوریٰ کا اجلاس طلب کرلیا۔ اس اجلاس میں مولانا محمد منظور نعمانیؒ (بریلی)‘ مولانا امین احسن اصلاحیؒ (سرائے میر) مولانا ابوالحسن علیؒ ندوی (لکھنو) مولانا سید محمد جعفرؒ (کپورتھلہ)‘ مولانا نذیر الحقؒ میرٹھی (یوپی)‘ مولانا محمد علیؒ کاندھلوی (سیالکوٹ)، مولانا عبدالعزیز شرقیؒ (جالندھر)، نصراللہ خاں عزیز (لاہور)‘ چودھری محمد اکبر (لائل پور) ڈاکٹر سید نذیر علی (الٰہ آباد)‘ مستری محمد صدیق (سلطان پور)‘ عبدالجبار غازی (دہلی) عطاء اللہ ( بنگال) قمرالدین خان (لاہور)‘ محمد بن علی علوی (لکھنؤ)‘ محمد یوسف صدیقی (بھوپال) اور امیر جماعت سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ شریک ہوئے۔
مجلس شوریٰ کے اس تین روزہ اجلاس میں شرکاء نے فرداً فرداً تحریک کی عام رفتار اور اپنے اپنے علاقوں کے کام پر تبصرہ کیا۔ اپنے تجربات بیان کیے اور اپنی اپنی مقامی جماعتوں کے مشورے سے تیار کردہ تجاویز اور کارکردگی بڑھانے کے لیے درکار ضروریات اور ان سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے بعد امیر جماعت نے ایک مفصل تقریر کی اور جماعتی کام کی رفتار اور محاسن و خامیوں کا ایک اجمالی جائزہ پیش کیا اور آئندہ کے لائحہ عمل کے سلسلے میں تدابیر پر غور کیا گیا۔
مجلس شوریٰ کے فیصلے: کافی غور وخوض اور باہمی مشورے سے حسب ذیل امور بالاتفاق طے پائے گئے۔
استحکام جماعت کے لیے مقامی جماعتوں کے امراء کو یہ مشورہ دیا گیا کہ ارکان جماعت کی تعداد میں خاطر خواہ اضافے کی خاطر خام یا نیم پختہ افراد کی بھرتی نہ کی جائے‘ کیوں کہ نظام جماعت میں بعض ایسے اصحاب شامل ہوگئے تھے جو ذہنی طور پر یکسو نہ ہوسکے تھے اور جماعت کے مسلک و طریقہ کار کو سمجھے بغیر جماعت میں شامل ہوگئے تھے۔ کچھ زیادہ تعداد ایسے افراد کی ہے جن کے اندر قابل اطمینان تبدیلی واقع نہیں ہوئی اور جماعت کے نصب العین کے حصول کے لیے وہ اتنے سرگرم نہیں ہوسکے جتنا کہ انہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس لیے صرف ان لوگوں کو جماعت میں داخل کیا جائے جو جماعت کے مسلک کو اچھی طرح سمجھ چکے ہوں‘ ان کے خیالات میں یکسوئی آگئی ہو اور جنہوں نے جماعت کے دستور کی ذمے داریاں اچھی طرح سمجھ لی ہوں۔ دوسرے یہ کہ لوگوں کو عام طور پر جماعت میں شریک ہونے کی دعوت نہ دی جائے بلکہ اس عقیدے اور نصب العین کی تبلیغ کی جائے جس پر یہ جماعت قائم ہوئی ہے۔ اور بتدریج ان کی زندگی میں عملی تبدیلی دیکھ کر اس وقت جماعت کا دستور پیش کیا جائے‘ جب وہ خود جماعت میں شریک ہونے کی خواہش کریں۔ انہیں بار بار سوچنے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ خوب سوچ سمجھ کر شرکت کا فیصلہ کریں۔ تیسرے یہ کہ ارکان جماعت کو یہ پھر ذہن نشین کرایا گیا کہ خدا سے کیے گئے اقرار کو اور اپنی ذمے داریوں کو پورا کرنا ان کا کام ہے۔ اس کے لیے انہیں کسی دوسرے کی شہہ یا ترغیب کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے بلکہ اپنے جذبہ ایمانی سے کام لیتے ہوئے سرگرم عمل ہونا چاہیے۔
چوتھے یہ ارکان جماعت کو نماز اور قرآن سمجھ کر پڑھنے اور ہر نماز و تلاوت کے وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی تلقین کرنی چاہیے‘ تاکہ اپنا تزکیہ نفس اور عمل پر اکسانے والی آتش شوق تیز ہو۔ پانچویں یہ کہ ہر مقامی امیر کو اپنی جماعت کے ارکان پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور جو خامیاں سامنے آئیں حکمت کے ساتھ ان کی اصلاح کی جائے۔
مقامی امراء کی تربیت: مقامی جماعتوں کے امراء کا کام ہے کہ وہ تبلیغ و دعوت کے کام میں ارکان جماعت کی رہنمائی کریں ان کی اخلاقی تربیت کریں اور تحریک کو صحیح راستے پر گامزن رکھیں۔ اس کے لیے ان کی اپنی تربیت کی خاطر یہ طے کیا گیا کہ مقامی جماعتوں کے امراء ہر سال میں کم سے کم ایک دو مہینے کے لیے امیر جماعت کے ساتھ آکر رہیں۔
مرکزی تربیت گاہ: اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی گئی کہ کارکنوں کی اچھی تربیت کے لیے ایک مرکزی تربیت گاہ قائم کی جائے جہاں جماعت کے چند بہترین دل و دماغ مستقل طور پر قیام پزیر رہیں تاکہ قرب و جوار کے علاقے میں نمونے کا کا م بھی کیا جاسکے اور کارکنوں کو دعوت و تبلیغ کا عملی تجربہ بھی حاصل ہوسکے۔ مقام کا انتخاب اور اس کے لیے منتخب اشخاص کا چناؤ اور دیگر عملی تدابیر اختیار کرنے کا کام امیر جماعت پر چھوڑ دیا گیا۔
(جاری ہے)