المیہ آٹھ اکتوبر

87

 

سید کمال حسین شاہ

کبھی حوصلہ نہ ہوا۔ کبھی قلم میں اتنی ہمت نہ ہوئی۔ 8 اکتوبر لکھ سکوں۔ یہ وہ دن ہے جو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ کبھی ہمت نہ ہوئی اس واقع کی منظر کشی کر سکوں۔ یہ وہ واقع ہے میں خود اس میں شامل تھا۔ رمضان المبارک کا پاک مہینہ۔ کچھ حادثے ہوتے ہیں۔ جو انسان بیان کر سکتا ہے۔ یہ وہ المیہ جسے بیان کرنا اور لکھنا مشکل ہے۔ اس کو بیان کرنے کی میرے قلم میں طاقت نہیں۔ مجھ میں حوصلہ نہیں۔ زندگی میں کبھی نہیں چاہوں گا ایسے واقعات ہوں۔ اللہ ہر ملک قوم کو ان سے محفوظ رکھے امین۔ 8 اکتوبر 2005 ایک خوشگوار دن کی صبح۔ کسی نے نہیں سوچا تھا آج کیا ہونے والا ہے۔ آٹھ اکتوبر 2005 کا زلزلہ جس نے ہزارہ اور آزاد کشمیر میں وہ قیامت برپا کی جس میں تاریخ میں مثال نہیں ملتی جو ہوا تھا بھولنا اتنا آسان نہیں تھا جب ایک ہنستی مسکراتی صبح قیامت میں تبدیل ہوگئی تھی۔ جہاں بڑی تعداد میں بچے اپنے اسکولوں ہی میں دفن ہو گئے وہیں بچ جانے والے ننھے دماغوں پر گہرے نقوش ثبت ہو گئے۔ بچوں کے کھیل بھی زلزلے کی ہی کہانیوں کے اردگرد گھومنے لگے سڑکوں پر چلتی کئی گاڑیاں مسافروں سمیت دریائے نیلم کی نذر ہوگئیں۔ دریائے نیلم اور جہلم پر بنے بل ٹوٹ گئے دفاتر، مارکیٹیں اور تعلیمی ادارے چند سیکنڈ میں زمیں بوس ہوگئے ہر طرف چیخ و پکار تھی۔ ایک قیامت تھی جو آ کر گزر گئی ۔ لوگ سکتے کی کیفیت میں تھے ایک ہی جھٹکے میں لاکھوں مکانات زمین بوس ہو گئے۔ کچھ بد نصیب ایسے کہ اسکول سے ان کے بچے تو نہیں صرف بیگ ہی ملے۔ کوئی ماں بچے کو بچاتے ہوئے خود یواروں تلے دب گئی اور کوئی باپ بڑھاپے میں سہارے سے محروم ہوگیا۔ مظفرآباد کے موجودہ پوسٹ گریجویٹ کالج میں جوان طالب علموں کے لاشے بکھرے پڑے تھے۔ میں کالج میں اپنے بھتیجے ذیشان کو ڈھونڈ رہا تھا لیکن مجھے ہر بچہ ذیشان لگ رہا تھا۔ دنیا میں قدرتی آفات کا سلسلہ جاری ہے، برفانی و سمندری طوفان، موسلادھار بارشیں، قیامت خیز زلزلے وقفوں وقفوں سے زمین پر قدرت کی مکمل بالادستی کا ثبوت دیتے رہے ہیں اور دے رہے ہیں۔
ہزارہ خیبر پختون خوا اسلام آباد، آزاد کشمیر اور صوبہ پنجاب میں 7.6ریکٹر اسکیل کی شدت سے آنے والا زلزلہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین اور 2005ء میں دنیا کا چوتھا بڑا زلزلہ تھا۔ زلزلہ بروز ہفتہ پیش آیا، جو علاقہ میں عام دن تھا اور تقریباً اسکول اس دوران کام کر رہے تھے اسی وجہ سے زیادہ ہلاکتیں اسکولوں اور ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔ زیادہ تر بچے اسکول کی عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے۔ قصبے اور گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ جب کہ مضافاتی علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا۔۔۔
لوگوں کے کاروبار تباہ ہو گئے۔ ان کی اس سلسلے میں کوئی خاص مدد نہ کی گئی۔ وہ لوگ ابھی تک قرض دار ہیں۔ ان لوگوں کے زورگار کے لیے کوئی اقدام نہ کیے گئے۔ کئی ملین لوگ بے گھر ہوئے۔ پہاڑی علاقے میں آنے والے زلزلے سے بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس کی وجہ سے مواصلات کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا ایک اندازے کے مطابق 5 ارب ڈالر کی مالیت کا نقصان ہوا، جو تقریباً 400 ارب پاکستانی روپے بنتے ہیں شدید زلزلے کے نتیجے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں آزاد کشمیر اور ہزارہ صوبہ خیبر پختون خوا میں ہوئیں، جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کل ہلاکتیں 74,698 تھیں سوا لاکھ سے زاید لوگ شدید زخمی ہوئے ہزاروں ایسے بد قسمت لوگ جو ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے تھے آج بھی ٹوٹے اعضاء گھسیٹتے نظر آتے ہیں پاکستان کے ہر شہری کے ہر لحاظ سے بھر پور تعاون کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے اربوں ڈالر کی امداد الگ سے آئی۔ بے شمار ملکی اور غیرملکی رضاکار ادارے اور کارکن بھی دن رات مصروف رہے آج بالاکوٹ شہر پر نظر دوڑائیں تو ہر طرف پہاڑوں پر اور ان کے دامن میں سفید اور نیلے رنگ کے ایک جیسے ہزاروں عارضی گھروں کی ایک وسیع بستی نظر آئیگی۔ یہ تمام گھر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے لوگوں کو بنا کر دیے گئے ہیں۔ یہاں کے بہت سے لوگ اب انہی عارضی گھروں میں رہ رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد زلزلے میں سب سے زیادہ تباہ ہونے والے علاقوں میں سے ایک تھا۔ یہاں اموات بھی بہت زیادہ ہوئی تھیں۔
ترکی نے حکومتی سیکرٹریٹ اور ایک عالی شان مسجد تعمیر کی ہے۔ سعودی عرب نے یونیورسٹی اوربڑا اسپتال بنایا ہے جب کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی جدید اسپتال بنایا گیا ہے۔ اسکولوں اور کالجوں کی تعمیر نو بھی انہی ممالک کی جانب سے کی جاری ہے مشکل کی اس گھڑی میں بڑی تعداد میں غیر ملکی امدادی کارکن اور ڈاکٹروں نے بھی پاکستان کا رخ کیا جن میں بڑی تعداد کیوبا سے آئے ہوئے طبی عملے اور ڈاکٹرز کی تھی کیوبا کے اس وقت کے سربراہ فیڈل کاسٹرو نے ایسے میں کشمیر کے طلبہ کے لیے اسکالر شپ کا اعلان کرتے ہوئے یہاں کے ایک ہزار طلبہ کو ڈاکٹر بنانے کا اعلان کیا۔ زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں تعمیرِ نو کا سلسلہ عالمی امدادی اداروں کی مدد سے شروع تو ہوا لیکن 13 برس بعد آج بھی ان علاقوں میں جہاں پوری طرح تعلیمی ادارے ہی دوبارہ نہ بن پائے وہیں صحت اور حکومت کے نظاموں کی بحالی مکمل نہ ہو سکی۔ ایک بڑی آبادی ایسے عارضی شیلٹروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے جس میں دس دس فٹ کے صرف دو کمرے ہیں بالاکوٹ شہر اسی جگہ آباد ہے جہاں اس شہر کو اب نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پرانا بالاکوٹ جہاں واقع ہے وہ جگہ زلزلے کی فالٹ لائن پر ہے اور 13 سال پہلے حکومت نے یہاں سے کوئی 30 کلومیٹر دور ایک نیا بالاکوٹ شہر آباد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اس نئے بالاکوٹ کے منصوبے کے لیے زمین بھی خریدی گئی کام بھی کسی حد تک شروع ہوا لیکن لوگوں کو وہاں آباد نہیں کیا جا سکا۔ پرانے بالاکوٹ میں زلزلے کے بعد نئے مکان بھی تعمیر ہوئے ہیں اور کاروبار زندگی بھی جاری ہے لیکن لوگوں میں سخت بے یقینی کی صورت حال پائی جاتی ہے۔ شہروں کے مکین اپنے ان پیاروں نہیں بھلا پائیں گے، جو ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو کر ان قبرستانوں میں آبسے ہیں۔ بے شمار اداروں کے ساتھ ساتھ کئی سیاسی پارٹیوں کے لوگ بھی متحرک رہے تھے، جن کی خدمات کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں بھر پور طریقے سے متاثرین کی دن رات ایک کرکے مدد کی۔ جس کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ