انتخاب

70

 

’’ایک مدت تک مسلمانوں کو یہ اطمینان دلایا جاتا رہا ہے کہ تم شہادت توحید و رسالت زبان سے ادا کرنے اور روزہ و نماز وغیرہ چند مذہبی اعمال کرلینے کے بعد خواہ کتنے ہی غیر دینی اور غیر ایمانی طرزعمل اختیار کرجاؤ‘ بہرحال نہ تمہارے اسلام پر
کوئی آنچ آسکتی ہے اور نہ تمہاری نجات کو کوئی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ حتیٰ کہ اس ڈھیل کی حدود اس حد تک بڑھیں کہ نماز‘ روزہ بھی مسلمان ہونے کے لیے شرط نہ رہا اور مسلمانوں میں عام طور پر یہ تخیل پیدا کردیا گیا کہ ایک طرف ایمان اور اسلام کا اقرار ہو، اور دوسری طرف ساری زندگی اس کی ضد ہو، تب بھی کچھ نہیں بگڑتا۔ ‘‘
(سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ )

Print Friendly, PDF & Email
حصہ