انڈونیشیا: ایک ہزار افراد کی ملبے تلے موجودگی کا خدشہ

48
جکارتا: انڈونیشیا میں شدید زلزلے اور سونامی کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں‘ مقامی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1600 سے تجاوز کرچکی ہے
جکارتا: انڈونیشیا میں شدید زلزلے اور سونامی کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں‘ مقامی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1600 سے تجاوز کرچکی ہے

جکارتا (انٹرنیشنل ڈیسک) انڈونیشیا میں زلزلے اور سونامی سے ہلاکتوں کی تعداد 1600 سے متجاوز ہو چکی ہے۔ متاثرہ شہر ستوپور پرو میں ملبے تلے ایک ہزار سے زائد افراد کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ انڈونیشین ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے ترجمان سٹوپو پرواؤ کا کہناہے کہ زلزلے اور سونامی سے متاثر علاقوں پالو، بالاروا اور پیٹوبو میں امدادی اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ ترجمان نے خدشہ ظاہر کیا کہ متاثرہ علاقوں میں مٹی تلے اب بھی ایک ہزار افراد دبے ہوسکتے ہیں، جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں خوفناک اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سونامی سے وہاں تقریباً 3میٹر گہرے گڑھے پڑ چکے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ زمین نم ہونے کے باعث امدادی آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اب تک پیٹابو سے 26 اور بالاراؤ سے صرف 48 افراد کو محفوظ نکالا گیا، جب کہ مزید افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔ سب سے زیادہ متاثر شہر پالو کے ہمسایہ علاقے بالاراؤ میں زلزلے کے بعد تقریباً 1700 گھر منہدم ہوئے۔ واضح رہے کہ 28 ستمبر کو انڈونیشیا کے ساحلی شہر پالو میں 7.5 شدت سے آنے والے زلزلے کے باعث 70 ہزار گھر تباہ ہوگئے۔دوسری جانب غیر ملکی امداد کے پہنچنے کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی رفتار بھی تیز ہو گئی۔ اب تک امریکا اور برطانیہ سمیت 11 ممالک کے 20طیارے امدادی سامان لے کر انڈونیشیا پہنچ چکے ہیں۔ انڈونیشیا نے 17مختلف ممالک کی امداد قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انڈونیشیا/خدشہ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ