شام امریکا، روس، ایران اور اسرائیل کا تختہ ء مشق

131

 

سمیع اللہ ملک

بشار الاسد نے 2015ء میں اپنی حکومت بچانے کے لیے روس سے شام میں مداخلت کی درخواست کی تھی۔ اُس وقت شام میں روس دوست حکومت خاتمے کے قریب پہنچ چکی تھی۔ شامی خانہ جنگی کا حصہ بننے کے 3سال کے اندر روس مقامی عسکریت پسندوں پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیاب رہا۔ اس کام میں روس کوایرانی اور عراقی گروہوں کی حمایت بھی حاصل رہی۔ روس کی مدد سے بشارالاسد نے جنگ زدہ شام کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ روس کو عسکری سطح پر کامیابی توحاصل ہوئی، مگر دوسری جانب روس کواجنبی جنگ میں شامل ہونے کی وجہ سے زبردست سیاسی نقصان کا سامنا ہے۔ اپنے ہی شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرنے والی ظالم حکومت کی حمایت کرنا انتہائی بدترین عمل ہے، جس کے نتیجے میں روس شدید عالمی تنہائی کا شکار ہوگیا۔ اس دوران روس کے امریکا، نیٹو اور اسرائیل کے ساتھ تصادم کے امکانات انتہائی سطح تک جا پہنچے۔ شامی حکومت کی حمایت میں ماسکو نے اپنی بین الاقوامی ساکھ کودا ؤپر لگادیا، جو اس کے مفاد میں نہیں ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ روس شام میں بہت کچھ کھوچکا ہے اور اس تنازع کو بین الاقوامی سطح تک بڑھانے کا ذمے دار ہے۔ اسے مشرق وسطیٰ میں مسلسل موجود رہنے کا فائدہ کم ہے، اس کے لیے طویل عرصے تک خانہ جنگی کا سامنا کرنا ہوگا۔ دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ روس اس جنگ میں کافی سرمایہ بھی خرچ کرچکا ہے۔ ابتدائی مقصد کے حصول میں ناکامی اور ساکھ کو پہنچنے والا نقصان شام سے روس کے انخلا کا سبب بن سکتا ہے۔
شام میں 2011ء سے شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد سے روس بشار الاسد حکومت کو ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کررہا ہے۔ یہ معاملہ اب روس کے لیے سب سے بڑا عالمی بوجھ بن چکا ہے۔ 2016ء کے آخر میں روس نے انتہائی جدید فضائی دفاعی نظام سے مسلح اہلکار شام میں تعینات کردیے۔ خانہ جنگی کے آغاز میں اسد حکومت کی جنگی کارروائیوں میں مدد دینے کے لیے دمشق اور دیگر علاقوں میں درجنوں روسی فوجی تعینات کیے گئے، جو تربیت فراہم کرتے تھے۔ جب ماسکو شامی حکومت کو ایک جائز حکومت کے طور پر مدد فراہم کررہا تھا تو اس نے خود کو تنازع میں براہ راست ملوث نہیں ہونے دیا۔ اس وقت روس میں یہ موقف تھوڑا بہت مقبول بھی تھا۔ روس شام میں مداخلت سے ایک برس قبل مشرقی یوکرائن میں ایک نئی جنگ شروع کرچکا تھا۔ یوکرائن کے جنگی میدان میں روس نے انتہائی تربیت یافتہ خصوصی دستوں کو تعینات کیاتھا۔روس نے ابتدا میں خود کو اسد حکومت کی بقا کے لیے اہم ترین علاقوں پر بمباری تک محدود رکھا، جس میں مغربی اور شمال مغربی علاقے خاص طور پر شامل ہیں۔ اس وقت زمینی جنگ زیادہ تر اسد کے وفادار اور ایرانی اتحادی لڑ رہے تھے۔ شام کی جنگ میں شامل ہوتے وقت فضائی حملوں تک محدود رہنا پیوٹن کااہم ترین فیصلہ ہوگا۔ مگر یہ فیصلہ بہت پیچیدگی پیدا کرتا ہے جب حکومت کی بقا ہی خطرے میں ہو۔ حقیقت میں شام کی جنگ سے روس کے خاص مفادات وابستہ نہیں تھے۔ تیل کی قیمتوں میں ڈرامائی کمی اور یوکرائن پر قبضے کے بعد مغرب کی جانب سے روس پر سخت پابندیاں عائد کردی گئی تھیں۔ ان حالات میں روسی سرحد سے ہزاروں کلومیٹر دور مداخلت کی گئی۔ بعض مبصرین سوویت دور سے اسد خاندان اور ماسکو کے درمیان مضبوط تعلقات کا حوالہ دیتے ہیں،کچھ مبصرین روسی حکمرانوں کے مغرب پر سخت غصے کی نشاندہی بھی کرتے ہیں، جس کی وجہ2000ء کے بعد مبینہ مغربی مداخلت کے ذریعے سربیا، یوکرائن، جارجیا اور لیبیا میں حکومت کی تبدیلی ہے۔ اس کے علاوہ روس سے بڑی تعداد میں شام آنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی خواہش بھی اس مداخلت کی وجہ بنی۔ بعض مبصرین کے نزدیک ماسکو کی شام کی جنگ میں شمولیت کی بنیادی وجہ یوکرائن کے معاملے سے بین الاقوامی برداری کی توجہ ہٹانا تھی۔
2014ء کے وسط میں مغرب نے یوکرائن کے علاقے کریمیا کا روس سے الحاق قبول کرلیا اور یوکرائن میں روسی مداخلت پر آنکھیں بند کرلیں، جس کا مقصد مشترکہ دشمن سے لڑنا تھا۔ اس حوالے سے روس کا نقطہ نظر ناقابل فہم بھی نہیں تھا۔ غیر ریاستی عناصر ملکی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ نائن الیون کے بعد یہ امریکی نظریہ دنیا پر غالب آگیا۔ شاید روسی قیادت کو امید تھی کہ ایک بار پھر یہ نظریہ کام کر جائے گا، جیسا کے اس سے قبل چیچنیا کی جنگ کے دوران بھی ہوچکا تھا۔ متوقع طور پر ماسکو نے اسد حکومت کی حمایت کے لیے بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی تجویز دی، تاکہ اسد حکومت کی بدترین دشمن داعش کے خلاف جنگ کی جاسکے، جو عراق سے مشرقی بحر روم تک کے علاقے میں پھیلتی جا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی روس نے غیر جہادی عناصر سے اسد حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کی اپیل بھی کی۔ اس تجویز کو قبول کرنے کی صورت میں اسد حکومت کو قانونی حیثیت حاصل ہوجاتی، یہ ایسے وقت میں ہوتا جب مغرب اور خطے کے اکثر ممالک کے لیے دمشق میں اسد حکومت کی موجودگی ناقابل قبول تھی۔ حقیقت میں تو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے مذاکرا ت شروع کرنے کے لیے اسد کا استعفا بنیادی شرط تھی۔ مغرب کے ساتھ مشترکہ فوج کے قیام سے روس کو بین الاقوامی تنہائی سے نکلنے میں مدد ملتی اور ماسکو کا یوکرائن پر قبضہ مزید مضبوط ہوجاتا۔ کوئی شک نہیں کہ روس کی تجویز دوطرفہ معاہدے کے لیے روایتی طور پر مناسب تھی۔
ماسکو کی شام کی جنگ میں شمولیت کی وجہ بھی مغرب کو جیسے کو تیسے کی پالیسی کے تحت جواب دینا تھا۔ ایک مغربی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ’ممکن ہے کہ شام کی مختلف جماعتوں کے درمیان مذاکرات کرانا کبھی پیوٹن کا مقصد رہا ہی نہ ہو، بلکہ روس صرف واشنگٹن کودیوار سے لگانا چاہتا ہوتاکہ اوباما انتظامیہ کو روس کے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور کردیا جائے‘۔ اس دلیل کی روشنی میں اسد حکومت کا خاتمہ روکنا ضروری تھا۔ اگر ہمیشہ کے لیے نہیں تو کم از کم ماسکو کے تزویراتی مقاصد پورے ہونے تک۔ اگر مغرب کے ساتھ کسی معاہدے سے قبل اسد حکومت ختم ہوجاتی ہے تو روسی سفار ت کاری اہم ترین سیاسی و جغرافیائی برتری کھو دے گی۔ پیوٹن نے 2015ء میں کہا تھاکہ شام میں ماسکو کا مقصد صرف قانونی حکومت کو مستحکم کرنا اور سیاسی سمجھوتے کے لیے حالات کو بہتر بنانا ہے۔ اسد حکومت کو جنگ جیت کر دینا ماسکو حکومت کا ایجنڈا نہیں ہے۔شام کی جنگ میں شمولیت کے بعد یپوٹن یوکرائن کے بدلے شام دینے کے لیے تیار تھے۔ مغرب کی جانب سے یوکرائن میں روسی مداخلت قبول کرنے کی صورت میں ماسکو اسد کو استعفا دینے پر مجبور کرسکتا تھا۔ اس طرح کریملن بھی وائٹ ہاس کی طرح کے طاقت کے مرکز میں تبدیل ہوجاتا۔ بہرحال بعدمیں ثابت ہوگیا کہ ماسکو نے حالات کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے روس کے ساتھ اور اسد کی حمایت میں کسی بھی انسداد دہشت گردی اتحاد کا حصہ بننے سے انکار کردیا، اس دوران ماسکو بھی عالمی تنہائی کے بعد مغربی ممالک سے سفارتی تعلقات دوبارہ قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ شام کے معاملے پر 2016ء تک روس مغرب کے ساتھ کوئی بڑامعاہدہ کرنے میں ناکام رہا،جس کے بعد روس نے شام میں اپنے مقاصد پر دوبارہ سے غور کیا اور اسد حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے سرمایہ کاری کوبڑھا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ایران سے تعاون میں اضافہ کردیاگیا۔
مغرب کے مقابلے میں کھڑاہونے کا بنیادی مقصد پورا نہ ہونے کے بعد بھی ماسکو نے شام سے نکلنے پرغور نہیں کیا۔ ماسکو نے شام میں اپنی فوج میں اضافہ کرتے ہوئے حمیم کے فضائی اڈے اور طرطوس کے بحری اڈے پر اپنی موجود گی کو بڑھا دیا۔ اس کے ساتھ ہی روس نے شامی اپوزیشن کے مضبوط علاقوں پر قبضے کے لیے ایرانی اور دیگر ملیشیاؤں کی حمایت میں اضافہ کردیا۔ روس کی شام میں موجودگی میں اضافے سے اسد حکومت کی مزاحمت کاروں سے مذاکرات کے لیے حیثیت مضبوط ہوگئی، جس نے روس کی ایک مصالحت کار، داعش کے خلاف لڑنے والی اہم ترین طاقت اور خطے میں اہم کھلاڑی کے طور پر حیثیت کو فروغ دیا۔ روسی سفارت کار اور ذرائع ابلاغ داعش کے خلاف جنگ لڑنے کی بات تو کرتے ہیں لیکن ماسکو کی ساری توجہ گنجان آباد اور زرخیز مغربی علاقوں میں موجود سیکولر اور اعتدال پسند مزاحمت کاروں کو نشانہ بنانے پر ہے۔ بس کبھی کبھی داعش کے ویران علاقوں پر بھی بمباری کردی جاتی ہے۔ ایران کی مدد سے میدان جنگ میں پیش قدمی کے بعد رو س اسد حکومت کی بقا کی ضمانت بن گیا ہے۔ اسد حکومت پر شامی اپوزیشن کو کوئی بڑی رعایت دینے کا دباؤ ختم ہوچکا ہے۔ اس کے لیے وہ اب روس کی ناراضگی اور غصے کو بھی برداشت کرسکتی ہے۔ ان حالات میں روس سے اسد حکومت کو نظراندازکرکے اپنے مفادات کے مطابق کام کرنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ روسی بیرون ملک طویل جنگ لڑنے سے خوفزدہ ہیں اور اس خوف کو کم کرنے کے لیے پیوٹن نے فوجی انخلا کااعلان کیا۔ اس حوالے سے کئی مبصرین کاکہنا ہے کہ بغیر کسی واضح فتح کے شام سے فوجیں نکالنا ظاہر کرتاہے کہ کریملن شام کی خانہ جنگی میں روس کے لیے موجود خطرات کو سمجھتا ہے۔یہ صرف اپنی ساکھ بچانے کی ایک کوشش ہے۔ ویسے بھی روس کا شام سے کوئی بڑا مفاد وابستہ نہیں ہے۔ روس اور ترکی کے مابین تعلقات کی بحالی بظاہر پیوٹن کی بڑی کامیابی نظر آتی ہے۔
حالیہ دنوں میں اسرائیل اور روس کے تعلقات کافی اچھے ہیں۔ اگر روس شام میں مسلسل موجود رہتا ہے تو دونوں ممالک میں اختلافات کا امکان ہے، کیونکہ روس شام میں ایران کی زمینی فوج پر انحصار کرتا ہے، جب کہ اسرائیل اپنے پڑوس میں ایران کی موجودگی کا شدید ترین مخالف ہے۔ اسرائیل کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح بھی ایران کو شام سے باہر نکالا جائے۔ روس ہمیشہ کے لیے اس لڑائی سے گریز نہیں کرسکتا۔ ایران کا ساتھ دینے سے اسرائیل تنہائی محسوس کرے گا جوروس کے طویل مدتی مفادات کے خلاف ہے۔ اسرائیل روس کے لیے کئی مفید کردار ادا کرسکتا ہے۔ اسرائیل روس اور مغرب کے درمیان تعلقات بحال کرا سکتا ہے، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کر سکتاہے۔شام کے تنازع کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر ماسکو عالمی تنہائی کا شکار ایران سے وابستہ مشکوک مفادات کے لیے اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے سے انکار کررہا ہے۔ شام میں موجود ایرانی ٹھکانوں پر اسرائیل کے حملے، روس اور اسرائیل کے درمیان خاموش معاہدے کو نقصان پہنچا ر ہے ہیں۔ عام طور پر شام میں موجود ایرانی ٹھکانوں پر اسرائیل کے حملوں پر روس آنکھیں بند کرلیا کرتا تھا، مگر اپریل میں خبروں کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے اچانک ہی اسرائیلی حملوں کو انتہائی خطرناک عمل قرار دیدیا۔ اسرائیل کے نزدیک بھی روس نے ایران اور اس کی ملیشیا کو قابو کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔
شام کے میدان جنگ نے امریکا کوموقع فراہم کیا ہے کہ وہ پیوٹن کو عالمی اور علاقائی سطح پر بدنام کرے اور اس میں کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں طاقت کا مظاہرہ کرکے روس نے خود کو امریکا کے لیے آسان ہدف بنالیا ہے۔
شام میں جنگ لڑنے کے لیے روس کے حوصلے کبھی بھی بلند نہیں تھے۔ روس نے فوج میں جبری بھرتی کیے گئے فوجیوں کو شام بھیجنے کے بجائے نجی ملیشیا اور کنٹریکٹ اہلکاروں کو بھیج دیا، تاکہ اندرون ملک تنقید سے بچا جاسکے۔ ماسکو شام میں جانی نقصان کو چھپانے کے معاملے میں انتہائی حساس ہے، کیونکہ وہ اس کے ردعمل سے خوفزدہ ہے۔شام میں فوجی کارروائی کے حوالے سے کیے گئے لیواڈا سینٹر کے ایک سروے کے مطابق49فیصد روسی شام میں مہم جوئی کا خاتمہ چاہتے ہیں،جب کہ32فیصد یہ جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ سروے 2017ء کی گرمیوں میں کیاگیاتھا۔ شام میں روس ایران اتحاد ایران کے لیے کافی فائدہ مند رہا ہے۔ایک کمزور اتحادی کی حیثیت میں ایران شام میں فوجی کارروائی کرسکتا ہے مگر باقی سیاسی معاملات روس اور مغرب پر چھوڑ دیے ہیں۔ روسی مہم جوئی کے خلاف مغرب کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے ماسکو کومغربی پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا اورنقصان بھی برداشت کرنا ہوگا۔ شام میں روسی آپریشن کے لیے ایرانی فوج زمینی مدد فراہم کرتی ہے،مگر وہ طویل عرصے تک ماسکو کو سہولت فراہم کرنے کے پابند نہیں۔ روسی جنرلز ایرانی اہلکاروں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کررہے ہیں توایرانی جنرلز کو بھی اندازہ ہے کہ روس کی فضائی مدد ایک ڈھال کا کام کرتی ہے،جس سے انہیں آپریشن میں آسانی ہوتی ہے، کیونکہ ایرانی جغرافیائی اور ثقافتی طور پرجنگ زدہ علاقے سے قریب ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔اس لیے ایران کو اس اتحاد سے روس کے مقابلے میں زیادہ فائدہ ملنے کا امکان ہے۔ روس ایران کی مدد کرنے سے انکار نہیں کرسکتا، کیونکہ پھرروس کو شام میں اپنی زمینی افواج بڑے پیمانے پر تعینات کرنے کی ضرورت ہوگی،جس کے علاقائی اور عالمی اثرات غیر واضح ہیں۔ ویسے بھی شام میں روس کو ایران سے اتحاد کا ایک ہی فائدہ ہے اور وہ ہے ایران کی افرادی قوت کا استعمال کرنا،باقی توصرف نقصان ہے۔ ایرانی نقطہ نظر سے بہتر نتائج کے لیے شام میں اپنے اثرورسوخ میں اضافہ کرنے کے ساتھ جہاں ممکن ہوں لسانی اور مذہبی توازن کو اپنے حق میں تبدیل کرنا ہوگا۔ شام کے تنازع کے بہتر حل کے لیے روس شاید ہی ایک آزاد نقطہ نظر رکھتا ہے۔ماسکو کی جانب سے ساحل پر روسیوں کو بسانے کے منصوبے کا امکان نہیں،ایسے کسی منصوبے کے خلاف مقامی آبادی اور ان کے رہنما متحد ہو جائیں گے۔ مغرب سے کسی سمجھوتے کے نتیجے میں روس کاشام سے انخلا کا امکان 2015ء میں تھا، جب روسی مداخلت کاآغاز ہی ہوا تھا، اب توشاید اس بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ ماسکو اور مغربی ممالک کے درمیان بد اعتمادی کے موجودہ حالات میں بات چیت کا نتیجہ خیز ثابت ہونا بہت مشکل ہے۔ اپنی فوج پر بہت زیادہ دبا ؤڈال کر اور اپنے اہم پتے کھیل کر روس نے خود کو کمزور کرلیا ہے۔
دنیا بھر میں مشہور ہے کہ جب کوئی حکمران بیرون ملک جنگ ہار جاتا ہے تو اسے اپنے ملک میں بغاوت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر روس شام سے باہر آجاتا ہے تو ایران اور شام مغربی اور سنی اکثریتی ممالک کے دبا ؤکے سامنے کھڑے نہیں رہ سکتے۔ پیوٹن کے لیے شام کوکھو دینے کا مطلب جنگ میں شکست ہے، جس کے اثرات ان کے اقتدار میں رہنے کے امکانات پر بھی پڑیں گے۔ شام میں موجود رہنا روس کو سنگین خطرات میں ڈالتا ہے۔ ماسکو اسرائیل اور ایران کے درمیان کسی چھڑپ میں پھنس سکتا ہے۔ روس، ایران اور ترکی جیسے اتحادیوں سے اپنے مفادات کا دفاع کرتے ہوئے تنازع کومزید بڑھا سکتاہے۔ خطے میں روسی مفادکے مطابق شام کے تنازع کا کوئی بھی حل غیر واضح ہے۔ اگر چہ روس اپنے اتحادیوں میں سب سے طاقتور ہے مگر شام میں جنگ کے اختتام کے بعد ماسکو کے کمزور اتحادی طاقتور حریف بن کر ابھریں گے۔
اُدھرٹرمپ کی شکل میں امریکااس خطے میں روس سے جیتی ہوئی جنگ کواپنی افتادطبع کی وجہ سے ایک مرتبہ پھرشکست کے دہانے پرپہنچ گیا ہے۔ اس نے خطے میں ایران اورترکی سے مخاصمت کوبڑھاکرروس کواپنابلاک مزیدمضبوط بنانے کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کردیا ہے۔ ترکی نے حالیہ بغاوت میں ٹھوس شواہدکی بنا پرایک امریکی پادری اینڈریو برنسن کوگزشتہ 2سال سے دہشت گردی کے الزام کے تحت گرفتار کیا ہوا ہے جس کے بعدٹرمپ نے ترکی پرمختلف پابندیاں عائدکرکے ترکی کوتجارتی خسارے میں مبتلاکرکے ترکی کی کرنسی لیراکوشدید نقصان پہنچادیاجس کی وجہ سے ترکی کواپنی کرنسی میں 40فیصدتک کمی کرنا پڑگئی۔ ترک لیراکی قدرپہلے ہی کم ہوکرایک ڈالر کے مقابلے میں 5لیرا ہو گئی ہے، جو حالیہ برسوں میں لیرا کی سب سے کم قدر ہے۔ جس کے جواب میں ترکی نے امریکاکے سامنے جھکنے کے بجائے مقابلہ کرنے کافیصلہ کرلیاہے۔ دوسری طرف امریکا نے ایران کے ساتھ طع جوہری معاہدے سے الگ ہوکرایران پربھی پابندیوں کااعلان کردیاہے اوران تمام ممالک کوبھی وارننگ دے دی ہے جوایران سے اپنے تجارتی روابط رکھیں گے۔ یاد رہے کہ اس خطے میں ایران کے تیل کاسب سے بڑا گاہک بھارت ہے اور دیگر تجارتی لین دین بھی 20 ارب ڈالرسے تجاوز کر چکا ہے۔ بھارت جواس وقت امریکا کا سب سے بڑا چہیتا اور لاڈلا ملک ہے، اس کے امتحان کابھی وقت آن پہنچا ہے۔ ان حالات میں یقیناروس کی قربت ان دونوں ممالک،ترکی اورایران سے مزیدبڑھ جائے گی اور حالیہ پاک امریکا تعلقات بھی انتہائی حد تک گراوٹ کا شکار ہیں اور پچھلے 2 سال سے پاک روس تعلقات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا اس صورتحال میں روس اور امریکا شام کو میدان جنگ بناکرخطے میں اپنی طاقت کالوہامنوانے کے لیے پرتول رہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ