اک جرأتِ رندانہ

136

 

ڈاکٹر وسیم علی برکاتی

ٹیپو سلطان نے کہا تھا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو دن کی زندگی سے بہتر ہے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمرؓ نے راستے میں کسی کو سست رفتاری چلتے دیکھا تو کوڑا دکھاتے ہوئے کہا کہ راستے میں ایسی چال نہ چلو کہ لوگ تمہیں نحیف سمجھیں بلکہ طاقتور آدمی کی طرح چلوں تاکہ لوگ تمہیں طاقتور مسلمان سمجھیں۔ کہیں کہا گیا ہے کہ مومن ہوتو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔ اور کہیں کہا گیا ہے کہ، ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔ غرض مسلمان کو ہر اس عمل سے روکا گیا ہے کہ جس سے اس کی کمزور ی ظاہر ہو۔ لیکن اللہ کے رسولؐ نے چودہ ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی کہ دیا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب مسلمانوں کی ہو ا اکھڑ جائے گی۔ اور وہ بہتے ہوئے تنکوں کے مانند ہوں گے۔ صحابہ کرامؓ نے کہا کہ کیا مسلمانو ں کی تعداد کم ہوجائے گی۔ جس پر اللہ کے رسول ؐ نے کہا کہ نہیں بلکہ تمہار ے اندر دولت کی ہوس پیدا ہوجائے گی۔ دراصل یہ ہماری اخلاقی تنزلی کی انتہائی حد ہے کہ ہم دوسرے ممالک سے قرضے لیتے ہیں اور ہمارے حکمران ان قرضوں کو اور ان کے ساتھ ملکی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کوکرپشن کے ذریعے غیر ممالک میں اپنی ذاتی جائدادیں بنانے میں استعمال کر لیتے ہیں۔ اپنے کاروبار اور فیکٹریاں بنا لیتے ہیں۔ وزیراعظم سے لے کر ملک کا کوئی وزیر ایسا نہیں جو کسی نہ کسی کرپشن میں نامزد نہ ہو، بدنام نہ ہو یا ملوث نہ پایا جاتا ہو۔ یہ کرپشن جو ہمارا حکمران طبقہ اپنا حق سمجھ کر کرتا ہے کہ الیکشن میں کروڑوں روپے لگائے ہیں۔ آخر سود کے ساتھ وصول بھی تو کرنے ہیں۔
یہ کرپشن ہمارے ان حکمرانوں سے کون کرواتا ہے۔ کیا یہ امریکا کرواتا ہے یا یہ انڈیا کی سازش ہے؟ ہمارے ان حکمرانو ں کی کرپشن کے نتیجے میں تواتر کے ساتھ غیر ملکی اور مانیٹری اداروں سے قرضے لیے جارہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب ہمارے ملک کا ہر شہری 15پندرہ ہزار روپے کا مقروض تھا۔ لیکن آج ہمارے ملک کا ہر شہری تقریباً 50ہزار پچاس ہزار روپے کا مقروض ہے۔ ہمارے ملک پر 2013 میں جب ن لیگی حکومت آئی تو 60ارب ڈالر تھا۔ لیکن 2018 میں اس حکومت کے اختتام پر 91ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ ہمارے ملک کے حکمران مسلسل قرضے لے رہے اور نجانے وہ کون سا بلیک ہول ہے کہ جہاں یہ قرضے سے لی گئی رقوم چلی جاتی ہیں۔ کیوں کہ ملک میں ترقیاتی امور کی حالت ایسی ہے کہ ہمارے ملک کی سڑکیں تباہ حال ہیں، ہمارے توانائی کے ادارے ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ اسٹیل مل میں تنخواہیں مہینوں ادا نہیں کی جاتیں۔ اسکولوں سے لے کر انٹرمیڈیٹ بورڈ تک کرپشن کے گڑھ بن چکے ہیں۔ ہمارے ملک میں نئے ڈیموں کی اشد ضرورت ہے۔ اور پرانے ڈیم تباہ حالی کا شکار ہیں۔ مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ چھوٹا کاروباری طبقہ اپنے بینک سے ایک لاکھ نکلواتا ہے تو اس پر ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے۔ خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہو جاتا ہے۔ عوام بچوں کے تعلیمی اخراجات اور گھریلوں اخراجات اور بلوں کی ادائیگی کے بعد تقریباً مقروض ہونے کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔ سیور ریفل سے لے کر، قرض اتارو ملک سنوارو اور اب ڈیم کے لیے بھی عوام ہی سے امداد طلب کی جارہی ہے۔
کھانے پینے کی اشیاء پر ٹیکس، دواؤں پر ٹیکس، بینک سے رقم نکلوانے پر ٹیکس، تعلیمی اخراجات پر ٹیکس، پھر ڈیم کے چندہ کے لیے عوام سے امداد طلب، گیس کے نرخ میں اضافہ، بجلی کا بل ہوش ربا، اس پر اب موجودہ حکومت کا پٹرول کے نرخوں میں اضافے کا عندیہ دراصل عوام پر پٹرول بم گرانے کے مترادف ہے۔ پاکستانی عوام جو سڑکوں پر نکلتے ہیں تو نہ صرف چوروں اور ڈکیتوں کے ہاتھوں لٹتے ہیں بلکہ باوردی، مسلح پولیس بھی سر راہ ناکے لگا کر معصوم عوام سے بھتا وصول رہی ہوتی ہے۔
ہماری موجودہ حکومت جو سابقہ کرپٹ حکمرانوں سے نہ صرف لوٹ کا پیسہ وصولنے کا دعویٰ کرکے اپنا حلق خشک کرتی تھی۔ آج خود عوام کے آگے ڈیم کے لیے کشکول پھیلا رہی ہے، مہنگائی میں اضافہ کررہی ہے اور اب پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے رہے سہے اوسان بھی خطا کر رہی ہے۔ موجودہ حکومت کے سو دن میں تبدیلی کے دعوے کیا ہوئے؟ سو دنوں میں تقریباً پچاس دن تو گزر چکے ہیں۔ حکومت کی تبدیلی کا یہ پہلا تحفہ پٹرول کی قیمتوں میں یہ اضافہ کا عندیہ ہے۔ جو کہیں سے بھی عوام دوست نہیں بلکہ عوام دشمن فیصلہ ہے۔ کیوں کہ پٹرول میں اضافے کے ساتھ ہی ہر چیز کے نرخ خود بخود ہی بڑھ جاتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام پھٹ پڑیں اور سڑکوں پر نکل آئیں۔ کہا یہ جارہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ) کو خوش کرنے کے لیے کیا جارہا ہے تاکہ مزید آئی ایم ایف سے قرض لیا جاسکے۔ جب تک ہم قرض لینا نہیں چھوڑیں گے اس وقت ہم باوقار قوم نہیں بن سکتے۔ ہمیں کرپشن اور ملک سے لوٹا ہو ا پیسہ واپس لانا ہوگا۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو، کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی۔ میری موجودہ حکومت سے گزارش ہے کہ خدارا! عوام کی دعائیں لیں اور اللہ اور آخرت کی جواب دہی سامنے رکھیں۔ ورنہ چند روزہ حکمرانی ہمیشہ کا عذاب ہوجائے گی۔ کیوں کہ یوم حساب ایک حقیقت ہے کوئی مذاق نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کے اپوزیشن میں رہتے ہوئے پٹرول کے نرخ کم کرنے کے بڑے بڑے دعوے تھے خدارا انہیں یاد کریں۔ ملک کے لوٹے ہوئے چارسو ارب روپے ملک میں واپس لائے جائیں۔ کرپشن کی روک تھام کریں۔ پچاس دنوں میں حکومت کا ایک جراّت مندانہ قدم ہی عوام کی حوصلہ افزائی کے لیے بہت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ