شمالی اور جنوبی کوریا میں جوہری ہتھیار تلفکرنے کا معاہدہ

57
پیانگ یانگ: کوریائی ممالک کے سربراہ معاہدے پر دستخط کے بعد دستاویز دکھا رہے ہیں

پیانگ یانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی میں شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے سربراہان نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر اتفاق کر لیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق پیانگ یانگ میں جنوبی کوریا کے سربراہ مون جے ان اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے درمیان اہم ملاقات میں خطے کو جوہری توانائی سے پاک کرنے پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔ معاہدے پر بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان امریکا کی جانب سے چند اقدامات اور یقین دہانیوں کی صورت میں غیرملکی مبصرین و معاینہ کاروں کی نگرانی میں میزائلوں کی تیاری اور جوہری توانائی کی تنصیبات کو مستقل طور پر بند کرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک نے جاپان میں ہونے والے ’سرمائی اولمپکس 2020ء ‘ میں تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے، جب کہ 2032ء کے سرمائی اولمپکس کی مشترکہ میزبانی کے لیے بھی دونوں ممالک نے مؤثر لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان ریلوے سروس کے قیام، صحت کے شعبے میں تعاون اور کوریائی جنگ کے باعث منقسم خاندانوں کو ملانے سے متعلق معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے حریف ممالک کے درمیان ’ملٹری معاہدے ‘ کو خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور قیامِ امن کے لیے اہم دستاویز قرار دیتے ہوئے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان نے ملاقات کو خوش آیند قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے طویل جنگ کے خاتمے کا آغاز ہوگیا ہے، جس کے لیے شمالی کوریا اپنا نیوکلیئر کمپلیکس ’ہونگ بیون‘ بھی بند کر دے گا۔ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کے صدر کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی رواں برس جنوبی کوریا کا دورہ کریں گے، اور دونوں ممالک جزیرہ نما کوریا میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کاوشیں کرتے رہیں گے۔ اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی طائفے کے تبادلے کی راہ ہموار ہوگئی ہے، جس کے تحت شمالی کوریا کا ’آرٹ ٹروپ‘ اگلے ماہ جنوبی کوریا میں پر فارم کرے گا۔ واضح رہے کہ جنوبی کو ریا کے سربراہ مون جے ان منگل کے روز 3 روزہ دورے پر اپنی اہلیہ کے ساتھ شمالی کوریا پہنچے اور کم جونگ ان سے ملاقات کی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل واشنگٹن یہ کہہ چکا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو 27 ستمبر کو شمالی کوریا کے حوالے سے سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اجلاس میں وہ عالمی برادری سے مطالبہ کریں گے کہ پیانگ یانگ پر دباؤ جاری رکھا جائے، تا کہ شمالی کوریا کو اس کے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری پر مجبور کیا جا سکے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ