مسائل کی جڑ کرپشن اور گروہی مفادات ہیں : صدر عارف علوی

155
اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پہلا خطاب کررہے ہیں
اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پہلا خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد(خبرایجنسیاں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ہمارے مسائل کی سب سے بڑی وجہ بے انتہا کرپشن اور گروہی مفادات ہیں۔ان کے بقول عوام بدعنوانی سے تنگ آگئے ہیں،کرپشن کے ناسور نے ملکی اقتصادیات کو تباہ کردیا ، حکومت اور تمام جماعتوں کے رہنمامل کر ملک کی سمت درست کریں، کرپشن پر قابو پانے کے لیے احتساب کے اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔پیر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پہلا خطاب کرتے ہوئے صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ آئینی
ذمہ داریاں بھرپور طریقہ سے نبھاؤں گا، عوام کی خواہشات کے احترام میں حکومت کی کامیابی مضمرہے ، حکومت نے نیا پاکستان بنانے کاعزم کیا ہوا ہے، ہم مقروض قوم ہیں ہمیں قرض کی ادائیگی کے لیے قرض لینا پڑتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ملک پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کے پہاڑ کافی حد تک بڑھ چکے ہیں۔ ملک پر گردشی قرضوں کا بوجھ 1100 ارب سے زیادہ ہوگیا ہے، مہنگائی اور افراط زر میں اضافہ ہواہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نیا پاکستان بنانے کا عزم کیا ہے ، نئے پاکستان کی شناخت بدعنوانیوں سے پاک نظام ہے، ہمیں اپنی زندگیوں میں سادگی کو اپنانا ہوگا۔ عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہش مند ہے، ہمیں بیرونی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا ہوں گے، خارجہ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے، ترکی کے ساتھ ہمارے تعلقات خصوصی نوعیت کے حامل ہیں،بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر پرامن تعلقات چاہتے ہیں، تصادم اور الزام تراشیاں کسی مسئلے کا حل نہیں، کشمیر کے مسئلے کا حل دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے ناگزیر ہے ، پاکستان کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا، اقوام متحدہ کو بھی مقبوضہ کشمیر سے متعلق کردار ادا کرنا چاہیے، حکومت سی پیک کے منصوبے تیزی سے مکمل کرے گی جس سے پاک چین تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور خطے میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو گا۔صدر نے کہا کہ ملک کے طول وعرض میں نظام تعلیم کو مضبوط کیا جائے، اندازے کے مطابق 30 لاکھ سے زائد بچے مدارس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، حکومت علما کرام کی مشاورت سے ایک متفقہ لائحہ عمل بنائے اور اس پرعمل کرے۔انہوں نے کہا کہ بااختیار خواتین کے بغیر ملکی ترقی کا خواب مکمل نہیں ہوسکتا، ضرورت ہے کہ خواتین کو زیادہ سے زیادہ وسائل فراہم کیے جائیں۔صدر مملکت کے مطابق ہمارے مسائل سماجی ناہمواری اور غربت سے جڑے ہوئے ہیں، ہمیں ملک میں آبادی اور وسائل میں توازن پیدا کرنا ہوگا، ہمارے بچے ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور ہیں ، زچہ بچہ کی صحت اور چھوٹے کنبے کی افادیت کو اجاگر کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے بھی مضر اثرات مرتب ہورہے ہیں ، ہمارے ہاں پانی کا بے دریغ استعمال ہورہاہے، ہمیں پانی کو ضائع ہونے سے روکنے پر توجہ دینا ہوگی اور اس کے بے جا استعمال پر قابو پانا ہوگا۔ ہمیں شجر کاری پر خصوصی توجہ دینا اور نئے ڈیم بھی بنانا ہوں گے۔ ہمیں آبپاشی کے جدید نظام کو فروغ دینا ہوگا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر، چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف آرمی اسٹاف اور غیر ملکی سفرا سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے سوا دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا اور پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن سے واک آؤٹ کیا ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ