بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی روکے، عمران خان

209
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہورہا ہے
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہورہا ہے

اسلام آباد/نئی دہلی( خبرایجنسیاں)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی روکی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور اسی طرح دفعہ 35-A کو ختم کرکے آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کی مذمت کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار عمران خان نے وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چودھری سے ملاقات میں کیا۔عمران خان نے مظفر آباد سے میرپور سی پیک کے منصوبوں اور میرپور میں انٹرنیشنل ائرپورٹ کی تعمیر کی بھی اصولی منظوری دی۔علاوہ ازیں اسلام آباد میں سرکاری ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ افسران خوف سے نکل کربڑے فیصلے کریں‘ بیورو کریسی کا تحفظ اور سیاست مداخلت کو روکنا میری ذمے داری ہے ، غلطیوں سے کوئی شخص پاک نہیں، مجھ سے بھی غلطیاں ہوئیں،آپ کی کسی بھی سیا سی جما عت سے وابستگی ہو ، مجھے کو ئی لینا دینا نہیں ، مجھے صرف کام سے غرض ہے ،میں آپ کو پسند ہو ں یا نہیں مجھے سروکا ر نہیں مگر ہمیں قرضوں کے بوجھ سے نکلنے کے لیے خود کو بدلنا ہوگا اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو ترقی نہیں کر سکیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر ہمارے حکمران طبقے نے غریب کے پیسے پر عیاشی کی لیکن اب ہمیں انگریزوں کے شاہا نہ طرز زندگی کو چھو ڑ کر ملک کے لیے آگے بڑھنا ہو گا ۔ان کا کہنا تھا کہ تھوڑا سا مشکل وقت برداشت کریں، 2برس بعد بڑی بڑی تنخواہیں دیں گے، تنخواہ دار طبقے کو بچوں کی تعلیم کی فکر نہیں ہوگی۔علاوہ ازیں وزیراعظم ہاؤس سے جاری ا علامیہ کے مطابق جمعہ کو وزیراعظم عمران خان سے ترک وزیر خارجہ نے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور اہم ا مور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترکی کے وزیر خارجہ میولٹ شاوس اوگلونے ملاقات کے دوران نئی حکومت کو ترک صدر رجب طیب اردگان اور عوام کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور وزیراعظم عمران خان کو حالیہ عام انتخابات میں تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی۔ملاقات کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق عمران خان نے کہا کہ پاک ترک عوام مذہبی اور ثقافتی تعلقات میں بندھے ہیں، دونوں ممالک کی عوام کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہے،پاکستان اور ترکی نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا، دونوں ممالک مستقبل میں مضبوط تر شراکت داری قائم کرنے کے لیے درکار صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس موقع پر ترک وزیر خارجہ نے پاکستان کی خوشحالی کے لیے مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں باہمی تجارت بڑھانے پر بھی غور کیا گیا۔ ملاقات میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں ترکی کی سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔ دونوں ممالک نے اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت دیگر متعد دعالمی اور کثیرالطرفہ فورمز پر تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ دوسری جانب ٹائمز آف انڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے کہا ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات خارج از امکان ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کی حکومت مذاکرات کی تجدید چاہتی ہے تو اسے دہشت گردی کے محاذ پر کارروائی کرنی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نئی حکومت آنے کے باوجود کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی جاری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.