وزارت توانائی نے پری پیڈ میٹرز کے منصوبے کی مخالفت کردی

50

اسلام آباد (آن لائن) وزارت توانائی نے پری پیڈ میٹرز کے منصوبے کو پیسوں کا ضیاع اور بجلی چوری روکنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت شروع کردی‘ بجلی چوری کی بڑی وجہ ڈائریکٹ لائنیں ہیں جن کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے‘ پری پیڈ میٹرز پر بھاری رقم ضائع ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بجلی چوری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے موثر حکومت عملی اپنانے پر زور دیا تھا جس کے لیے حکومت نے وزارت توانائی پاور ڈویژن کو زیادہ لائنلاسز والے علاقوں میں صارفین کو پری پیڈ میٹر لگانے کی تجویز دی تھی تاکہ لائن لاسز میں کمی لانے کے ساتھ ہی گردشی قرضہ میں بھی کمی لائی جاسکے لیکن اس حوالے سے وزارت توانائی پاور ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پری پیڈ میٹرز کے لیے اربوں ڈالر درکار ہوں گے اور ابھی کوئی بھی کمپنی ملک میں پری پیڈ میٹر لگانے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی چوری تاروں کے ذریعے ہوتی ہے‘ اگر صارف کا میٹر لگا دیں اور وہ تاروں سے بجلی چوری کرے تو اس کا کیا حل ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پری پیڈ میٹر پیسوں کا ضیاع ہے‘ یہ صارفین کی آسانی کے لیے لگایا جاتا ہے کہ اسے بجلی بل جمع کروانے میں آسانی ہو لیکن چوری روکنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ