ذمے دار ہم مسلمان بھی ہیں 

150

محمد سمیع

سورہ یاسین میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ؐ کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے انہیں شاعری نہیں سکھائی اور نہ ہی یہ آپؐ کے شایان شان ہے۔ سورہ شعراء میں ارشاد ہوا کہ رہے شاعر تو ان کے پیچھے گمراہ لوگ پھرتے ہیں۔ ان شعراء کے بارے میں آگے فرمایا کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ یہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں۔ تاہم ان شعراء کو استثنیٰ دیا گیا کہ سوائے ان کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے دین میں شاعری کی کلی نفی نہیں کی گئی۔ ہمارے اکثر شعراء کا کلام بیش تر گل و بلبل کی داستانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں استثناعات بھی ہیں۔ مثلاً ہمارے ہاں ایسے شعراء بھی گزرے ہیں جنہوں نے قوم کی اصلاح کے لیے شاعری کی۔ ایسے بھی ہیں جن کو ترجمان القرآن کہا گیا۔ میں ان کے اسماء گرامی نہیں لے رہا کہ ہمارے وہ قارئین جن کو شاعری سے تھوڑا سا بھی شغف ہے، ان سے اچھی طرح واقف ہیں۔
شاعری میں ایک صنف نعت گوئی کی بھی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ؐ کے دور میں بھی نعت گو شاعر حسان بن ثابتؓ کا شہرہ تھا۔ لیکن آج کل نعت میں کچھ شرکیہ باتیں بھی آجاتی ہیں اور اب تو آرکسٹرا پر نعتیں گائی جارہی ہیں اور یہ آپؐ کی امت کے افراد کررہے ہیں حالاں کہ نبی کریم ؐ کا واضح ارشاد گرامی ہے کہ میں موسیقی کے آلات کو توڑنے کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔ پچھلے دنوں میں نعت سن رہا تھا۔ نعت خواں اگر اعظم چشتی مرحوم کی آواز میں ہو اور نعت کے بول بھی یہ ہوں ’’تجھ سا کوئی محبوب نہ ہوگا نہ کہیں ہے ‘‘تو دل پر پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ لیکن مجھ پر اس وقت جو کیفیت طاری ہوئی وہ مختلف تھی۔ ایسی ہی ایک نعت میں کہا گیا ہے کہ ’’تجھ سا کوئی محبوب زمانے میں نہیں ہے‘ دشمن کو بھی مسحور کیا تیری ادا نے‘‘۔ یہ بول بھی فوراً ذہن میں آئے۔ میں سوچنے لگا کہ ہم نبی اکرم ؐ کی محبوبیت پر شعر بھی لکھ سکتے ہیں اور اس کو خوشنما انداز میں گا بھی سکتے ہیں لیکن ان کی صفت محبوبیت کی اتباع سے قاصر ہیں۔ آپ اندازہ کریں کہ ہم نے نبی کریم ؐکی اس صفت کو اگر اختیار کرلیا ہوتا تو ہم سے دنیا کی کوئی قوم نہ نفرت کرتی اور نہ اس نفرت کے اظہار میں اس حد تک آگے بڑھ جاتی کہ محبوب ربّ العالمین ؐ کی توہین پر آمادہ ہو۔ آئے دن ہمیں کچوکے لگتے رہتے۔ ایک بار پھر ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں نبی کریم ؐ کے توہین آمیز خاکوں کی نمائش کا اہتمام کیا جارہا تھا۔ قہر درویش بر جان درویش کے مطابق اپنے اثاثوں کو آگ بھی ایسے موقعوں پر لگائے جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ چند دنوں تک چلتا ہے۔ اس کے بعد معاملہ سرد پڑ جاتا ہے۔ کچھ عرصے کے بعد توہین آمیزی کی کوئی نئی صورت سامنے آجاتی ہے۔ مغربی اقوام کے لوگ جو اس قسم کی توہین آمیز حرکتیں کرتے ہیں ان کی اس حماقت کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے دلوں سے نبی کریم ؐ کی محبت کو نکالنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ نبی کریم ؐ سے محبت ان کے ایمان کا حصہ ہے جو کبھی ان کے دلوں سے نہیں نکالا جاسکتا۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہمیں اس کا احساس نہیں کہ اس صورت حال کے ذمے دار ہم بھی ہیں۔ بلکہ ہم زیادہ ہیں کیوں کہ اسلام دشمن قوتوں کے لوگ جو کچھ کررہے ہیں، ان سے اسی بات کی توقع ہے۔ البتہ ہم سے اس بات کی توقع ہرگز نہیں کی جاسکتی کہ ہم اس جرم کا حصہ بنیں خواہ یہ غیر شعوری طور پر کیوں نہ ہو۔ ہم مسلمان ہیں، نبی کریم ؐ کے امتی ہیں۔ ہم سے ہمارے ربّ کا بتکرار تقاضا ہے کہ ہم رسول اللہ ؐ کی اطاعت کریں بلکہ اس نے آپؐ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔ ہم ایک امتی کی حیثیت سے نبی کریم ؐ سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اتباع رسول ؐ کی صورت میں ہمیں جو اعزاز بخشا ہے اس کو بھی شعوری طور پر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو نبی کریم ؐ کی اتباع کرو، اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا۔ اللہ ہمارا عاشق بن جائے اس کا بندے تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہم پر تو نبی کریم ؐ کی اطاعت جو لازم ہے، بھاری ہے۔ اتباع کے لیے تو حکم کی ضرورت نہیں ہوتی، اس کا جذبۂ محرکہ تو رسول اللہ ؐ سے محبت ہوتی ہے۔ ہم نبی کریم ؐ سے محبت کے بلند بانگ دعوے تو کرتے ہیں لیکن اگر کبھی سنجیدگی سے اپنا جائزہ لیں تو ہمیں ہماری حیثیت اس جعلی مجنوں کی سی نظر آئے گی جس کی درخواست پر لیلیٰ اسے روزانہ دودھ بھیج دیا کرتی تھی لیکن جب اسے ایک دن یہ شبہ ہوا کہ یہ مجنوں جعلی لگتا ہے تو اس نے اس مجنوں کو دودھ کے بجائے خالی پیالہ بھیج دیا اس گزارش کے ساتھ کہ اسے اپنے خون سے بھرکر بھیج دو تو مجنوں نے کہا کہ میں تو دودھ پینے والا مجنوں ہو، خون دینے والا مجنوں تو کوئی اور
ہے۔ خون دینے والے مجنوں یعنی صحابہ کرامؓ نے تو محبت کا حق اداکر کرنے میں کیا کیا نہ کیا یہ سب ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن ہمارے لیے یہ بہت مشکل بات ہے۔ اس کے مظاہر تو کبھی کبھی نظر آتے ہیں۔ ہم جب تک نبی کریم ؐ کے جان نثار مجنوں نہیں بنتے، یہ سلسلہ ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ اس کا واحد حل اتباع رسول ؐ ہے۔ ہمارے علماء کرام نماز جمعہ کے خطبات میں اتباع رسول ؐ کے بارے میں گفتگو تو کرتے ہیں لیکن ضروری ہے کہ اتباع رسول ؐ کی ناگزیریت ان توہین آمیز حرکات کے تناظر میں بیان کرکے ہم میں سے ہر ایک کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں کہ اتباع رسول کو اپنے اوپر لازم کرلیا جائے جس کے نتیجے میں نفرتیں دلوں سے دور ہوں گی۔ ہم تو اب تک فرقہ واریت کے فروغ کے نتیجے میں ایک دوسرے کے خلاف ہمارے دلوں میں نفرتیں پیدا ہوگئی ہیں اس کو ختم کرنے سے قاصر ہیں۔ ان نفرتوں کو بنیاد بناکر اغیار ہمارے درمیان انتہا پسندی اور دہشت
گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ کیا وقت نہیں آیا کہ ہم میں سے ہرشخص آئیڈیل مسلمان بننے کی کوشش کرے۔ بظاہر یہ محال نظر آتا ہے لیکن اس کی کوششوں کا آغاز تو ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ عنکبوت کی آخری آیت میں فرمایا ہے کہ جوہمارے راستے میں جہاد کرتے ہیں، ہم ان کے لیے اس راستے کی ہدایت عطا کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان خبیث حرکتوں کی بہت سی دوسری وجوہ بھی ہیں لیکن بنیادی مسئلہ یہی ہے۔ اس مسئلے کے حل کی طرف اگر قدم بڑھایا جائے تو اللہ تعالیٰ یقیناًہماری مدد فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کے مجھ سمیت ہر شخص کو اس راہ پر گامزن ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ