(یوم ِتحفظ ِختم ِنبوت (یوم ِقرار داد ِ اقلیت

156

عبداللطیف خالد چیمہ

1857 ء کی جنگ ِ آزادی میں مسلمانوں کے ’’جذبہ جہاد ‘‘کے تجزیے کے لئے بر طانوی تھنک ٹینکس بیٹھے اور ’’ہندوستان میں برطانوی سلطنت کا وُرود‘‘ (The arrival of British Empire in India ) کے عنوان سے ایک رپورٹ تیار کی گئی جو انڈیا آفس لائبریری ) لندن(میں آج بھی موجود ہے اس کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے !
’’ ملک ) ہندوستان ( کی آبادی کی اکثر یت اپنے پیروں یعنی روحانی پیشوائوں کی اندھا دھند پیروی کرتی ہے ۔اگر اس مرحلے پر ہم ایک ایسا آدمی تلاش کرنے میں کا میاب ہو جائیں جو اس بات کے لئے تیار ہو کہ اپنے لئے ’’ظلی نبی ‘‘(Apostolic Prophet) ہونے کا اعلان کردے تو لوگوں کی بڑی تعداد اس کے گرد جمع ہو جائے گی لیکن اس مقصد کو سر کاری سر پرستی میں پروان چڑھا یا جا سکتاہے ۔ہم نے پہلے بھی غداروں ہی کی مدد سے ہندستانی حکومتوں کو محکوم بنایا ۔ہمیں ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ملک میں داخلی بے چینی پیدا ہو سکے ۔‘‘
مرزا غلام احمد قادیانی کوکھڑا کرکے ہندوستان میں مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے سامراجی استعمار کوجو کچھ مطلوب تھا وہی کام لیا گیا لیکن ہندوستان کے تمام دینی طبقات نے مرزا غلا م احمد قادیانی کی تعلیمات اور تصنیفات کا بغور جائزہ لے کر اس کے حقیقی کفرکی حقیقت سے دنیا کو آگاہ کر دیا ۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر پر سب سے پہلا فتویٰ کفر علمائے لدھیانہ نے دیا تمام مکاتب فکر کی رائے اور فتویٰ ایک تھا ،ڈاکٹر علامہ اقبال مرحوم اور مولانا ظفر علی خاں مرحوم نے اپنی بہترین صلاحیتوں سے منکرین ِ ختم ِنبوت کے عقائد کو بے نقاب کیا 21 تا 23 اکتوبر 1934 ء کو قادیان میں پہلی احرار تبلیغ کانفرنس کا انعقاد اور اس میں ہندوستان کی چوٹی کی مذہبی قیادت کی شرکت مجلس احرار ِاسلام کے شعبۂ تبلیغ تحفظ ختم ِنبوت کا وہ جرأت مندانہ تاریخی اقدام تھا جس نے پوری دنیا کے سامنے قادیانیت کو بے نقاب کردیا اور خود برٹش ایمپائر پریہ واضح ہوگیا کہ یہ کام اِتنا آسان نہیں ہے کہ اقتدار اور دولت کے زور پر جھوٹی نبوت کو اسلام کے نام پر متعارف کر ایا جاسکے !
پاکستان بننے لگا تو قادیانیوں نے بائونڈری کمیشن میں ضلع گورداسپور کو شامل نہ کرنے کی سازش کی تکمیل کے لیے ہر حربہ اختیار کیا تاکہ پاکستان کے لیے کشمیر جانے کا راستہ باقی نہ رہے ،1949 ء میں پاکستانی فوج نے پونچھ پر قبضہ کرکے سری نگر کی طرف پیش قدمی کرنے کی پوری تیاری کرلی تھی پاکستان کا نصف توپ خانہ پونچھ کے قریب جنگل میں موجود تھا بھارتی وزیر اعظم نے بر طانوی وزیر اعظم سے مدد طلب کی توقادیانی وزیر خارجہ چودھری ظفر اللہ خاں نے بر طانیہ کی مدد کرتے ہوئے لیاقت علی خاں کو حملہ روکنے پر راضی کر لیا جس سے دفاعی حلقے سخت پریشان ہوگئے حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمتہ اللہ علیہ نے قادیانی عقائد وعزائم سے لیاقت علی خاںکی حکومت کو آگاہ کیا ۔
پاکستان بننے کے بعد فتنہ مرزائیہ نے یہاں اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کی بلکہ مرزا محمود کو خواب میں بھی بشارتیں مل چکی تھیں کہ صوبہ بلوچستان عنقریب مرزائی اسٹیٹ ہوگا اسی لیے ’’بائیس جولائی ۱۹۴۸ء کو وہ ایک سیاسی مقصد کی تکمیل کے لیے بلوچستان گئے جہاں ایک خفیہ آزاد بلوچستان کی تحریک چل رہی تھی جس کو برطانیہ کی پشت پناہی حاصل تھی انہوں نے بلوچستان کو ایک قادیانی صوبہ بنانے کا اعلان کیا تاکہ اسے بیس بنا کر پاکستان کے دوسرے علاقوں میں سرایت کیا جائے ‘‘۔ (تحریک احمد یت ،یہودی وسامراجی گٹھ جوڑ: 539 )
مرزا محمود کی تقریر جو کہ بلوچستان کو ایک احمدی اسٹیٹ بنانے سے متعلق تھی جو ’’الفضل ،لاہور،بابت 13اگست1948 ء میں شائع ہوئی اس کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے اور آج کے بلوچستان خصوصاً پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے تناظر میں بھی دیکھ لیجیے :
’’برٹش بلوچستان ،جواب پاک بلوچستان ہے ۔کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے یہ آبادی اگرچہ دوسرے صوبوں کی آبادی سے کم ہے مگر بوجہ ایک یونٹ ہونے کے اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے دنیا میں جیسے افراد کی قیمت ہوتی ہے یونٹ کی بھی قیمت ہوتی ہے مثال کے طور پر امریکہ کا کانسٹی ٹیوشن ہے وہاں اسٹیٹس سینٹ کے لیے اپنے ممبر منتخب کرتی ہیں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کسی اسٹیٹ کی آبادی دس کروڑ ہے یا ایک کروڑ ہے، سب اسٹیٹس کی طرف سے برابر ممبر لیے جاتے ہیں غرض پاک بلوچستان کی آبادی پانچ چھ لاکھ ہے اور اگر ریاستی بلوچستان کو ملا لیا جائے تو اس کی آبادی دس لاکھ ہے لیکن چونکہ یہ ایک یونٹ ہے اس لیے اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے زیادہ آبادی کو تو احمدی بنانا مشکل ہے لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں ،پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلد ی احمدی بنایا جاسکتا ہے ۔۔۔یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ہماری (Base) مضبوط نہ ہو پہلے بیس مضبوط ہو تو پھر تبلیغ بھی پھیلتی ہے بس پہلے (Base) مضبوط کرلو ،کسی نہ کسی جگہ اپنی (Base) بنا لو ،کسی ملک میں ہی بنا لو ۔۔۔اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم ازکم ایک صوبہ تو ایسا ہوجائے گا جسے ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے اور یہ بڑی آسانی کے ساتھ ہوسکتا ہے ‘‘۔(تحریک احمد یت ،یہودی وسامراجی گٹھ جوڑ:543)
مرزا بشیر الدین محمود نے 1952 ء کو قادیانیوں ) احمدیوں( کا سال قرار دیا اور بلوچستان کو احمد ی صوبہ بنانے کا اعلان کیا ،چودھری ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ نے بیرون ممالک پاکستانی سفارت خانوں کو قادیانی تبلیغ کے اڈوں میں بدل کر رکھ دیا اور کراچی کے ایک جلسۂ عام میں احمدیت کو زندہ اور اسلام کو مردہ مذہب قرار دیا ۔
چوہدری ظفر اللہ خاں نے کراچی کے جلسئہ عام میں کہاکہ ’’احمدیت ایک ایسا پودا ہے جواللہ تعالیٰ نے خود لگایا ہے ،اب وہ جڑ پکڑ گیا ہے ۔اگر یہ پودا اُکھاڑدیا گیا ، تو اسلام ایک زندہ مذہب کی حیثیت سے باقی نہ رہے گا ، بلکہ ایک سُو کھے ہوئے درخت کی مانند ہو جائے گا اور دُوسرے مذاہب پر اپنی برتری کا ثبوت مہیا نہ کر سکے گا ۔(بحوالہ بیان خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان منیر انکوائری کمیشن ،از تحقیقاتی رپورٹ اُردو متن صفحہ نمبر77 )
اِس حوالے سے انتہائی گھمبیر اور خطرناک صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے مجلس احرار ِاسلام نے مشائخ وعلماء کرام وزعماء جماعت اسلامی دیو بندی بریلوی اہلحدیث اور شیعہ مکاتب ِ فکر کو کُل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم ِنبوت کے پلیٹ فارم پر یکجا کر کے حکومت کو اپنے مطالبات پیش کیے ،-1لاہوری و قادیانی مرزا ئیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے -2 کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو ہٹایا جائے اور چودھری ظفر اللہ خاں سے وزارت ِ خارجہ کا قلمدان واپس لیا جائے۔ حکومت نے مطالبات منظور کرنے کی بجائے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور تحریک تحفظ ختم ِنبوت کو کچلنے کے لئے ریاستی تشدد کی انتہا کردی قادیانی تنظیم فرقان بٹا لین نے فوجیوں کی وردی پہن کر عاشقان ِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر گولیاں چلائیں کراچی ، لاہور ،کوئٹہ ،ملتان ،ساہیوال ،فیصل آباد ،گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میںہزاروں فرزندانِ توحید کے خون سے ہاتھ رنگے گئے مال روڈ لاہور پر لاشوں کے ڈھیر لگ گئے جزوی مارشل لاء کا جبر پاکستان میں سب سے پہلے تحریک تحفظ ِختم ِنبوت پر آزمایا گیا ،سید ابو الاعلیٰ مودودی کے خلاف مارشل لاء کے ضابطہ نمبر8 اور تعزیرات کی دفعہ 153 ۔ الف کے تحت مقدمہ چلایا گیا ۔جرم یہ تھا کہ انہوں نے قادیانی نامی پمفلٹ لکھا تھا،اس پر مولانا کو سزائے موت سنا ئی گئی لیکن حکمران سزائے موت دینے کا حوصلہ نہ کر سکے،شورش کاشمیری مرحوم لکھتے ہیں کہ اگر اس وقت کے سیاسی حکمران مارشل لاء کی مشق نہ کرتے تو ملک اس حال کو نہ پہنچتا جس حال کو بعد میں پہنچا اور نہ جمہوری سیاست ہی اس طرح پامال ہوتی۔ (تحریک ختم نبوت طبع اول صفحہ نمبر149 )
یہ سب کچھ شریعت ِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر معرض وجود میں آنے والی مملکت میں حاجی نماز ی حکمرانوں کے ہاتھوں سے ہوا۔ تب حضرت امیر شریعت سید عطا ء اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ اس تحریک کے ذریعے میں ایک ٹائم بم نصب کر رہا ہوں جو اپنے وقت پر پھٹے گا ۔تحریک مقدس تحفظ ِ ختم ِنبوت کی پاداش میں مجلس احرار ِاسلام کو خلاف ِ قانون قرار دے دیا گیا اور دفاتر سیل کر دئیے گئے ۔زُعما ئے ختم ِنبوت اور احرار رہنما اس راستے میں سب کچھ سہہ گئے مگر اپنے کیے پر کسی ندامت کا اظہار نہیں کیا معافیاں نہیں مانگیں ،تحریک سے لاتعلقی ظاہر نہیں کی ،جسٹس منیر کی عدالت میں اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے ،حکمت، دانائی اور حیلے کے ساتھ تحفظ ختم ِنبوت کے کام کو جاری وساری رکھنے کے لئے 1954 ء میں مجلس تحفظ ِختم ِنبوت کا مبارک قیام عمل میں لایا گیا 1958 ء میں احرار سے پابندی اٹھی تو حضرت امیر شریعت مرحوم نے ملتان میں سرخ قمیض پہن کر اور جماعت کا بیج سجا کر پرچم کشائی کرکے جماعت کی بحالی کا باضابطہ اعلان فرمایا ،احرار وختم ِنبوت کا یہ قافلہ سخت جاںرواں دواں رہا کہ -29 مئی 1974 ء کو اسلامی جمعیت طلباء اور نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء اپنے سیاحتی سفر سے واپس آرہے تھے کہ ربوہ اسٹیشن پر مرزائی غنڈوں نے ٹرین کی اس بوگی پر حملہ کردیا جس پر طلباسوار تھے ۔لہولہان طلباکی ٹرین فیصل آباد ریلوے اسٹیشن پہنچی تو مجلس تحفظ ختم ِنبوت کے رہنما حضرت مولانا تاج محمود کے علاوہ مولانا محمد ضیاء القاسمی اور دیگر زعماء نے طلباکی دلجوئی کی مولانا تاج محمود نے طلباسے مخاطب ہوکر فرمایا ! میرے عزیز طلباتمہارے خون کے ایک ایک قطرے کا مرزا ئیوں سے حساب لیا جائے گا چنانچہ مجلس تحفظ ختم ِنبوت کے امیر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمتہ اللہ علیہ کی امارت اور مولانا مفتی محمود ،مولانا شاہ احمد نورانی ، مولانا غلام غوث ہزاروی ،مولانا عبید اللہ انور ، مولانا عبدالستار نیازی ،حکیم عبدالرحیم اشرف ،نواب زادہ نصر اللہ خاں ،سید ابومعاویہ ابو ذر بخاری ،پروفیسر عبدالغفور احمد ،حضرت مولانا خواجہ خان محمد ،مولانا محمد شریف ،سید محمود احمد رضوی ،آغا شورش کاشمیری ، سید مظفر علی شمسی ،مولانا عبدالقادر روپڑی ،مو لانا عبیدا للہ احرار ، چودھری ثناء اللہ بھٹہ ،علامہ احسان الہٰی ظہیر ،سید عطاء المحسن بخاری ،سیدعطاء المومن بخاری ،سیدعطاء المہیمن بخاری ،مولانا زاہدالراشدی ،قاری عبدالحیٔ عابداور دیگر حضرات ومشائخ کی قیادت میں تحریک تیزی کے ساتھ آگے بڑھتی گئی ،ملک بھر میں احتجاج اور مظاہرے زور پکڑ گئے متعدد مقامات پر گرفتاریوں اور ریاستی تشدد کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ بڑھتا گیا ہفت روزہ ’’چٹان ‘‘ اور مجلس احرار ِاسلام نے قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کی مہم تیز کردی ۔پنجاب اسمبلی میں حزب ِ اختلاف کے ارکان نے سانحہ ربوہ کے حوالے سے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے انہیں کلیدی عہدوں سے الگ کیا جائے اور ربوہ ریلوے اسٹیشن کے سانحہ کی تحقیقات اعلیٰ سطح پر ہو مجرموں کو عبرت ناک سزا دی جائے اس بحث میں چودہ ارکان نے حصہ لیا اور علامہ رحمت اللہ ارشدقائد حزب ِ اختلاف نے قادیانیت کا حقیقی تجزیہ کیا یکم جون کو مسٹر جسٹس کے ایم صمدانی نے سانحہ ربوہ کے دائرہ کار کا اعلان کیا مسٹر محمدحنیف رامے نے ایک بیان میں کہا کہ تحقیقا تی رپورٹ کے مطابق سانحہ ربوہ کے کسی مجرم کو معاف نہیں کیا جائے گا جبکہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تحقیقاتی رپوٹ کا انتظار کریں ، چودھری ظہور الٰہی نے سانحہ ربوہ پر قومی اسمبلی میں تحریک التوا پیش کی ،احتجاج ملک کے طول وعرض حتیٰ کہ دیہا توں تک پھیل گیا 14 جون کو مجلس عمل کے مطالبات کے حق میں مثالی ہڑتال ہوئی -23 جون کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کیا کہ حکومت قادیانی مسئلہ کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا چاہتی ہے -28 جون کو جامعہ الازہر مصرنے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا فتویٰ جاری کیا ۔تحریک کے دوران آغا شورش کاشمیری اور سید عطا ء المحسن بخاری کو گرفتار کر لیا گیا ۔-21 اگست کو صمدانی ٹر یبونل نے اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کردی -25 اگست تک مرزا ناصر احمد پر قومی اسمبلی میں 11 دن کی بحث مکمل ہوگئی، جمعیت علماء اسلام ) ہزاروی گروپ ( کے سر براہ بطل ِ حریت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی مرحوم نے قومی اسمبلی میں الگ سے محضر نامہ پیش کیا ۔
’’مولانا غلام غوث ہزاروی ) مرحوم ( نے فرمایا جب قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے بارے میں بحث ہو رہی تھی اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے ایوان اور ایوان سے باہر مطالبات زوروں پر تھے اسی دوران چند قادیانی خواتین بیگم نصرت بھٹو سے ملنے آئیں اور سفارشات کا انبار لگا دیا۔ بھٹو صاحب کو روکیں کہ مولویوں کی بات سن کر ہمیں غیر مسلم اقلیت قرار نہ دیں ۔ہم کلمہ پڑھتے ہیں۔ نماز پڑھتے ہیں ۔روزہ رکھتے ہیں ۔ملک کے لیے ہماری خدمات واضح ہیں۔ دیکھیں پرائم منسٹر صاحب سے سفارش کریں کہ وہ علماء کی باتوں میں نہ آئیں ۔یہ اقدام ان کے لیے اچھا ہے نہ ملک و قوم کے لیے بیگم نصرت بھٹو نے انکی یہ گفتگو سنی اور پھر وزیر اعظم صاحب سے الجھ پڑیںکہ یہ آپ کیا کرتے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے ۔ بس ایسام کام نہ کریں کہ کل کو دنیا میں رسوائی اور جگ ہنسائی کا باعث بنے ۔میں یہ کام ہرگز آپ کونہیں کرنے دوں گی۔ یہ تو ان لوگوں پر بڑا ظلم ہو گا ۔حتیٰ کہ رات بھر دونوں میاں بیوی کی تکرار ہوئی ۔صبح کو ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے حضرت مولانا ہزاروی کو فون کیا اور کہاکہ آپ سے ایک ضروری کام ہے جلد تشریف لائیں۔مولانا مرحوم نے مدرسہ فرقانیہ کوہاٹی بازار راولپنڈی میں علماء کا اجلاس بلایا ہواتھا۔آپ نے فرمایا کہ بھٹو صاحب میں مصروف ہوں علماء کرام آئے ہیں ۔یہاں ایک ضروری میٹنگ ہو رہی ہے ۔اس لیے میں آنے سے معذرت خواہ ہوں ۔بھٹو مرحوم نے کہاکہ مولانا صاحب یہاں اس سے بھی (Important Meeting) ہے ۔آپ جلد تشریف لائیں۔ میں انتظار کررہاہوں۔اس پر مولانا ہزاروی بھٹو مرحوم کے ہاں پرائم منسٹر ہائوس پہنچے ۔دیکھا تو بھٹو صاحب انتظار میں تھے۔
ملاقات ہوئی تو کہنے لگے مولانا صاحب ! کل بیگم صاحبہ کے پاس قادیانی عورتیں آئی تھیں ۔انہوں نے آکر اسے بڑا ورغلایا ہے کہ دیکھیں بھٹو صاحب ہمیںمولویوں کے کہنے پر غیر مسلم اقلیت قرار دے رہے ہیں ۔حالانکہ ہم مسلمان ہیں۔ کلمہ پڑھتے ہیں ۔نماز پڑھتے ہیں۔روزہ رکھتے ہیںاور ملک و قوم کے لیے ہماری خدمات سب کو معلوم ہیں،اس لیے بھٹو صاحب کو روکیں کہ وہ مولویوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔ورنہ ان کی خیر نہیں ہوگی۔اب یہ رات بھر سے میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے ۔ نہ خود سوئی ہے نہ مجھے سونے دیا ۔اس لیے میں نے آپ کو زحمت دی ہے کہ آ پ بیگم صاحبہ کو ختم ِنبوت اور قادیانیت کے حوالے سے کچھ بتائیں ۔کیونکہ میں آپ کو نیک دل اور خدا پرست عالم سمجھتا ہوں ۔کوئی لالچ یا بغض آپ کے دل میں نہیں ہوتا۔اس لیے آپ بیگم صاحبہ کو اس مسئلہ کی حقیقت سمجھائیں۔مولانا غلام غوث ہزاروی نے کہاکہ میں جناب بھٹو اور بیگم بھٹو صاحبہ تینوں اپنی اپنی نشستوںپر بیٹھ گئے ۔تو میںنے عقیدۂ ختم ِنبوت ،قرآن حکیم ،حدیث ،اجماع اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ارشادات کی روشنی میں پوری طرح واضح کیا اور مرزا قادیانی کی تاریخ ،اس کے دعاوی باطلہ ،اس کی اسلام دشمنی ،انگریز سے وفاداری کی تاریخ ،اس کا مکرو فریب ،سب کچھ بتایا ۔مولانا نے فرمایا کہ میری بعض باتیں بھٹو بیگم صاحبہ کو سمجھاتے رہے ۔جب ساری گفتگو ختم ہو چکی تو بیگم بھٹو نے کہاکہ یہ تو بہت گندے ہیں۔مجھے تو ان کے بارے میں علم نہیں تھا ۔مگر مولانا دیکھیں اسلام میں پردے کا کیا حکم ہے اور میں پردہ سے نہیں ہوں تو کیا میں بھی کافر ہوں ؟ اس پر مولانا نے فرمایا ! محترمہ جب تک آپ اسلام کے بنیادی عقائد کا انکار نہ کریں یا پھر ان کا مذاق نہ اُڑایں تو صرف گناہ کرنے سے کوئی کافر نہیں ہوتا ۔گناہ سے انسان صرف گناہگار ہوتاہے ۔اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ ۔اگر آپ پر دے کا انکار کریں کہ میں اس کو نہیں مانتی یا اس حکم کا مذاق اڑائیں ۔تو تب آپ کافر ہو جائیں گی۔بہر حال کفر اور ایمان کا مسئلہ جدا ہے اور فِسق و فجور گناہ کا معاملہ علیحدہ ہے ۔بیگم بھٹو نے کہامولانا توبہ ،آخر مرنا ہے ۔میں اپنے آپ کو گناہ گار سمجھتی ہوں ۔اللہ معاف کرے ۔اس کے بعد بیگم بھٹو نے بھٹو مرحوم سے اسی نشست میں کہاکہ بھٹو صاحب مجھے قادیانیوں کے بارے میں اب پتہ چلا ہے کہ ان کی اصلیت کیا ہے۔اس لیے اس مسئلے کو لٹکائے بغیر فی الفور حل کریں اور فتنے کا جلد تدارک کریں۔ اس پر وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹونے مولانا ہزاروی کا بہت شکریہ ادا کیا اور یوں یہ نشست اپنے اختتام کو پہنچی ۔‘‘
کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم ستمبر کو بادشاہی مسجد لاہور میں فقیدالمثال اجتماع منعقد ہوا ،جس نے صورتحال کو فیصلہ کنُ مرحلہ میں داخل کردیا، -7 ستمبر کو 4 بجکر 35 منٹ پر لاہوری وقادیانی مرزا ئیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے قائد ایوان کی حیثیت سے 27 منٹ تک تقریر کی بعد ازاں سینٹ نے تو ثیق کی وزیر اعظم بھٹو نے اپنی تقریر میں کہا کہ منکرین ِ ختم ِنبوت کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ پوری قوم کی خواہشات کا آئینہ دار ہے اس مسئلہ کو دبانے کے لئے 1953 ء میں ظالمانہ طور پر طاقت استعمال کی گئی،اِس فیصلے پرنہ صرف پورے ملک بلکہ بیرون ممالک بھی پر ُ جوش خیر مقدم کیا گیا حضرت امیر شریعت مرحوم کی قبر پر ملک بھر سے ختم ِنبوت کے پر وانے دعائے خیر کے لئے کئی دن تک پہنچتے رہے لوگوں کا تانتا بندھا ررہتا قبر پر دعائے خیر کے بعد قافلے سید ابو ذربخاری مرحوم کی قیام گاہ) تغلق روڈ ملتان (پر حاضری دیتے اور دعائیں لیتے ،27 فروری 1976 ء کو ربوہ میں پہلے باضابطہ اسلامی مرکز ’’ جامع مسجد احرار کے سنگ بنیاد کی تقریب اور ربوہ میں داخلے کا اعلان ہوا پورے ملک میں لوگوں کا سیلاب امڈ آ یا۔ چھ ضلعوں کی پولیس نے ناکہ بندی کرکے لوگوں کو روک لیا مولانا غلام غوث ہزاروی ایم این اے نے خصوصی شرکت کی ،سید ابو معاویہ ابو ذر بخاری اور سید عطاء المحسن بخاری کوربوہ سے گرفتار کر لیا گیا پنجاب اسمبلی میں اپو زیشن نے اس پر صدائے احتجاج بلند کی1984 ء میں کُل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم ِنبوت کے مشترکہ پلیٹ فارم سے حضرت مولانا خواجہ خان محمد مرحوم کی قیادت میں تحریک چلی اور صدر محمد ضیاء الحق مرحوم نے قادیانیوں کو اسلامی شعائر کے استعمال سے روکنے کے لئے -26 اپریل 1984 ء کو امتناع قادیانیت آر ڈنینس جاری کیا جو بعد میں تعزیرات ِ پاکستان کا حصہ بنا۔ اب چنا ب نگر ) ربوہ( میں مجلس احرار ِاسلام کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم ِنبوت ،انٹر نیشنل ختم ِنبوت موومنٹ کے مراکز اور دیگر ادارے کام کررہے ہیں جبکہ متحدہ تحریک ختم ِنبوت رابطہ کمیٹی کے نام سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم بھی تقریباََ آٹھ سال سے متحرک ہے ۔قادیانی اسمبلی کی آئینی قرار دا دِ اقلیت اور قانون تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے سے انکاری ہیں ملکی وبین الاقوامی سطح پر قوانین کے خلاف مسلسل لابنگ کررہے ہیں بعض سر کاری وزراء اور قادیانی جماعت مل کر ہیومن رائٹس کمیشن ،انسانی حقوق کے ادارے اور غیر ملکی ایجنڈے اور بیرونی سرمائے پر چلنے والی این جی آوز بچے کھچے اسلامی تشخص کو ختم کرانے کے لیے پوری قوت سے سرگرم عمل ہیںاقتدار کے ایوانوںکی بالکو نیوں میں قادیانی براجمان ہیں ،نواز شریف نے قادیانیوں کو بھائی قرار دیا تھا الطاف حسین قادیانیوں کومسلمانوں کی صفوں میں لاکھڑا کرنے کے لئے بے تاب نظر آتے ہیں ۔تحریک انصاف قانون توہین رسالت کے خلاف مہم کی اندرون خانہ حمایت کررہی ہے، شہباز شریف قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کو نو جوانوں کا آئید یل قرار دے چکے ہیں،پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور ِ حکومت میں ایف آئی اے جیسے اہم عہدے پر سکہ بند قادیانی انور ورک کو مسلط کردیا گیا، طارق فتح نامی سکہ بند قادیانی بلوچستان میں علیحد گی پسندی کی تحریک کو آگے بڑھا رہاہے ،اکثر سیاستدان مصلحت بینی کا بُری طرح شکار ہو کر اپنی اصل کو بھو ل چکے ہیں اور اسلام کے نفاذ کے نام پر معرض وجود میں آنے والی مملکت خداداد پاکستان میں قادیانی اِرتداد ی سر گر میاں تیزی سے جاری ہیں ،چناب نگر ) ربوہ ( میں قادیانی تسلط قائم ہے اور وہاں مسلم اداروں اور مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے 15 ۔مارچ 2011 ؁ء کو چناب نگر کے صحافی رانا ابرار حسین کو اس لیے شہید کردیا گیا کہ وہ قادیانی ظلم ودہشت گردی کو بے نقاب کرتے تھے ،ملک میں اگر غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں تو یہ بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ ملک میں فرقہ واریت اور دہشت گردی کے بے شمار واقعات میں قادیانی ذہن یا پیسہ کام کررہا ہوتا ہے چند ماہ پہلے سندھ میں ضلع بدین کے علاقہ قائد آباد میں قادیانی گروہ کے 24کارندے گرفتار ہوئے جو عید الفطر کے موقع پر کسی بڑی دہشت گردی کی تیاری کررہے تھے کہ ان کی ڈیوائس پھٹ گئی جس سے قادیانی دہشت گرد عمران گرفتار ہوا اور اس کی نشاندہی پر مزید 23 قادیانی دہشت گرد گرفتار کیے گئے ۔(روزنامہ امت ،کراچی :2 جولائی 2016ء) تعلیمی ورفاہی کاموں کی آڑ میں قادیانیت کی تبلیغ کے راستے ہموار کیے جارہے ہے امریکہ ومغربی ممالک اور افریقی ممالک کے علاوہ پوری دنیا میں حتیٰ کہ جدہ میں قادیانی اپنی ٹیکنیک سے کام کر رہے ہیں اور ہم ابھی تک روایتی کام کے دائرے سے باہر نکل کر صورتحال کا حقیقی ادراک کرنے کیلئے تیار نہیںپرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر کچھ لوگ قادیانیوں کا حق الخدمت ادا کر رہے ہیں ایسے میں زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ تحفظ ختم ِنبوت کے محاذکی تمام جماعتیں ،ادارے اور شخصیات لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھیں اورممکن حد تک تر جیحات طے کرنے میں باہمی مشاورت سے کا م لیں ! اللہ تعالیٰ ہم سب کو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت و ختم ِنبوت کے لئے متفق ومتحد ہو کر حقیقی کام کی تو فیق سے نوازیں ،امین یارب العالمین !

Print Friendly, PDF & Email
حصہ