چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نوٹس لیں

41

سپر ہائی وے انڈسٹریل ایریا میں واقع کرشنگ پلانٹ کے مزدور سلیم شہزاد نے 7 اگست کو واجبات نہ ملنے پر اسلحہ کے زور پر مزدوروں کو یرغمال بنایا اور بعد میں گرفتاری دے دی۔ پولیس نے دہشت گردی ایکٹ اور اسلحہ ایکٹ کے حوالے سے مقدمات درج کرلیے۔ جب مزدوروں کو واجبات نہیں ملیں گے تو وہ کہاں جائیں۔ مزدور مسائل حل کرنے کے لیے محکمہ محنت سندھ قائم ہے لیکن اس کی کارکردگی مذکورہ واقع سے کھل کر سامنے آگئی۔ محکمہ محنت کے لیبر انسپکٹر کیا کرتے ہیں، فیکٹریوں میں لیبر قوانین کا اطلاق کروانا محکمہ محنت کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی مزدور داد رسی کے لیے محکمہ محنت سندھ سے رجوع کرتا ہے تو کاغذی اور زبانی کارروائی ہوجاتی ہے لیکن مزدور کو انصاف نہیں ملتا۔ جب مزدور کو انصاف نہیں ملے گا تو وہ غیر قانونی کاموں پر مجبور ہوجائے گا۔اس کے علاوہ آئے دن کارخانوں میں حادثات ہوتے ہیں، اب زیادہ تر کارخانوں کی
عمارتیں اس طرح بنی ہوئی ہیں کہ آگ لگنے کی صورت میں مزدور کارخانہ سے باہر کس طرح جائیں۔ مزدور مسائل حل کرنے کے حوالے سے حکومتی سطح پر مکمل خاموشی ہے۔ جب کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے تو مختلف محکموں کے افسران جاگ جاتے ہیں اور کاغذی کارروائی شروع ہوجاتی ہے۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ مذکورہ واقع کا نوٹس لیں۔ واجبات لینے کے لیے پولیس نے دو مقدمے قائم کرلیے، کیا اب علاقہ پولیس مزدوروں کو واجبات دلوائے گی، اگر مزدور علاقہ پولیس سے مزدور مسائل حل کرنے کی درخواست کرتے ہیں تو پولیس والے ٹہلاتے ہیں کہ ہمارا کام امن وامان سے ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ