امریکا کی دوستی، جی کا جنجال

164

پاکستان اور چین کے تعلقات تو ہمیشہ سے بڑے گہرے ہیں اور ان کے بارے میں پہاڑوں کی بلندی اور سمندروں کی گہرائی سے تشبیہ دی جاتی ہے امریکا کو چین تک پہنچانے کا سہرا بھی پاکستان کے سر ہے۔ مگر اب چین سے بڑھتے ہوئے تعلقات ہی پر امریکا نے پاکستان کو سزا دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں نے کبھی اس حقیقت کو تسلیم نیں کیا کہ امریکا دوستی کے نقاب میں پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ ایوب خان کے دور میں امریکا کی محبت ہی میں سوویت یونین سے تعلقات کشیدہ ہوئے۔ ایوب خان نے بڈھ بیر کا اڈا امریکاکے حوالے کردیا تھا جہاں سے اس کے یو2- جاسوس طیارے اڑ کر روس کی جاسوسی کیا کرتے تھے۔ روس کی دھمکی پر یہ سلسلہ بند ہوا۔ لیکن پھر اس سے بھی آگے بڑھ کر پڑوسی مسلم ملک افغانستان پر فضائی حملوں کے لیے ایک اور فوجی جرنیل نے امریکا کو اپنے اڈے فراہم کردیے۔ امریکی طیارے پاکستان کی سرزمین سے اڑ کر افغانوں کو موت کے منہ میں سلا کر اور بمباری سے تباہی کے بعد پاکستان میں موجود اڈوں پر واپس آجاتے تھے۔ پاکستان نے امریکا کی محبت میں خود کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہ دو بڑی طاقتوں کی جنگ تھی جس میں پاکستان امریکا کاساتھ دے کر خود ایک فریق بن گیا۔ اس کے لیے حکمرانوں نے کیا کیا خواب نہ دیکھے ہوں گے کہ بس اب پاکستان بھی امریکا بن جائے گا اور یہ نہیں تو بھی اس کا سارا بوجھ امریکا ہی اٹھائے گا۔ اس کی خاطر افغانستان میں طالبان کی تسلیم شدہ حکومت کو امریکا کے ہاتھوں تباہ کروانے میں بھی کوئی عار نہ تھی۔ امریکی کنٹینرز کو افغانستان تک پہنچانے کے لیے اپنی سرزمین فراہم کردی۔ شیخ رشید جیسے مرغ باد نما جنرل پرویز مشرف کے ترجمان بن کر پاکستانی قوم کو ڈراتے رہے کہ اگر امریکا کاساتھ نہ دیتے وہ پورے پاکستان کو ’’تورابورا‘‘ بنا دیتا،ہمیں پتھر کے دور میں پہنچا دیتا اور جو اس کی مخالف کررہے ہیں وہ سب گوانتاناموبے جیل میں ہوتے۔ لیکن شیخ صاحب کے نئے قائد عمران خان اعلان کررہے تھے کہ ناٹو کے کنٹینر ز کو روکنے کے لیے دھرنا دیں گے۔ وہ یہ کام نہیں کرسکے اور اب امریکا سے اچھے تعلقات کا ڈول ڈال رہے ہیں۔ امریکا پاکستان کے ہر حکمران کی مجبوری ہے۔ تمام تر خدمات اور عملاً امریکا کی غلامی کے باوجود ’’ آقا‘‘ کسی طرح راضی ہی نہیں ہو رہا۔ پاکستان پر طرح طرح کے دباؤ ڈالے جارہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے دی جانے والی امداد بند کردی گئی ہے۔ انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ ( آئی ایم ایف) کو حکم دیا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے قرض کی منظوری نہ دی جائے ورنہ وہ چین کا قرض اتارنے میں لگا دے گا۔ خود امریکا چین کا مقروض ہے۔ اب ایک نئی شر انگیزی یہ کی گئی ہے کہ پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی تربیت اور تعلیمی منصوبے ختم کردیے گئے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اس بین الاقوامی پروگرام کے تحت پاکستان کے 66فوجی افسران کو تربیت فراہم کرنا تھی لیکن اب یہ مواقع کسی اور ملک کو دیں گے۔ ابھی کسی متبادل کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن امریکا اور بھارت میں جس تیزی سے ہر میدان میں قربت بڑھ رہی ہے تو ممکن ہے کہ اسی کو یہ موقع دے دیا جائے۔ امریکا ایران سے کسی بھی قسم کے تعلقات رکھنے والوں کو دھمکیاں دے رہا ہے لیکن بھارت بڑے دھڑلے سے ایران سے نہ صرف تیل خرید رہا ہے بلکہ چاہ بہار کی بندرگاہ کی تعمیر میں بھی ایران کی مدد کررہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی تربیت اور تعلیم کے منصوبے گزشتہ ایک دہائی سے جاری تھے جن کے بارے میں خیال کیا جارہا تھا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کی بنیاد ہیں۔ لیکن امریکا سے تعلق کی ہر بنیاد انتہائی کمزور ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر پینٹا گون بھی مضطرب ہے۔ تاہم شر کو خیر میں بدلنے کی طاقت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ امریکا خود دامن کش ہو رہا ہے تو پاکستان کو بھی اس سے تمام توقعات ختم کردینی چاہییں۔ جہاں تک پاکستانی افسروں کی تربیت کا تعلق ہے تو اب روس یہ کام کرسکتا ہے۔ لیکن کیا پاکستانی فوج کو کہیں جا کر تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے؟ متعدد ممالک کے فوجی تربیت حاصل کرنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔ پاک فوج دنیا کی چند تربیت یافتہ افواج میں سے ایک ہے اور برسوں سے اپنے دشمنوں سے سربرپیکار ہے۔ طالبان پاکستان، داعش اور دیگر دہشت گردوں سے نبرآزمائی میں اسے وہ تجربہ حاصل ہے جو امریکا کے پاس نہیں ۔ اس کا ثبوت 17سال سے افغانستان پر قبضے کے باوجود شرمناک ناکامی ہے۔ اس کے پاس جدید ترین اسلحہ ضرور ہے لیکن مجاہدین کے مقابلے میں جذبہ اور مقصد کا فقدان ہے۔ امریکی اقدامات ان شاء اللہ پاکستان کے لیے خیر کا باعث ہوں گے۔ برطانیہ اور امریکا میں فوجی تربیت حاصل کرنے والے افسران ان ہی کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ 1947ء میں پاکستان کو ملنے والی فوج کے بیشتر افسران سینڈھرسٹ اور دیگر برطانوی اداروں کے تربیت یافتہ تھے اور انہی کے ڈھب اختیار کیے ہوئے تھے۔ کاش ہمارے حکمران اب بھی ہر شعبے میں باہر جھانکنے کے بجائے اپنے اوپرانحصار کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ