متحدہ مینڈیٹ چوری کرنے والوں کے ساتھ نہ بیٹھے ،زبیر عمر کی ایم کیو ایم رہنما ؤں سے ملاقات

45
کراچی: گورنر سندھ محمد زبیر بہادر آباد میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں
کراچی: گورنر سندھ محمد زبیر بہادر آباد میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر عمر نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو اپنے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھنے کا مشورہ دے دیا اور کہا کہ ایم کیو ایم چوری سے لیے گئے مینڈیٹ والوں کے ساتھ حکومت میں نہ جائے۔ پیر کو ن لیگی رہنما محمد زبیر نے ایم کیو ایم کے عارضی مرکز بہادر آباد میں متحدہ کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان ، فیصل سبزواری اور ڈاکٹر فاروق ستار سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال اور دیگر امور پر گفتگو ہوئی۔ سابق گورنر محمد زبیرعمر نے ایم کیو ایم کو مشورہ دیا کہ ایم کیو ایم 5 سال تک ن لیگ کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے اور ہم چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم چوری سے لیے گئے مینڈیٹ والوں کے ساتھ حکومت میں نہ جائے۔ جس پر فیصل سبزواری نے کہا کہ مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کریں گے اور پھر کوئی جواب دے گی۔محمد زبیر عمر نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، تمام جماعتوں سے رابطے ہیں، ایم کیو ایم سے ورکنگ ریلیشن شپ قائم رہے گی۔ الیکشن نتائج پر شدید تحفظات ہیں۔ ایم کیو ایم نے بھی کئی حلقوں پر اپنے تحفظات بتائے۔ان کا کہنا تھا کہ 30 برس سے متحدہ کا مینڈیٹ رہا ہے، ایم کیو ایم کا صفایا کرنے کی کوشش کی گئیلیکن ایسا ہوا نہیں ہے، اسے مٹانے کی کوشش ہر دفعہ ناکام ہوئی، متحدہ سندھ کی اہم حقیقتاور کراچی کی سب بڑی جماعت ہے۔ محمد زبیرعمر نے کہا کہ کراچی آپریشن کو اون کرتے ہیں۔ یہ آپریشن ایم کیو ایم کیخلاف نہیں تھا بلکہ ایم کیو ایم نے اس میں تعاون بھی کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ فارم 45 ویب سائٹ پر اب لگانے کی ضرورت نہیں، فارم 45 انتخاب کے روزاسی دن رات کو متعلقہ امیدواروں کو دینا چاہیے تھا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فیصل سبزواری نے کہا کہ سیاسی صورتحال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہو رہی ہے۔حکومت میں بیٹھنے کا فیصلہ رابطہ کمیٹی سے مشاورت کے بعدہوگا۔ انتخابات کی شفافیت پر شدید سوالات ہیں۔ ن لیگ اور ہمارے تحفظات اور گنتی عمل پر اعتراضات ہیں۔انہوں نے کہا کہ فاروق ستار نے اے پی سی میں ایم کیو ایم کا مقدمہ لڑا، فاروق ستار کے مقابلے میں غیر سنجیدہ لوگ کامیاب ہوئے۔ ایسے لوگ کراچی سے کامیاب ہوئے جن کو انکی پارٹی کے لوگ ووٹ نہ دیں۔21 ارب روپے کا آڈٹ کیا جائے جس سے الیکشن کمیشن کے عملے کو ٹریننگ دینی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ