سپریم جوڈیشل کونسل :جسٹس شوکت کے باربار بولنے پر چیف جسٹس برہم،ہاتھ بندھے ہیں،دفاع نہیں کرسکتا ،جسٹس شوکت 

204
اسلام آباد: چیف جسٹس ثاقب نثار کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہورہا ہے
اسلام آباد: چیف جسٹس ثاقب نثار کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہورہا ہے

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) سپریم جوڈیشل کونسل کی پہلی بار کھلے کمرے میں سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس سرکاری گھر کی تزئین و آرائش پر دائر کیا گیا ہے ۔چیف جسٹس کی صدارت میں 5رکنی سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت صدیقی کیخلاف ریفرنس کی سماعت کی۔ جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس بلوچستان اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ بھی شامل ہیں؂۔ دوران سماعت جسٹس شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ آج جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں شواہد ریکارڈ ہونے ہیں، میرے موکل کی طرف سے 2 درخواستیں دائر کی گئی ہیں، درخواست میں الزامات سے متعلق ریکارڈ لگایا گیا ہے،اعلیٰ عدلیہ کے گھروں پر اٹھنے والے اخراجات کا گزشتہ 7 سال کا ریکارڈ مانگا ہے،جو ججز سرکاری گھر کے ساتھ رہائشی الاؤنس لے رہے ہیں وہ ریکارڈ بھی مانگا ہے،ججز کے سرکاری گھروں پر تزئین و آرائش کے اخراجات کا ریکارڈ مانگا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو طول نہیں دینا چاہتے،جو الزامات ہیں ان کی روشنی میں جواب دیں،160یہ ریکارڈ منگوانے کا کوئی مقصد نہیں ہے ،کسی مخصوص جج کا بھی درخواست میں ذکر نہیں ہے،کسی جج کا ذکر ہوتا تو ریکارڈ منگواتے۔وکیل صفائی نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر سرکاری گھر کی لاکھوں روپے سے تزئین و آرائش کرانے کا الزام ہے،160دوسرے ججز کے سرکاری گھروں پر اٹھنے والے اخراجات کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا انکوائری کا دائرہ اختیار وسیع نہیں ہوتا،سرکاری گھر کی تزئین و آرائش کے اخراجات کی حد کو کونسل طے کرے گی، شواہد کی روشنی میں فیصلہ کریں گے۔ وکیل صفائی نے کہا کہ ہماری دوسری درخواست ریفرنس کے شکایت کنندگان سے متعلق ہے،160شکایت کنندگان کے خلاف فوجداری اور عدالتی مقدمات کا ریکارڈ منگوایا جائے، دیکھا جائے کہ جب یہ گھر شوکت عزیز صدیقی کو الاٹ ہوا اس وقت کیا حالت تھی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ160پہلے شواہد ریکارڈ کر لیتے ہیں۔اس دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے روسٹرم پر کھڑے اپنے وکیل حامد خان کے کان میں بات کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان اپنے موکل سے کہیں کہ اس طرح بات نہ کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کب اپنے اختیارات سے تجاوز کررہے ہیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ،اپنا دفاع نہیں کر سکتا، کم سے کم یہ تاثر ملنا چاہیے کہ میرے ساتھ برابری کا سلوک ہوا۔ چیف جسٹس نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کون سا غلط اختیارات کا استعمال کیا،کسی کو اٹھا کر باہر نہیں پھینکنا چاہتے،جوڈیشل کونسل کی صوابدید ہے کارروائی کیسے چلانی ہے،آپ کی مرضی سے کارروائی نہیں چلائیں گے۔ چیف جسٹس نے وکیل حامد خان سے کہا کہ ان سے کہیے کہ عدالت کو مخاطب نہ کریں ،حامد خان آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ کارروائی میں ان کو بولنے نہیں دیں گے ۔چیف جسٹس نے شوکت صدیقی سے کہا کہ جو بات کہنی ہے اپنے وکیل کے ذریعے کریں۔ اٹارنی جنرل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی درخواستوں کی مخالفت 160کی اور کہا کہ ریفرنس میں براہ راست الزامات معزز جج پر لگائے گئے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے مانگے گئے ریکارڈ کا ریفرنس سے کوئی تعلق نہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر سرکاری گھر کی تزئین و آرائش کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ وکیل نے کہا کہ سرکاری گھر کی تزئین و آرائش کرنا جرم نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ160اگر الزامات پر شواہد نہیں آئے تو کونسل کی کارروائی ختم کردیں۔ جسٹس صدیقی کی ریکارڈ فراہمی سے متعلق درخواستیں مسترد کر دی گئیں جب کہ گواہ کا بیان ریکارڈ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل سے کئی ججز بری ہوتے ہیں،ہم کسی کے لیے متعصب نہیں ہیں، آگے جا کر جواب دینا ہے،160آگے جا کر ایسے منہ کالا نہیں کرنا۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ شواہد کی ریکارڈنگ کا عمل شروع کریں۔ جسٹس صدیقی کے وکیل نے کہا کہ مجھے جرح کے لیے وقت دیں، کونسل اپنی کارروائی کل تک ملتوی کردے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم گواہ کا بیان ریکارڈ کر لیتے ہیں،جرح آج نہیں کرتے،ہم تو چاہتے ہیں کسی کے خلاف کیس نہیں تو وہ بری ہو۔ وکیل حامد خان نے کہا کہ تاثر ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو جلدی ہے، جسٹس صدیقی نے اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے کہا کہ میرا فیصلہ جلدی نہ ہو بلکہ انصاف ہو۔چیف جسٹس نے ایک بار پھر ناراضی کا اظہار کیا اور وکیل حامد خان سے کہا کہ اپنے موکل سے کہیں کہ کونسل کا احترام کریں اور کھڑے ہو کر بات کریں۔اس کے بعد جسٹس صدیقی کونسل کی کارروائی کے دوران بار بار کھڑے ہوتے رہے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف گواہ علی انور گوپانگ عدالت میں پیش ہوئے۔ گواہ علی انور گوپانگ کا بیان حلفی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا جبکہ ریفرنس کی سماعت آج پھر ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ