اڈیالہ جیل اسحاق ڈار کی منتظر

108

تنویر انجم

اسے حسن اتفاق کہیں یا کوئی سلسلہ، تاہم مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے حوالے سے زیادہ تر اہم فیصلے جمعہ ہی کو سامنے آئے ہیں۔ کسی بھی جمعہ کو اڈیالہ جیل میں ’ن لیگ فیملی‘ کا ایک اور رکن پہنچا ہی چاہتا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے چیئرمین نیب کی وزارت داخلہ کے ذریعے دی گئی درخواست منظور کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو انٹرپول کے ذریعے واپس لانے کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کردیے ہیں۔ اس سے پہلے عدالت عظمیٰ نے بھی سینیٹر اسحاق ڈار کو کئی مرتبہ طلب کیا تاہم وہ ’سیاسی بیماری‘ اور اس کے ’علاج‘ کی غرض سے برطانیہ میں ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے اور بالآخر اپنی سینیٹ کی رکنیت سے معطل کردیے گئے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کی عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سمدھی اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدنی سے زاید اثاثے بنانے کا مقدمہ زیر سماعت ہے اور وہ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے لندن میں ہیں۔ اسحاق ڈار سے متعلق سیاسی تجزیہ کار پہلے ہی پیش گوئی کر چکے ہیں کہ وہ اب واپس آنے والے نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں جہاں تقریباً ہر صارف اپنے طور پر تجزیہ کار اور اپنی دانست میں دانشور ہے، ریڈ وارنٹ کی خبر آتے ہی دلچسپ تبصرے آنا شروع ہو گئے۔ کسی نے کہا کہ ’چوروں کا دنیا بھر میں تعاقب جاری ہے، سابق وزیر خزانہ از خود پاکستان واپس آ جاتے تو بہتر تھا، اب گھسیٹ کر لایا جائے گا‘۔ ایک ’پروفیسر‘ نے کہا کہ ملک کو ڈبونے اور لوٹنے والے منشی کو ہتھکڑیاں لگا کر لایا جائے گا اور بہت جلد انہیں اپنے رشتے داروں کے ساتھ اڈیالہ جیل منتقل کردیا جائے گا‘۔ مسلم لیگ ن نے جب بھی ملک میں اقتدار سنبھالا، ملکی اقتصادیات ہی کو اپنی پہلی اور آخری ترجیح قرار دیا، اور کیوں نہ دیتے کہ ایسا کرنے سے ان کے اپنے مفادات نہ صرف پورے ہوتے ہیں بلکہ ان کا اپنا کاروبار بھی دن دونی رات چوگنی ترقی کرتا ہے۔ ایک چارٹرڈ اکاؤنٹ کو جسے ن لیگ کے قائد اور سابق وزیر اعظم پیار سے ’منشی‘ کہہ کے پکارتے تھے، ہر بار وزیر خزانہ بنایا گیا، انہوں نے کئی بجٹ بھی پیش کیے تاہم اس پورے گیم میں جسے سیاست اور معیشت کی کھچڑی کہا جا سکتا ہے، ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والی ترجیحات عملی طور پر دکھائی نہیں دیں۔
نواز شریف کے آخری دور حکومت میں بھی انتہائی تجربہ کار اسحاق ڈار ہی وزیر خزانہ رہے، مگر مالیاتی خسارے بڑھتے گئے، ملکی قرضوں نے جس رفتار سے اپنا قد بڑھایا اسی رفتار سے کرنسی کی قدر بھی گھٹ گئی۔ اس دوران پاکستانیوں کو میٹرو ٹرین منصوبے، بسیں، سڑکیں اور سی پیک منصوبوں کے خواب دکھا کر سلا دیا گیا اور نوبت یہاں تک آئی کہ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر مالیاتی ادارے پاکستان کے خسارے اور قرضوں کی ادائیگیوں میں عدم توازن کی وجہ سے سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہونے کے بعد ہی سے نواز شریف خاندان اور خاص طور پر ان کے ’منشی جی‘ کے پاؤں تلے سے زمین کھسک چکی تھی اور پھر ن لیگ کے دور حکومت کے آخری مہینوں میں احتساب کا شکنجہ مزید سخت کیا گیا تو 28 جولائی 2017ء کو پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف اپنی آمدن سے زاید اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کردیا۔
عدالت عظمیٰ کے مشاہدے کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 83 کروڑ روپے سے زاید کے اثاثے ہیں جو ایک ریکارڈ مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔ احتساب عدالت کی جانب سے فرد جرم عاید کیے جانے پر سابق وزیر خزانہ نے صحت جرم سے انکار کیا۔ کیس چلتا رہا، کبھی پیش ہونے اور کبھی غیر حاضر ہونے کا سلسلہ جاری رہا اور پھر سماعت میں مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے انہیں اشتہاری بھی قرار دے دیا گیا۔ جس کے بعد وہ ’سیاسی بیماری‘ کے علاج کی غرض سے بیرون ملک چلے گئے اور ابھی تک وہیں ہیں۔ اس دوران وہ ’بستر علالت‘ پر ہونے کے باوجود آسانی سے اپنا عہدہ چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔
معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے روپے کی قدر مستحکم رکھنے کے لیے مصنوعی طریقے اختیار کیے۔ اسحاق ڈار اس فن کے ماہر تھے کہ ڈالر کو کس طرح اوپر نیچے کرنا ہے اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں امریکی ڈالر 98 روپے کا ہوگیا تھا۔ (آج یہ 130 روپے سے زاید ہے۔) مصنوعی اور دکھاوے کے معاشی کھیل کا نقصان یہ سامنے آیا کہ ملک کی درآمدات میں تو اضافہ ہوگیا مگر مقامی طور پر بننے والی چیزیں مہنگی ہونے کی وجہ سے برآمدات کا گراف نیچے آتا گیا۔ مہنگائی بڑھی اور اسٹیٹ بینک نے شرح سود کم کردی اور پھر وہی سلسلہ کہ عالمی مالیاتی ادارے تشویش کا اظہار کرنے لگے۔
ٹیکس لگانے کے معاملے میں بھی اسحاق ڈار نے پاکستانی قوم کی بہت ’دعائیں‘ لیں۔ نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا وعدہ، محض وعدہ ہی رہا۔ جن لوگوں سے مفادات وابستہ ہوں وہ بھلا کیسے ’قابو‘ میں آ سکتے ہیں۔ لہٰذا اخراجات تو پورے کرنے ہی تھے اور اس کے لیے ایک مخصوص آمدن چاہیے تھی، یہاں بھی موصوف نے ہمیشہ کی طرح اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ٹیکسوں کی شرح بڑھا کر ٹیکس آمدن میں اضافہ کرلیا۔ سیلز ٹیکس، گیس پر اضافی ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی کی شرح، ایڈوانس ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس سمیت نہ جانے کون کون سے ٹیکس عائد کرکے عوام کو قرضوں کی دلدل میں پھنسانے کا سلسلہ جاری رہا۔
پاکستان کے مرکزی بینک کے مطابق 2013ء میں جب ن لیگ نے اقتدار سنبھالا تھا، ملک کا مجموعی قرض ساڑھے 14 ٹریلین روپے تھا جو دسمبر 2017ء میں ساڑھے 21 ٹریلین روپے ہو چکا تھا۔ یعنی 4 برس کے دوران قرضوں میں 7 ٹریلن روپے کا اضافہ ہوگیا۔ حکومت نے ان 4 برس میں 40 ارب ڈالر مالیت کے بین الاقوامی قرضے بھی لیے۔
اسحاق ڈار چوں کہ رٹے رٹائے اقدامات کرنے کے عادی ہیں اور اپنے ہر دور حکومت میں انہوں نے ایک ہی جیسے کام کیے، جس کا نتیجہ ہمیشہ عوام پر ایک ہی صورت یعنی اُن کے دور حکومت کے بعد ’بدحالی‘ کی شکل میں سامنے آیا۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق وزیر خزانہ نے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کسی قسم کی اصلاحات نہیں کیں۔ اسحاق ڈار چوں کہ سابق وزیرا عظم نواز شریف کے قریب ترین رفیق ہونے کے ساتھ ان کے رشتے دار (سمدھی) بھی ہیں، اس لیے بادشاہوں والا مزاج تو رکھتے ہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ملک کے معاشی معاملات چلانے کے لیے ہمیشہ جتنے بھی فیصلے کیے وہ بغیر کسی مشاورت کے تن تنہا کیے جس کا نتیجہ ہمیشہ ہی یہ نکلا کہ پاکستانی معیشت آج بھی مشکل حالات سے گزر رہی ہے۔
سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ملک سے باہر رہنے کے دوران عدلیہ کے معزز ججوں کے ریمارکس تو سامنے آتے ہی رہے ہیں، ساتھ ہی سیاست دانوں اور عوام نے بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا اور بالآخر یہ پول کھلتا گیا کہ ان کی بیماری اور میڈیکل رپورٹ کی باتیں بھی ویسی ہی ہیں جیسے پاکستانی معیشت سے متعلق ان کے دعوے۔
نیب عدالت میں پیشی کے وقت استعفا نہ دینے والے اسحاق ڈار کو خوف تھا کہ اگر انہوں نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا، جس سے بچنے کے لیے انہوں نے راہ فرار اختیار کی لیکن عمر کے اس حصے میں سابق وزیر خزانہ اپنے بھاری بھرکم اثاثے اٹھائے مطلوبہ رفتار سے زیادہ دور تک نہیں بھاگ سکے اور بین الاقوامی پولیس کے ذریعے انہیں گرفتار کرکے پاکستان لانے کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کردیے گئے ہیں۔
یہ سوال اپنی جگہ کہ پاکستانی معیشت آخر کب اپنے پیروں پر کھڑی ہوگی اور ہمارے حکمران کب کشکول اور عالمی مالیاتی اداروں کی بیساکھیوں کو توڑیں گے، اب دیکھنا یہ ہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ریڈ وارنٹ جاری ہونے کے بعد ملک میں کس طرح لایا جائے گا اور نہ چاہتے ہوئے بھی وطن پہنچنے پر انہیں اڈیالہ جیل میں اپنے ’پیاروں‘ کی صحبت نصیب ہوگی یا نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ