اسرائیل نے شامی جنگی طیارہ مار گرایا

91
دمشق: اسرائیلی پیٹریاٹ میزائل ہدف کی جانب بڑھ رہے ہیں‘ چھوٹی تصویر سوخوئی طیاروں کی نشانہ بننے سے قبل گولان پر پرواز کی ہے
دمشق: اسرائیلی پیٹریاٹ میزائل ہدف کی جانب بڑھ رہے ہیں‘ چھوٹی تصویر سوخوئی طیاروں کی نشانہ بننے سے قبل گولان پر پرواز کی ہے

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی فوج نے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر شامی جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس طیارے کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے 2 اسرائیلی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کے ایک (روسی ساختہ) سوخوئی جنگی طیارے کو اس وجہ سے 2 پیٹریاٹ میزائلوں سے فضا میں نشانہ بنا کر مار گرایا گیا کہ وہ اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔ بیان کے مطابق جنگی طیارہ اسرائیلی فضائی حدود کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جس وقت اس شامی جنگی طیارے کو پیٹریاٹ میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، اس وقت وہ اسرائیلی حدود میں 2 کلومیٹر اندر تک آ چکا تھا۔ رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے اپنی فضائی حدود کا ذکر کیا ہے تاہم چونکہ اسرائیل کے کنٹرول میں فضائی حدود کا حوالہ دیا گیا ہے ، اس لیے بظاہر یہ شامی جنگی طیارہ ممکنہ طور پر گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں والے اس علاقے میں داخل ہوا ہو گا، جس پر اسرائیل نے عرب اسرائیلی جنگ کے بعد سے اب تک قبضہ کر رکھا ہے۔ رائٹرز نے مزید لکھا ہے کہ منگل کے روز جس وقت اسرائیلی فوج نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے 2میزائل فائر کیے ، اسی وقت شام کے ساتھ سرحدی علاقے میں فضائی دفاع کے سائرن بھی سنے گئے تھے۔ پھر یہ سائرن بجنے کے کچھ ہی لمحے بعد ایک بڑا دھماکا بھی سنا گیا، جو تقریبا یقینی طور پر اس وقت ہوا، جب یہ میزائل شامی جنگی طیارے کو لگے تھے ۔ ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ پیر کے روز شامی علاقے سے اسرائیل پر 2 راکٹ بھی فائر کیے گئے تھے ، جنہیں فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق دمشق میں شامی حکومت نے تصدیق کر دی ہے کہ اسرائیل نے ایک شامی جنگی طیارہ مار گرایا ہے ۔ شام کی سرکاری نیوز ایجنسی نے ملکی فوج کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل نے ہمارے ان جنگی طیاروں میں سے ایک کو نشانہ بنایا ہے ، جو شامی فضائی حدود کے اندر ہی تھے اور ملک کے جنوب میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے تھے ۔ قبل ازیں شامی مبصرین برائے انسانی حقوق نے بتایا کہ جنوب شام میں اردن اور اسرائیلی زیرقبضہ گولان کے پہاڑی سلسلے سے ملحقہ علاقوں میں شامی اور روسی طیاروں نے داعش کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ روس نے ایرانی فورسز کو گولان کے پہاڑی سلسلے سے دور رکھنے کی پیش کش کی ہے ، تاہم اسرائیل کا اصرار ہے کہ ایرانی فوجی دستے شام سے مکمل طور پر نکل جائیں۔ منگل کے روز سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس موضوع پر روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے تفصیلی بات چیت کی۔ دونوں شخصیات کی ملاقات میں روس نے تجویز دی کہ وہ ایرانی فورسز کو گولان کے پہاڑی سلسلے سے 100 کلومیٹر دور رکھے گا، تاہم اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ تجویز قابل عمل نہیں ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ