شامی اور روسی فوج کی بمباری ،26شہری جاں بحق

104
شام: اسرائیل کی سرحد سے متصل صوبے قنیطرہ سے انخلا کرنے والے مزاحمت کار اپنے اہل خانہ کے ساتھ ادلب پہنچ گئے
شام: اسرائیل کی سرحد سے متصل صوبے قنیطرہ سے انخلا کرنے والے مزاحمت کار اپنے اہل خانہ کے ساتھ ادلب پہنچ گئے

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے جنوب مغربی صوبے درعا میں شامی افواج کی فضائی کارروائی میں 11 بچوں سمیت 26 شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق روس اور شام کی اتحادی فوج کے لڑاکا طیاروں نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات گئے جنوب مغربی صوبے درعا کے مخصوص علاقوں میں فضائی بمباری کی جس کے نتیجے میں 26 شہری جاں بحق ہو گئے ہیں جن میں 11 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ شامی حکومت کا کہنا تھا کہ مذکورہ علاقے باغی جماعتوں کے زیر تسلط تھے۔ شام میں کام کرنے والی امدادی تنظیموں کے مطابق فضائی حملے میں درعا کے مختلف علاقوں کے انفرا اسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ سیکڑوں مکانات منہدم ہو گئے ہیں اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ زخمیوں کو طبی امداد مہیا کی جا رہی ہے ۔ شدید زخمیوں کو طبی سہولتیں حاصل نہ ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شام میں فضائی حملہ اس وقت کیا گیا جب اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی جانب سے درعا میں پھنسے ایک لاکھ 40 ہزار شہریوں کو پرامن مقام تک منتقلی کے لیے محفوظ گزرگاہ اور مناسب موقع فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم شامی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس علاقے میں داعش کے انتہا پسند گروپ خالد بن ولید نے 30 ہزار شہریوں کو انسانی ڈھال بنا رکھا ہے ۔ واضح رہے کہ شام میں 2011ء سے شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک 3 لاکھ 50 ہزار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ لاکھوں خاندانوں کو دربدر ہونا پڑا ہے ۔ دوسری جانب شامی مبصرین برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ جمعے کے روز روسی اور شامی جنگی طیاروں نے درعا کے جنوب مغرب میں دیہی علاقے حوض الیرموک کو پورے دن حملوں کا نشانہ بنایا۔ انسانی حقوق تنظیم کے مطابق حملوں میں کئی دیہات اور قصبے فضائی حملوں اور بیرل بم کے دھماکوں کی لپیٹ میں آئے جن میں تسیل، حیط، سحم الجولان اور الشجرہ شامل ہیں۔ مسلسل بم باری کے نتیجے میں انفرا اسٹرکچر کو بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا اور بعض علاقے مکمل طور پر برباد ہو گئے۔ دوسری جانب قنیطرہ صوبے سے منتقل کیے جانے والے سیکڑوں مزاحمت کار اور ان کے اہل خانہ ہفتے کے روز ادلب پہنچ گئے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اور شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کے متوازی صوبے قنیطرہ سے ان افراد کا انخلا اُس معاہدے کے تحت عمل میں آیا ہے جو شامی حکومت کے حلیف روس اور علاقے میں موجود مزاحمت کاروں کے مابین طے پایا۔ شامی انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق 2800 مزاحمت کاروں اور دیگر شہریوں پر مشتمل پہلی کھیپ ہفتے کی صبح حماہ صوبے کے شمالی دیہی علاقے میں مورک کی گزر گاہ پر پہنچی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق 50 بسوں میں مزاحمت کار اور ان کے اہل خانہ سوار تھے۔ مورک پہنچنے پر تمام افراد دیگر بسوں میں سوار ہوئے تا کہ ان انہیں ادلب اور حلب صوبوں میں عارضی استقبالیہ کیمپوں میں منتقل کیا جا سکے۔ المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن کے مطابق اس پہلی کھیپ میں نصف سے زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ رامی کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ انخلا کا عمل جاری رہے گا اور قنیطرہ معاہدے کو مسترد کرنے والوں کے انخلا کے لیے دوسری کھیپ بھی ہو گی۔ اُدھر رُوسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حکومت شام میں لڑائی کے دوران نقل مکانی کرنے والے شہریوں کی بحالی اور دوبارہ آباد کاری کے پروگرام پرکام کررہی ہے ۔ عنقریب 17 لاکھ شامی مہاجرین اپنے آبائی علاقوں کولوٹ سکیں گے۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شامی مہاجرین کی علاقوں کو واپسی کے بارے میں تفصیلی معلومات اور تجاویز امریکا کو بھی مہیا کردی گئی ہیں۔
شام ؍ بمباری

Print Friendly, PDF & Email
حصہ