ایم کیو ایم کس منہ سے ووٹ مانگ رہی ہے،مجلس عمل ہی کراچی کے مسائل حل کر سکتی ہے،حافظ نعیم

152
این اے 250کے امیدوار حافظ نعیم الرحمن اور پی ایس 119کے امیدوار قاری عثمان شیر شاہ میں جلسے سے خطاب کررہے ہیں
این اے 250کے امیدوار حافظ نعیم الرحمن اور پی ایس 119کے امیدوار قاری عثمان شیر شاہ میں جلسے سے خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلا می کراچی کے امیر، متحدہ مجلس عمل کراچی کے صدر و این اے 250سے نامزد امیدوار حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن 1988ء سے حکومت میں ہے لیکن اس نے کبھی کراچی کی پرواہ نہیں کی ۔ پیپلز پارٹی 1970ء سے سندھ میں حکومت کررہی ہے لیکن اس نے بھی کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ایم کیو ایم نے 30سال میں کراچی کو تباہ و برباد کردیا ،آج یہ پارٹیاں کس منہ سے کراچی کے عوام سے ووٹ مانگ رہی ہیں ، شہر کی اصل شناخت صرف اور صرف متحدہ مجلس عمل ہی بحال کرسکتی ہے، مجلس عمل کی تحریک کو عوامی پذیرائی مل رہی ہے ، عوام 25جولائی کو کتا ب کے نشان پر مہر لگاکر سیکولراور لبرل طبقے کو مسترد کردیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب این اے 250 کے علاقے شیرشاہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیدوار صوبائی اسمبلی قاری عثمان اور دیگر بھی موجود تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ اس وقت ملک میں سازشیں ہورہی ہیں کہ علما کرام ، جنہوں نے اسلامی دستور بنایا پھر قادیانیوں کو آئینی طور پر کافر ٹھیرایا اب ان علما کرام کو اسمبلیوں میں نہ آنے دیا جائے اورمنبر ومحراب تک ہی محدود کردیا جائے تاکہ یہ امریکا اور مغرب کے عزائم پورے کرسکیں ۔انہوں نے کہاکہ سیکولر اور لبرل طبقے نے کوشش کی ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کی جائے اس میں ن لیگ ، پی ٹی آئی اوراے این پی بھی شامل تھی لیکن جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ ڈٹ گئے اور ختم نبوت کے قانون پر کوئی ترمیم نہیں ہونے دی۔انہوں نے جلسے کے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی شعار اور ختم نبو ت کے قانون کا تحفظ کرنا ہے تو میدان میں نکلنا ہوگا ،لوگوں کے اندر شعور بیدار کرنا ہوگا ،مجلس عمل کی تحریک جیسے جیسے آگے بڑھ رہی ہے لوگوں میں شعور پیدا ہورہا ہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اسلام کا قانون ہو، معاشی نظام ، تعلیمی نظام اور عدالتی نظام بھی اللہ کے حکم کے مطابق ہو اور ہمارا معاشرہ بھی اللہ کے حکم کے مطابق تشکیل پائے ۔متحدہ مجلس عمل دینی جماعتوں کا اتحاد ہے ،70سال سے پاکستان کو اس کے اصل مقصد سے دور رکھا گیا ہے،پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا لیکن اس میں جو سیکولر لوگ تھے انہوں نے ملک کے دستور کو سیکولر بنانے کی کوشش کی ،مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ، مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ اورمولانا مفتی محمد شفیع ؒ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اس کے خلاف تحریک چلائی جائے اور ان قائدین نے تحریک چلاکر ملک کے دستور ساز اسمبلی سے قرارداد پاس کرائی جس میں لکھا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول ؐ کے احکامات کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جاسکتی ،حاکمیت اعلیٰ صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے ۔ پھر اس کے بعد سیکولر طبقے نے مسلمانوں کو آپس میں تقسیم کرنے کے لیے مسالک کا مذاق اڑانا شروع کیا جس کا جواب دینے کے لیے تمام مکاتب فکر کے علما نے جنوری 1951ء میں اسلامی ریاست کے رہنما اصول کے نام سے 22نکاتی منشور تیار کیا اور کہاکہ مسالک کے اختلافات سے اسلامی نظام کے نفاذ میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ متحدہ مجلس عمل چاہتی ہے کہ تمام مسالک کے لوگوں کو لسانیت و عصبیت سے نکال کر ایک قوم بنائیں اسی میں سب کی فلاح و کامیابی ہے ۔ گزشتہ 30سال سے لسانیت و عصبیت کے نام پر سیاست کر کے شہر کوتباہ و برباد کیاگیا۔اس لیے اب ہماری ذمے داری بنتی ہے کہ ہم اللہ کے احکامات کو ملک میں نافذ کرنے کی جدوجہد کریں ۔اس ملک کا مستقبل صرف اور صرف اسلام سے وابستہ ہے ۔ اگر ملک میں سودی نظام چل رہا ہو اور ہم یہ سمجھیں کہ ہم انفرادی طور پر دین پر عمل کررہے ہیں بس یہی کافی ہے تو یہ کافی نہیں بلکہ ہمیں سودی نظام کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی اور ملک میں اللہ اور اس کے رسول ؐ کا نظام نافذ کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ دین قائم ہونے کے لیے آیا ہے مغلوب ہونے کے لیے نہیں آیا ہے ،اس لیے متحدہ مجلس عمل کا مقصد ہی یہ ہے کہ پاکستان میں دین کا غلبہ قائم ہو ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ