دشمن نے پلٹ کر حملہ کیا،سیاسی قیادت تحمل اور فورسز دشمنوں کیخلاف جہاد جاری رکھے،سراج الحق 

154
دیر:امیر جماعت اسلامی سراج الحق جلسہ عام سے خطاب کررہے ہیں 
دیر:امیر جماعت اسلامی سراج الحق جلسہ عام سے خطاب کررہے ہیں 

لاہور ( نمائندہ جسارت )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سیاسی قیادت تحمل، برداشت اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابی ماحول کو پرامن رکھے‘ ہم سب کو متحد ہو کر غربت ،مہنگائی، بدامنی اور دہشت گردی کے خلاف لڑناچاہیے۔ دہشت گردوں نے پلٹ کر حملہ کیاہے۔ سیکورٹی ادارے بیرونی دشمنوں کے خلاف اپنا جہاد جاری رکھیں ، اندرونی دشمن سے قوم خود نمٹے گی‘ قوم دہشت گردی کے خلاف متحدہے۔ سیکورٹی اداروں نے دہشت گردی کو شکست دے د ی تھی۔ ہمارے تعلیمی ادارے کھل گئے تھے ، بازاروں اور مارکیٹوں کی رونقیں بحال ہوگئی تھیں مگر دشمن نے ایک بار پھر وار کیاہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے انتخابی حلقہ دیر میں بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسے سے اعزاز الملک افکاری نے بھی خطاب کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ میں دشمن کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری شیر دل قوم ڈرنے جھکنے اور دبنے والی نہیں ہم دشمن کا مقابلہ پوری جر�أت سے کریں گے۔ دہشت گرد ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتے۔ ہم ہر قیمت پر اپنی دھرتی ماں کا دفاع کریں گے اور پاکستان کو امن و امان کا گہوارہ بنائیں گے۔ انہوں نے سیکورٹی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اندرونی معاملات میں الجھنے کے بجائے ملکی سرحدوں کا دفاع اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کریں۔ پوری قوم ملک کے دفاع میں اپنے سیکورٹی اداروں کی پشت پر ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک کے دفاع کے لیے سب سے پہلے سیاسی قیادت کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیاسی قیادت کو ملکی حفاظت کے لیے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک پیج پر آنا ہوگا۔ ہمیں آپس میں لڑنے اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے کے بجائے متحد ہو کر بدامنی اور دہشتگردی سے لڑنا ہوگا۔ کرپشن اور لوٹ مار کے خلاف لڑیں ، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے لڑیں۔ عوام کو تعلیم ، صحت اور روزگار دینے اور عوام میں پائی جانے والی مایوسیوں اور محرومیوں کے خلاف لڑیں۔ انہوں نے کہاکہ میں نے سینیٹ میں بھی پوری قیادت کو اتحاد و یکجہتی سے ملک و قوم کے مسائل حل کرنے کی دعوت دی تھی لیکن سیاسی قیادت آج بھی باہم دست و گریباں ہے جس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل کے پاس ملک کو معاشی ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کا ایک پروگرام موجودہے۔ امن و امان کے قیام اور تعلیم و صحت کی مفت سہولتیں دینے کا پروگرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں موقع دیا تو ہم آزاد و باوقار خارجہ پالیسی اپنائیں گے اور عالمی برادری سے برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کریں گے‘ہم قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی قید سے رہائی دلائیں گے اور کشمیر ، فلسطین کی آزادی کے لیے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل سیکولر و لبرل پارٹیوں کا حقیقی متبادل ہے۔ حکمران رہنے والی اور تبدیلی کے دعوے کرنے والی پارٹیاں امریکی ایجنڈے پر کاربند ہیں جبکہ متحدہ مجلس عمل ملک میں نظام مصطفی کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہاکہ قوم ساتھ دے تو ہم حکومت میں آنے کے بعد پہلے ہی دن ملک میں شریعت کے نفاذ کا اعلان کردیں گے۔دریں اثنا سینیٹر سراج الحق نے دیر میں جے آئی یوتھ کی ریلی پر مخالف امیدوار کے گھر سے ہونے والی فائرنگ اور پتھراؤکی شدید مذمت کی اور کہاکہ ہم پرامن رہتے ہوئے اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں‘ بلا اشتعال فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ پتھراؤ سے ہمارے 5 کارکنان زخمی ہوئے اور میری گاڑی کو بھی معمولی نقصان پہنچا۔ ہماری طرف سے جوابی کاروائی نہیں کی گئی۔ سراج الحق نے جماعت اسلامی کے کارکنان کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرامن طور پر اپنی انتخابی مہم جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ