یہودی آباد کاروں کی غیرقانونی املاک کی مسماری پر جھڑپیں

153
بیت لحم: غیرقانونی املاک کی مسماری کے باعث یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں 
بیت لحم: غیرقانونی املاک کی مسماری کے باعث یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں 

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق مغربی کنارے کے جنوبی حصے میں یہودی آباد کاروں کے ایسے گھر خالی اور منہدم کیے جا رہے ہیں جن کے لیے اسرائیلی ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا تھا۔ یہ گھر فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کرکے غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہودی آباد کاروں کے 15 گھروں کو خالی اور انہیں منہدم کرنے کا عمل تقریباً ایک دہائی تک جاری رہنے والی قانونی جنگ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں 7 فلسطینی اپنے گھروں میں واپسی کا حق حاصل کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ گزشتہ روز سیکڑوں یہودی آباد کاروں نے گھروں کو خالی کرنے اور انہدامی کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اس دوران ان کی اسرائیلی پولیس سے شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔ واضح رہے کہ اپنی زمین کے حصول کی قانونی جنگ لڑنے والے فلسطینیوں کے ساتھ یہودی آباد کاری کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’پیس ناؤ‘ نے بھی اسرائیلی ہائیکورٹ میں اس حوالے سے پٹیشن دائر کی تھی۔ تنظیم کی طرف سے گزشتہ روز کہا گیا کہ ہمیں امید ہے کہ اس بے دخلی سے ایک واضح پیغام جائے گا کہ جرم کی قیمت چکانا پڑتی ہے اور یہ کہ اگر کوئی زمین خریدے یا اس بارے میں اجازت لیے بغیر عمارت تعمیر کرے گا تو اسے حتمی طور پر اسے چھوڑنا ہی پڑے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ