جامعہ کراچی : امتحانات کا بائیکاٹ کرنے والے اساتذہ کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

45

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جامعہ کراچی کے طلبہ نے امتحانات کا بائیکاٹ کرنے والے اساتذہ کے خلاف انتظامی کارروائی کا مطالبہ کردیا۔ انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کی مطالبات کی منظوری کے باوجودسمسٹر امتحانات کا بائیکاٹ کرانے سے ہزاروں طلبہ امتحانی پرچہ دینے سے محروم رہ گئے۔امتحانات کے حوالے سے طلبہ میں شدید ذہنی کوفت کا شکار ہوگئے۔ذرائع کے مطابق انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کی جانب سے تنخواہ میں 5 فیصد اضافہ، پی ایچ ڈی االاؤنس میں اضافہ شدہ رقم نہ ملنے اور دیگر معاملات میں تاخیر کے خلاف پہلے 2 مئی کو کلاسز کا بائیکاٹ اور پھر 7 مئی سے روزانہ کی بنیاد پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔تاہم جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے مطالبات 10 مئی کو تسلیم کرلیے گئے تھے اور اس حوالے سے ایک پریس ریلیز بھی جاری کی گئی تھی ۔جس کے بعد انجمن
اساتذہ جامعہ کراچی کی جانب امتحانات کے بائیکاٹ کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کی مجلس عاملہ میں امتحانات کے بائیکاٹ کے حوالے سے کوئی بات ہی نہیں آئی تھی ۔تاہم رات گئے انجمن اساتذہ کی جانب سے اساتذہ،افسران اور ملازمین پر بنائی گئی کمبائنڈ ایکشن کمیٹی کے نام سے موبائل پر پیغامات فارورڈ ہوتے رہے کہ امتحانات کا مکمل بائیکاٹ ہوگا جس کی وجہ سے متعدد شعبہ جات میں پیر کے روز ہونے والے سمسٹر امتحانات نہیں لیے جا سکے جس کی وجہ سے طلبہ بھی غیر حاضر رہے۔جبکہ امتحانات کے بائیکاٹ کی وجہ سے سیکڑوں طلبہ جو موسم گرما کی اس شدت میں اپنے گھروں سے پرچے دینے کے لیے جامعہ آئے تھے، مایوس لوٹ گئے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اساتذہ کا ایک گروپ جوکہ امتحانات کے انعقاد کا حامی تھا، اس کی جانب سے اپنے متعلقہ شعبہ جات میں امتحانات کا انعقاد کرایا گیا تھا۔ طالبعلموں کا کہنا تھا کہ ہم امتحان دینے آئے تھے تاہم اساتذہ کی جانب سے بائیکاٹ کیا گیا جس کی وجہ سے ہمارا امتحا ن نہیں لیا جاسکا۔اس سمسٹر کے آغاز سے ہی اساتذہ کی جانب سے کئی بار کلاسز کا بھی بائیکاٹ کیا گیاجس کی وجہ سے ہماری تعلیم کا حرج ہو رہا ہے۔پنجابی اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کے ذمے دار خرم کا کہنا تھا کہ اساتذہ کے مسائل کے حل کے لیے ان کی منتخب شدہ یونین اور سینڈیکٹ موجود ہے۔ان کو چاہیے کہ وہ اپنے مسائل ان فورمز پر لے کر جائیں ناکہ طلبہ کی کلاسز کا بائیکاٹ کریں ۔اس حوالے کراچی یونیورسٹی ٹیچر سوسائٹی کے صدر جمیل کاظمی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کال موصول نہیں کی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ