بنی گالا اور بلاول ہاؤس ایک ہی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئے،نوازشریف

250

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ بنی گالہ اور بلاول ہاؤس والے سب ایک درگاہ میں جا کر جھک گئے اور سلام پیش کیا۔

 پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم شہیاز شریف کو پارٹی کا نیا صدر منتخب کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے، ہمارے لئے یہ صورتحال پیدا کی گئی ہے، 2013 میں عوام نے مجھے بطور وزیراعظم منتخب کیا، مجھے عوام نے کروڑوں ووٹ دے کر وزیراعظم منتخب کیا، میں دن رات سوچتا ہوں کہ قوم کو اندھیروں میں ڈبو دیا گیا، دہشت گردی میں دھکیل دیا گیا، تنزلی کی طرف دھکیلا گیا، لوڈشیڈنگ کے دور کو چار سال میں ختم کرنا نا ممکن ہے، ہم اور ہمارے وزراء نے دن رات محنت کر کے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا۔

 سابق وزیراعظم نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی روزانہ پورے ملک میں منصوبوں کا افتتاح کر رہا ہوں،شہباز شریف نے جتنا کام کیا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی،نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مجھ سے کہا کہ آپ بھی میرے ساتھ چل کر افتتاح کریں مگر میں بھی انسان ہوں، میرا دل بھی چاہتا ہے ، مگر میں نہیں گیا، اس موقع پر انہوں نے شعر پڑھ کر سنایا کہ ‘‘ہمارا خون بھی شامل تزئیں گلستان میں۔۔۔ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے’’منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم اور شہباز شریف مجھے یاد کرتے ہوں گے، کبھی کبھی انسان کا دل بھی ٹوٹ جاتا ہے، مگر میں اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹوں گا، ہمارے اگلے 70سال پچھلے 70سال سے بہتر ہونے چاہئیں، میں آپ کو بھی اس مشن میں ساتھ لے کر چلوں گا،چین سے نہیں بیٹھنے دوں گا۔

نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کا آئندہ الیکشن میں منشور ہو گا‘‘ووٹ کو عزت دو’’ ، آج لاکھوں لوگ یہ ہی نعرہ لگا رہے ہیں، ووٹ کو عزت دینے کا مطلب ہے عوام کو عزت دو، ان کے مینڈیٹ اور حق حکمرنی کو عزت دو، میرے سامنے عزت عوام، ملک اور آنے والی نسلوں کی ہے، خطاب کے دوران شرکاء نے پرجوش نعرے بھی بلند کئے۔ انہوں نے کہا کہ آج کروڑوں لوگ ٹیلی وژن پر ہمیں دیکھ رہے ہیں، میں عوام کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے اپنی سیاست کیلئے کوئی لالچ نہیں، میں یہ سب کچھ آپ کے ووٹ کی عزت کے لئے کرنا چاہتا ہوں، جس سے عالمی دنیا میں ہماری عزت ہو گی، آپ نے آئندہ الیکشن میں ووٹ کو ریفرنڈم بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں روزانہ نیب عدالتوں کے چکر لگا رہا ہوں، کوئی مجھے بتائے کہ میں نے کون سی کرپشن کی ہے،انہوں نے کہا کہ  میں نےووٹ کے احترام ، عزت اورقوم کے بچوں کی بات کرتا ہوں، میں پاکستانی قوم کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتا ہوں، میرا ایجنڈا پاکستان کی ترقی ہے، سی پیک میں لاکھوں افراد کو روزگار مل رہا ہے، ملک میں مہنگائی کا خاتمہ ہو رہا تھا، پاکستان میں میٹرو بس، اورنج ٹرین اور دیگر منصوبے لگ رہے تھے، مگر مجھے اس بات کی سزا دی گئی، مجھے اپنی نہیں اپنی قوم کی پرواہ ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ آپ نے گزشتہ روز ملک میں تماشا دیکھا، لوگ بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں کہ ہم اصول پرست ہیں، نیا پاکستان بنائیں گے، گزشتہ روز سب ایک ہی بارگاہ میں اکٹھے ہوگئے ، چلنے والے قافلے ایک ہی جگہ جا کر جھک گئے، کیا قد کاٹھ ہے اس شخص کا، یہ سب چابی والے کھلونے ہیں، تم لوگوں کو کس طرح سے بتاؤ گے کہ کیوں ہم نے اس جگہ پر جا کر جھک کر سلام کیا اور سجدہ ریز ہو گئے، قوم جانتی ہے کہ تم منافق اور جھوٹے ہو، تمہارے قول و فعل میں تضاد ہے، کیا لیڈر اس طرح کے ہوتے ہیں یہ پاکستانی قوم کے لیڈر نہیں شرمندگی ہیں، تم جیت کر ہار گئے ہو، ہم ہار کر بھی جیت گئے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ دل میں کھوٹ ہو تو کبھی بھی کامیابی نہیں ملتی، اس موقع پر انہوں نے شعر پڑھا کہ ’’ جو میں سربسجدہ ہوا کبھی، تو زمین سے آگے لگی سدا، تیرا دل تو ہے صنم آشنا،مجھے کیا ملے گا نماز میں‘‘ انہوں نے مرزا غالب کا شعر بھی پڑھ کر سنایاکہ ’’ کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب، شرم تم کو مگر نہیں آتی‘‘ ہم پاکستانی قوم کو بیچنے والے نہیں اور نہ ہی کمپرومائز کر نے والے ہیں، اپنے مفاد کی خاطر پاکستانی قوم کو بیچنے والے نہیں ہیں جبکہ یہ لوگ اپنے مفاد کیلئے آپ کو بیچ دیں گے، ہم کھڑے ہیں، برداشت کر رہے ہیں، ہم جھکنے والے نہیں ہیں، ہم صرف اللہ کی بارگاہ میں جھکے گے اور آپ بھی وعدہ کرو کہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکیں گے، وعدہ کرو کہ الیکشن کو ریفرنڈم بنائیں گے، وعدہ کرو کہ پاکستان کی تقدیر بدلو گے، آخر میں انہوں نے ؟؟ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ بھی لگوایا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ