نواز شریف ن لیگ کے تا حیات قائد اور شہباز شریف عبوری صدر مقرر

228
لاہور، ن لیگ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت پارٹی رہنما شریک ہیں
لاہور، ن لیگ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت پارٹی رہنما شریک ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو تاحیات قائد اورشہباز شریف کو پارٹی کا عبوری صدر مقرر کردیا۔پارٹیچیئرمین راجا ظفرالحق کی زیر صدارت مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس منگل کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں منعقد ہوا،جس میں سابق وزیر اعظم محمدنواز شریف، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہاز شریف، گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ، گورنر سندھ محمد زبیر اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن،وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ،پرویز رشید اور صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ سمیت 100سے زائد اراکین نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر کے لیے شہباز شریف جبکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور محمد شہباز شریف نے تاحیات قائد کے لیے نواز شریف کا نام تجویز کیا، جس کی مرکزی مجلس عاملہ نے منظوری دے دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ 45 دن میں پارٹی کے مستقل صدر کا انتخاب کرایا جائے گا ۔اس مقصد کے لیے ن لیگ کی جانب سے پارٹی کی جنرل کونسل کا اجلاس 6 مارچ کو کنونشن سینٹر اسلام آبادمیں طلب کر لیا گیا،جہاں شہبازشریف کو مستقل پارٹی صدر بنانے کی منظوری لی جائے گی۔اس موقع پر مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے حالیہ عدالتی فیصلوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا جرم پی سی او کے تحت حلف لینے سے بہت کم ہے ،برملا کہتا ہوں کہ یہ فیصلے نہیں مانتا،ملک کے آئین کو چھوڑ کر آمر کا حلف لینا سب سے بڑا جرم ہے ،اب ہمیں ایسے راستوں کو بند کرنا ہوگا جس سے 20 کروڑ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی جاتی ہو، 3بار وزیراعظم منتخب ہوا لیکن مدت پوری نہیں کرنے دی گئی ،پی سی او جج کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرسکتا۔نواز شریف نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آمروں کے ہاتھوں بیعت ہوتی رہی، خود تو پی سی او کے تحت حلف لیتے رہیں اور ہم سے توقع کریں کہ ان فیصلوں کی تعظیم کریں۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہہمیں چور، ڈاکو اور ڈرگ ڈیلر کہا گیا، عوام کے منتخب کیے نمائندوں کو آپ نے نکال دیا، سیاستدان آسان ہدف ہیں لیکن آمروں کو ہاتھ نہیں لگایا جاتا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ن لیگ کے پاس شاندار کارکردگی اور بہت طاقتور بیانیہ ہے، فتح ہماری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ 70 برس میں کسی وزیراعظم نے مدت پوری نہیں کی، ہمیں جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر کب تک ایسا ہوتا رہے گا، پہلے آمریت کے دور میں ایسے سلوک ہوتے تھے اور اب ملک میں آمریت نہیں لیکن پھر بھی اْس دور جیسے فیصلے ہورہے ہیں۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کچھ اور چاہتے ہیں لیکن کچھ قوتیں اس ملک کو کس طرف لے جانا چاہتی ہیں، سیاسی قائدین اور سیاسی جماعتوں سے جو کچھ ہوتا آیا وہ قوم کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں شہبازشریف ہی پارٹی کو بہترین طریقے سے چلانے میں معاون ثابت ہوں گے،جس پر سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد،خواجہ سعد رفیق اور احسن اقبال بھی نوازشریف کی تائید میں کھڑے ہوگئے اور ہاتھ بلندکردیے،جس کے فوری بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی نوازشریف کے بیان کے حق میں کھڑے ہوگئے،جس پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے اعلان کیا کہ آج کے بعد شہبازشریف پارٹی کے عبوری صدر ہوں گے۔اس موقع پر شہبارشریف نے بھی مسلم لیگ(ن) کے قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ چند ایسے فیصلے جو ن لیگ کے خلاف آئے ہیں ان پر اپنی آواز بلند کرتا رہوں گے، ہمیں انصاف اور عدل کی بالادستی کے لیے ہر سطح پر جدوجہد کرنی ہوگی کیونکہ پاکستان سیاسی زندگی کے سنگین لمحات سے گزر رہا ہے۔صدارت کا منصب سنبھالتے ہوئے جذبات پر قابو رکھنا آسان نہیں لیکن وعدہ کرتا ہوں کہ میں اور تم کی تقسیم سے نکل کر خلوص دل سے پاکستان کے لیے کام کرتا رہوں گا۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ ترقی کا سفر جو نوازشریف نے شروع کیا ہے وہ جاری رہے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ