آپریشن کے مسائل

77

مولانا حذیفہ وستانوی

شریعت اسلامیہ نے علم طب سیکھنے، سکھانے، اور اس کے اطلاق کو نہ صرف مباح بلکہ مصالح عظیمہ ومنافع جلیلہ یعنی صحت کی حفاظت، اور امراض کے ضرر سے بدن کو بچانے کی بنا پر فرض کفایہ قرار دیا ہے۔ ذیل میں طب کے چند مسائل بیان کیے جا رہے ہیں۔
(Anesthesia) عمل تخدیر یعنی بے ہوش کرنے کے احکام
مسئلہ: بے ہوش کرنا اصلاً حرام ہے، اس لیے اس میں وقتی طور پر عقل زائل ہوجاتی ہے، جیسے کہ افیون، گانجا، حشیش، شراب سے ہوتی ہے، دونوں میں علت ایک ہی ہے، تو حکم بھی ایک ہی ہوگا۔ (احکام الجراحۃ الطیبۃ)
مسئلہ: چند حالتوں میں بے ہوش کرنا جائز ہے، اس کی تین صورتیں ہیں: (1) ضرروت، (2) حاجت، (3) ضرورت وحاجت سے کم۔
ضرورت: مریض کی ایسی حالت ہو کہ بے ہوش کیے بغیر سرجری کرنا محال ہو، جیسے: ہارٹ کا آپریشن، یا اس جیسے خطرناک آپریشن کہ اگر مریض کو بے ہوش نہ کیا جائے تو دوران آپریشن یا آپریشن کے تھوڑی دیر بعد مریض کی موت کا خوف ہو، تو ایسی صورت میں بے ہوش کرنا جائز ہے۔
حاجت: مریض کی ایسی حالت ہو کہ بے ہوش کیے بغیر سرجری کرنا محال نہ ہو، اور نہ ہی اس میں موت وہلاکت کا خطرہ ہو، لیکن مشقت شدیدہ کا سامنا کرنا پڑے، تو اس حاجت کو بمنزلۂ ضرورت قرار دے کر بے ہوش کرنا جائز ہے۔
ضرورت وحاجت سے ادنیٰ درجہ: مریض کی ایسی حالت ہو کہ اس کو بے ہوش کیے بغیر سرجری کرنا ممکن ہو، اس میں مشقت تو ہو، لیکن ایسی مشقت نہ ہو کہ اس پر صبر کرنا ممکن نہ ہو، تو اس صورت میں بھی مریض پر آسانی کا معاملہ کرتے ہوئے بے ہوش کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

5
جراحتِ عملی کے احکام
مسئلہ: بدن کے کسی عوض کو کاٹنا حرام ہے، لیکن ضرورت وحاجت کے وقت اپنے آپ کو موت وہلاکت، یا مشقت سے بچانے کے لیے جائز ہے۔
بواسیر کو کاٹنے کی تین حالتیں ہیں:
(1) بواسیر کو کاٹنا حرام ہے، جب کہ اس کو کاٹنے سے ہلاکت کا اندیشہ ہو۔
(2) اس کا کاٹنا مباح ہے: جب کہ اس کے چھوڑے رکھنے سے ہلاکت کا خوف ہو۔
(3) اس کا کاٹنا مکروہ ہے: جب کہ کاٹنے کی صورت میں ہلاکت کا اندیشہ نہ ہو، اور نہ ہی رکھ چھوڑنے کی صورت میں ہلاکت کا اندیشہ ہو۔
زائد انگلیوں کو کاٹنے کی دو حالتیں ہیں:
مسئلہ: (1) زائد انگلیوں کو رکھنے میں کوئی تکلیف نہ ہو، تو اس وقت ان زائد انگلیوں کو کاٹنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ یہ تغییر فی خلق اللہ ہے، اور تغییر فی خلق اللہ حرام ہے۔
مسئلہ: (2) زائد انگلیوں کو رکھنے میں تکلیف ہو، اور اس تکلیف کو ختم کرنے کا کوئی دوسرا علاج نہ ہو، سوائے ان انگلیوں کو کاٹنے کے، تو اس صورت میں ضرورتاً ان زائد انگلیوں کو کاٹنا جائز ہے۔
ضرورت سے زائد عضو کو کاٹنے کا حکم
مسئلہ: انسان کے عضو کو کاٹنا اصلاً ناجائز وحرام ہے، اور ضرورتاً جائز ہے، تو اس پر واجب ہے کہ جتنی ضرورت ہو اسی پر اکتفا کرے، زیادہ کاٹنا حرام ہے۔
(ورم) سوجن کو جڑ سے ختم کرنے کا حکم
مسئلہ: ورم؛ اورام حمیدہ: گوشت یا رگوں میں گانٹھ کا پیدا ہونا، جس کا نمو غیر طبعی ہوتا ہے، یہ کسی آفت یا بیماری کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، اس کی دو قسمیں ہیں:
(1) ایسے ورم جو لا علاج نہ ہو ں ( Swelling Good) کہلاتے ہیں، یہ وہ سوجن ہے جس کا نمو سست ہوتا ہے، اور اس کو باہر کا غلاف گھیرے ہوئے ہوتا ہے، یہ محدود ہوتی ہے، خون وغیرہ میں منتقل نہیں ہوتی ہے، اس سوجن میں سلامتی غالب ہوتی ہے، اس لیے اس کو جڑ سے نکال دینا جائز نہیں ہے، ان کو ہلکے پھلکے ورم یعنی اورام خفیفہ (Swelling Soft) بھی کہا جاتا ہے۔
(2) ایسے ورم جو لا علاج ہوتے ہیں، اورام خبیثہ: (Swelling No Good) کہلاتے ہیں، یہ وہ سوجن و گانٹھ ہے کہ اس کا نمو تیزی سے ہوتا ہے، اور وہ جسم میں پھیل جاتی ہے، یہ دو مجموعے پر مشتمل ہے:
(1) کینسر، (2) سلحات (Tumour)، (گوشت میں پیدا ہونے والا ایک خطرناک ورم ہے) کینسر: جس کو ورم سرطان بھی کہا جاتا ہے، اس سوجن میں شدید خطرہ اور عظیم ضرر ہوتا ہے، کہ مریض کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے، یہ سوجن خواہ جسم کے کسی متعین حصے میں ہو یا پورے جسم میں پھیل جائے اس کو نکال دینا جائز ہے۔
مسئلہ: کسی بیماری کی وجہ سی جسم میں گوشت کا بڑھ جانا، اس زائد گوشت کو نکال دینا جسم پر اثر انداز ہوتا ہے، اس لیے اس کو نکالنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر دوا وغیرہ سے علاج ممکن نہ ہو تو درء المفاسد کے قبیل سے اس کو نکال دینے کی اجازت ہے۔
بدن کو چیرنے کا حکم
مسئلہ: عمل جراحی کا ایک مرحلہ الشق ’’یعنی بدن کو چیرنا ہے‘‘ بدن کو چیرنا کبھی ضرورۃً ہوتا ہے جس میں موت سے بچنا مقصود ہوتا ہے، جیسے حاملہ کے پیٹ کو زندہ یا مردہ بچے کو نکالنے کے لیے چیرنا، جبکہ سرجری نہ کرنے کی صورت میں ان دونوں میں سے کسی ایک، یا دونوں پر ہلاکت کا خوف ہو، اور کبھی بدن کو چیرنا حاجۃً ہوتا ہے، جس میں ضرر لاحق، یا ضرر متوقع کا ازالہ کیا جاتا ہے، شق کی یہ دونوں صورتیں شرعاً جائز ہیں۔
مسئلہ: انسان کے جسموں کی وہ پھٹن جو کسی آفت یا بیماری کی وجہ سے ہوجائے، اور علاجاً اس کو جوڑنا ضروری ہو تو شرعاً ان کو جوڑنا جائز ہے۔
مسئلہ: عورت کے پھٹے ہوئے پردۂ بکارت کو جوڑنا مطلقاً جائز نہیں ہے۔
مسئلہ: سرجری کے بعد خون کے جریان کو بند کرنے کے لیے اگر اس عضو کو داغنے کی ضرورت ہو، تو اس عضو کو داغنا جائز ہے، اور ہر ایسی حالت جس میں طبیب داغنے کی ضرورت محسوس کرے تو داغنے کی اجازت ہے۔
اعضا کی پیوند کاری
عضو کو منتقل کرنے اور پیوندکاری میں منقول منہ یعنی جس سے اس کا عضو لیا جارہا ہے، وہ یا تو انسان ہوگا یا حیوان ہوگا۔
مسئلہ: اگر انسان ہے اور کافر ہے، تو اس کے عضو کو منتقل کرنا سعودی عربیہ کے بڑے علما کے نزدیک جائز ہے، اور اس کے عضو سے مسلمان کے اعضا کی پیوندکاری جائز ہے۔
مسئلہ: اگر منقول منہ مسلمان ہے، تو اس کے اعضا کو منتقل کرناجائز نہیں ہے، خواہ وہ زندہ ہو، یا مردہ ہو، اجازت دے یا نہ دے، کسی بھی صورت میں مسلمان کے عضو کو منتقل کرنا جائز نہیں ہے۔
مسئلہ: اگر منقول منہ حیوان (جانور) ہو، اور پاک ہو، جیسے وہ جانور جن کو شرعی طریقے پر ذبح کیا گیا ہو تو ان کے اعضا کو انسانوں کی طرف منتقل کرنا شرعاً جائز ہے۔
مسئلہ: اور اگر جانور پاک نہ ہو، تو اس کے اجزا سے انتفاع، اور ان کو جسم انسانی منتقل کرنا جائز نہیں ہے، مگر بوقت ضرورت، جبکہ کوئی دوسرا پاک عضو نہ مل پائے جائز ہے۔
الثقب (چھید کرنا، سوراخ کرنا)
مسئلہ: لثقب: چھید کرنا، سرجری کے مرحلوں میں سے ایک مرحلہ ہے، اصلاً ممنوع ہے، اس لیے کہ اس میں جسم کے ایک جز کو تلف کرنا لازم آتا ہے، لیکن بوقت ضرورت فقہا نے چھید کرنے کی اجازت دی ہے، جیسے کہ اگر بچے کی مقعد کا راستہ خلقی (پیدائشی) طور پر بند ہو، تو اس کو کھولنا، اور اگر پیشاب کا راستہ بند ہو تو اس کو کھولنا۔
مسئلہ: ملیۂ تجمیل اذن ( Ear beautifying Surgery): عورتوں کی زیب وزینت کے لیے ان کے کانوں میں سوراخ کرنا تاکہ وہ بالیاں لٹکائیں جائز ہے۔
مسئلہ: رجری کے درمیان کاٹے ہوئے عضو کو اس کی جگہ پر لوٹانا جائز ہے، اس لیے کہ انسان کا مردار عضو بھی پاک ہے۔
مسئلہ: حد اور قصاص میں کاٹے ہوئے عضو کو اس کی جگہ پر لوٹانا جائز نہیں ہے، اگرچہ صاحب حق اس کی اجازت دیدے، صحیح تر قول کے مطابق، کیوں کہ اگر اس کی اجازت دی جائے تو مقصدِ حد فوت ہوجائے گا۔
مسئلہ: مصنوعی اعضا کے ذریعے اعضا کی پیوندکاری کرنا بوقت ضرورت وحاجت جائز ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ