کڈنی سینٹر کو فعال کرنے کا فیصلہ 

120

کڈنی سینٹر لانڈھی کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مزید بہتر اور فعال بنانے کا فیصلہ۔ کڈنی سینٹرلانڈھی، سندھ سوشل سیکورٹی کے تحت چلنے والا ایسا مرکز ہے جو اندرون سندھ خصوصاً ٹھٹھہ، بدین، ملیر، لانڈھی اور کراچی کی ساحلی پٹی کے صنعتی و تجارتی اداروں میں کام کرنے والے محنت کشوں اور ان کے لواحقین گردے کے مریضوں کو SIUT کے متبادل کے طور پر سہولیات فراہم کررہا ہے۔ یہ بات کمشنر سیسی نسیم الغنی سہتو نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد کڈنی سینٹرلانڈھی اور سوشل سیکورٹی لانڈھی ہسپتال کے دورے کے موقع پر بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ کہ کراچی کی ساحلی پٹی پر اس مرکز کو اسٹیٹ آف دی آرٹ بنایاجائے تاکہ لانڈھی، ملیر، ٹھٹھہ ، بدین اور اندرون سندھ سے آنے والے محنت کشوں اور ان کے لواحقین مریضوں کو شہر کے گنجان علاقے میں جانے کی ضرورت نہ پڑے۔کمشنر سیسی نے دورے کے موقع پر کڈنی سینٹرکے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور انہوں نے کہاکہ سندھ سوشل سیکورٹی کے تحت چلنے والا یہ کڈنی سینٹر تمام جدید سہولتوں سے آراستہ ہے او یہ مرکز SIUT کا متبادل ثابت ہوسکتا ہے، اگر
اسے درست سمت میں آگے بڑھایاجائے۔ا نہوں نے کہاکہ ٹھوس اور عملی اقدامات کے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مزید بہتر اور قابل عمل بنانے کے لئے ہر ممکن تعاون کیاجائے گا جس کے لئے SIUT کے ادیب الحسن رضوی کی سفارشات اہم ہوں گی۔ قبل ازیں ایم ایس ڈاکٹرشاہ محمدنوناری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ 2006میں قائم ہوا اور گزشتہ دو سال میں 75% فیصد مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے میں اب تک 110273 مریضوں کو ڈائیلاسس، پتھری اور دیگر بیماریوں کا علاج کرکے طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ بعد ازاں کمشنر سوشل سیکورٹی نسیم الغنی سہتو نے سوشل سیکورٹی لانڈھی ہسپتال کا بھی دورہ کیا اور ایم ایس ڈاکٹرجاوید راجپوت اور ڈاکٹراقبال میمن کو ہدایت کی کہ یہاں آنے والے محنت کشوں اور ان کے لواحقین مریضوں کو ہر ممکن طبی سہولتین فراہم کرنے میں کوئی دقیقہ فزوگذاشت نہ کیاجائے، ہسپتال کے وارڈز، آپریشن تھیٹرز کا معیار بہتر بنایاجائے اور معیاری ادویہ کی فراہمی کویقینی بنایاجائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ