تھل انجینئرنگ میں مزدور دشمنی کے ریکارڈقائم

79

تھل انجینئرنگ کورنگی میں واقع ہے جہاں 1300سے زائد مزدور کام کرتے ہیں تھل انجینئرنگ HOH جوکہ ایک بڑا صنعتی گروپ ہے کا ایک ذیلی ادارہ ہے لیکن اس کمپنی میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں اور یہ پاکستان کے لیبر قوانین پر عمل درآمد نہیں کرتے،نہ یہ لیبر کورٹس کو مانتے ہیں اور نہ ہی NIRC کے قوانین کو مانتے ہیں۔
تھل انجینئرنگ میں مزدور کو اپنی یونین بنانے کا کوئی حق نہیں ہے اور اگر یونین بن بھی جائے تو تسلیم نہیں کرتے یہ صرف اس یونین کو ہی تسلیم کرتے ہیں جو پاکٹ یونین فیکٹری رجسٹرڈکراکے دیتی ہو۔ یونین بنانے کہ جرم میں اب تک 44مزدوروں کو برطرف کیا جاچکا ہے۔ جب کہ مزدوروں کے پاس لیبر کورٹ اورNIRC کا اسٹے موجود ہے۔لیکن تھل انجینئرنگ کی انتظامیہ کے آگے ان اسٹے آرڈرز کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے۔اس تمام کارروائی میں NIRC کے کرپٹ افسران ملوث ہیں جن کی وجہ سے NIRC میں داخل یونین جس کو ستمبر2017 میں جمع کروایا گیا تھا آج تک رجسٹرڈ نہیں ہوسکی یونین کی پوری فائل چوری کرکے مخالف یونین کے حوالے کردی گئی یونین R&i میں مورخہ 14-09-2017 کو ڈائری نمبر 2780 کے تحت جمع ہوئی ہے او ر جس کا کیس نمبر 3(45)2017 ہے جوکہ ابھی تک رجسٹرڈ نہیں کی گئی جس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور اس وجہ سے اس کے 22ممبران و عہدیداران کو برطرف کردیا گیا۔واضع رہے کہ سابقہ سے سابقہ رجسٹرار نے تھل انجینئرنگ کی 2 پاکٹ یونینز ایک ہفتہ میں رجسٹرڈ کردی تھیں ان تمام معاملات سے RTU ,NIRC, اور چیئرمینNIRC کو مطلع کیا جاتا رہا ہے لیکن مزدور کی کوئی سننے پر آمادہ نہیں ہے۔ 11جنوری کو تھل انتظامیہ نے فیکٹری میں ہڑتال کا ڈرامہ رچاتے ہوے لیبر ڈیپارٹمنٹ کو اطلاع دی کہ مزدوروں نے کام بند کیا ہوا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا ،اس کے بر عکس انتظامیہ نے شاپس میں مزدوروں کو بند کرکے اور تالے لگا کر کام لیا جارہا تھا جس پر مزدوروں نے احتجاج کیا کہ بلدیہ فیکٹری جیسا ماحول نہ بنایا جائے جس کی تصاویر اور وڈیوز موجود ہیں اس کی اطلاع لیبر ڈیپارٹمنٹ کو یونین کے عہدیداران نے دی تھی جس پر جوائنٹ ڈائریکٹر لیبر نے وزٹ بھی کیا تھا اور خود
سے لگے ہوئے تالے کھلوائے تھے۔ اس کی اطلاع بھی ڈپٹی رجسٹرار NIRC کراچی بینچ کو کی گئی تھی مزید یہ اطلاع NIRCاسلام آباد کو بھی کی گئی تھی لیکن لا حاصل اور پھر اس نہ کردہ جرم میں ایک مرتبہ پھر وہ باشعور ہیرے جو مثبت ٹریڈ یونین کر کے اپنے آئینی حقوق لینا چاہتے تھے بے روزگار کردئے گئے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کی یہ مظلوم اور دکھی مزدور کس کے دروازہ پر دستک دے،لیبر کورٹ جہاں انصاف حاصل کرنے میں 3 ماہ کی جگہ 30 سال انتظار کرنا پڑتا ہے یا اس NIRC سے رابطہ کیا جائے کہ جو مزدوروں کو اسٹے تو دیتا ہے لیکن تحفظ فراہم نہیں کرتا یا پھر وہ ان لوگوں کی طرح بن جائیں کہ جو اپنا فیصلہ خود کرتے ہیں جن کو دہشت گرد کہا جاتا ہے یا پھر وہ پاکٹ یونین کرے جیسا کہ تھل کی انتظامیہ نے بنا لیں ہیں۔ آخر مزدور کیا کرے؟

Print Friendly, PDF & Email
حصہ