افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی خطے کیلیے خطرناک ہے‘ سراج الحق

371
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کوپن ہیگن ڈنمارک میں استقبالیہ تقریب سے خطاب کررہے ہیں
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کوپن ہیگن ڈنمارک میں استقبالیہ تقریب سے خطاب کررہے ہیں

ڈنمارک( نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ امریکی حواریوں اور کاسہ لیسوں کو اب خود فریبی سے نکل کر قوم کو امریکی غلامی کا درس دینے کی پالیسی ترک کردینی چاہیے، افغانستان میں امریکی فورسز کی موجودگی پورے خطے کے لیے بے چینی کا باعث اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کررہی ہے، خطے میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اور نیٹو فورسز فوری طور پر افغانستان سے نکل جائیں، ٹرمپ کی دھمکیوں سے پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکز منصورہ لاہور سے جاری اعلامیے کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں پاکستانی کمیونٹی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی اول روز سے قوم کو امریکی ایجنڈے سے آگاہ اور اس کی سازشوں سے ہوشیار کرتی رہی ہے مگر امریکا کو ان داتا اور آقا قرار دینے اور واشنگٹن کو قبلہ سمجھنے والوں نے ہمیشہ قوم کو لوریاں دے کر سلانے کا رویہ اپنائے رکھا ۔ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرتے ہوئے دوسرے ممالک پر قبضہ کرنے کی پالیسی ترک کردینی چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ امریکا نے عرا ق کو تخت و تاراج کرنے کے بعد افغانستان پر چڑھائی کی اور اس کی ہزاروں کی تعداد میں فوج اب بھی افغانستان میں موجود ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ امریکی انتظامیہ ایک جارحانہ سوچ رکھتی ہے اور امریکا کا یہ رویہ دنیا میں جنگ و جدل اور بدامنی کو فروغ دے رہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کی طویل سرحد پاکستان کے ساتھ ملتی ہے اور افغانستان میں امریکی فورسز کی موجودگی پورے خطے کے لیے بے چینی کا باعث اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کررہی ہے ۔ امریکا کی طرف سے بھارت کی بالادستی کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی ۔ خطے میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ امریکی و نیٹو فورسز فوری طور پر افغانستان سے نکل جائیں اورافغان عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے کا موقع دیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کا افغانستان میں عمل دخل اور اسے خطے کا تھانیدار بنانے کی امریکی سازشیں علاقے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہیں ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ٹرمپ کی دھمکیوں سے پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ اگر ٹرمپ یا امریکی انتظامیہ نے پاکستان کو امداد یا رقم دی ہے تو اس کا حساب پرویز مشرف سے یا ان کی ٹیم سے مانگا جائے جن کے حوالے یہ رقم کی گئی تھی ۔ امریکا اپنے من پسند حکمرانوں کی بداعمالیوں کی ذمے داری پاکستان کے عوام پر نہیں ڈال سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا اعلان دوسرے ملکوں پر چڑھائی اور دھمکیاں ٹرمپ کا پاگل پن ہے جو خود امریکی عوام کے لیے نقصان دہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی امریکا کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں مگر امریکی حکمرانوں کی سوچ ہمیشہ منفی رہی ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ امریکی عوام بھی ٹرمپ کے منفی رویے اور پالیسیوں کا ساتھ نہیں دیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی حکومت کو امریکا سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں اور پوری جرأت کے ساتھ امریکا پر دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا جائے کہ ہم ایک آزاد اور خود مختار قوم ہیں اور چند ڈالرز کے عوض اپنی خود ی کو نیلام نہیں کر سکتے ۔ ہم اپنی پالیسیاں بنانے اور فیصلے کرنے میں آزاد ہیں امریکا کو ہمارے فیصلوں میں دخل اندازی کا کوئی حق نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکمرانوں نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے اور امریکی غلامی کو ترک نہ کیا تو عوام ان کو مزید برداشت نہیں کریں گے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ