آئی جی کے اختیارات میں مداخلت، حکومت سندھ نے جواب جمع کرادیا

45

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی کے اختیارات میں مداخلت اور پولیس رولز سے متعلق توہین عدالت کی درخواست پر سندھ حکومت کے جواب جمع کرانے کے بعد سماعت 20 دسمبر تک ملتوی کردی۔ 2 رکنی بینچ کے روبرو آئی جی سندھ کے اختیارات اور پولیس رولز سے متعلق توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ حکومت سندھ کی جانب سے جواب عدالت میں جمع کراد یا
گیا۔ جواب میں کہا گیا کہ درخواست گزار محض سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سندھ حکومت ہائی کورٹ کے فیصلے پر دل و جان سے عمل کر رہی ہے۔ عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ جواب میں 28 اکتوبر کو ہونے والے کابینہ اجلاس کے منٹس بھی شامل کیے گئے ہیں۔ آئی جی کی جانب سے پولیس پوسٹنگ اور ٹرانسفر رولز کے ڈرافٹ پر غور کے لیے کمیٹی بنا دی گئی۔ کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں آئی جی سندھ کو یہ ڈرافٹ تجاویز کے ساتھ دوبارہ واپس بھیج دیا گیا ہے۔ ان قوانین کی تیاری میں آئی جی سندھ سے مکمل مشاورت کی گئی ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق آئی جی کو آن بورڈ لیا گیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے فیصلے میں آئی جی کے تبادلے کا طریقہ کار وضع کیا تھا۔ کابینہ نے عدالتی حکم کے مطابق طریقہ کار اختیار کیا۔ آئی جی سندھ کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے دوبارہ بھیجے گئے ڈرافٹ پر غور جاری ہے، مہلت دی جائے۔ درخواست گزار کرامت علی نے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سندھ پولیس ٹرانسفر اینڈ پوسٹنگ ایکٹ 2017ء میں آئی جی کی سفارشات پر عمل نہیں کیا جارہا۔ ایسا نہ کرنا عدالتی حکم کے پیرا 96 کے برخلاف ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ چیف سیکرٹری اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ