ٹرمپ کا تباہ کن طوفان خیز اعلان

165

امریکی صدر ٹرمپ نے عالم اسلام، عرب ممالک میں اپنے دوستوں اور یورپ کے رہنماؤں کی مخالفت اور تنبیہ مسترد کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور وہاں امریکی سفارت خانہ منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جواز اس فیصلہ کا یہ پیش کیا ہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے یہ وعدہ کیا تھا اور بڑے طمطراق سے یہ دعویٰ کیا کہ ان سے پہلے ان کے پیش رو صدور نے بھی یہ وعدہ کیا تھا لیکن وہ سب کے سب اس وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور وہ پہلے صدر ہیں کہ جنہوں نے یہ وعدہ پورا کردیا ہے۔ ٹرمپ کی یہ دلیل ہے کہ امریکی کانگریس نے بائیس سال پہلے 1995 میں مکمل اتفاق رائے سے فیصلہ کیا تھا کہ امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا جائے، لیکن ہر چھ ماہ بعد امریکی صدر اس پر عمل موخر کرنے کے حکم نامے پر دستخط کرتا رہا ہے، اور خود ٹرمپ نے چھ ماہ پہلے اس موخر نامے پر دستخط کیے تھے۔ جب سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان صلح کی کوششیں شروع ہوئی ہیں بین الاقوامی برادری اس پر متفق تھی کہ مذاکرات کے ذریعے امن کے حتمی حل میں یروشلم کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے اور اس سے پہلے کوئی فیصلہ یا اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا تباہ کن عمل ہوگا اور امن کے مذاکرات کی کامیابی کے تمام امکانات ختم ہو جائیں گے۔ ویسے بھی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیاں امن کی کوششیں 2014 میں امریکا کے سابق وزیر خارجہ جان کیری کے مشن کی ناکامی کے بعد ٹھپ پڑ گئی تھیں۔
سوال یہ ہے کہ اس وقت جب کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان صلح کے نہ تو مذاکرات شروع ہوئے ہیں اور نہ کوئی قابل عمل ٹھوس منصوبہ پیش کیا گیا ہے، ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیوں کیا ہے؟۔ عام خیال یہ ہے کہ ٹرمپ اس وقت صدارتی انتخاب کے دوران، روس سے خفیہ ساز باز کرنے کے الزام کے پھندے میں بری طرح سے پھنس گئے ہیں اور ان کے گرد مواخذہ کے خطرے کے بادل چھارہے ہیں اس لیے وہ یروشلم کے مسئلہ پر ہنگامہ کھڑا کر کے اپنے سیاسی مصائب کو پس پشت ڈالنا چاہتے ہیں۔
امریکا میں یہودیوں کی با اثر تنظیم AIPAC کا بھی ٹرمپ پر سخت دباؤ تھا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا جلد از جلد اعلان کیا جائے۔ یہودیوں کی اس تنظیم نے ٹرمپ کو انتخابی مہم کے لیے 15ملین ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔ ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان صلح کا ایسا نادر حل پیش کریں گے جو ان سے پہلے کوئی صدر پیش نہیں کر سکا ہے۔ اس دعوے کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی وہ ناکام رہے ہیں۔ صلح کا حل تلاش کرنے کے لیے ٹرمپ نے اپنے ناتجربہ کار قدامت پسند یہودی داماد جارڈ کوشنر کو اپنا مشیر مقرر کیا تھا جنہوں نے اس سلسلے میں اسرائیل اور سعودی عرب کے کئی دورے کیے تھے اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے تفصیلی بات چیت کی تھی۔ بتایا جاتا ہے ان مذاکرات کے نتیجہ میں ’’حتمی سودے‘‘ کے عنوان سے ایک منصوبہ کے نکات طے ہوئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرے گا اور اس کے عوض امریکا فلسطین کی مملکت کو تسلیم کر نے پر آمادہ ہو جائے گا۔ لیکن مشرقی یروشلم کو فلسطینیوں کا قومی دارالحکومت تسلیم نہیں کیا جائے گا جب کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت یروشلم تینوں مذاہب کا شہر تسلیم کیا گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ارض فلسطین پر تعمیر شدہ یہودی بستیوں میں سے کسی بستی کو ختم نہیں کیا جائے گا اور ان بستیوں میں آباد کسی یہودی کو بے دخل نہیں کیا جائے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجوزہ منصوبے کے تحت امریکا اسرائیل کی سیکورٹی کی خاطر ان یہودی بستیوں کے وجود کو تسلیم کر ے گا اور اسرائیل کے دفاع کی خاطر دریائے اردن کے کنارے تک اسرائیل کی فوج تعینات کی جائے گی۔ یہی نہیں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کو سیکورٹی کنٹرول حاصل ہونا چاہیے۔ اگر نیتن یاہو کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا تو فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوج تعینات کی جائے گی۔ اس صورت میں فلسطین کی مملکت کی خودمختاری اور حاکمیت بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔
بتایا جاتا ہے کہ سعودی ولی عہد، عرب حکمرانوں سے اس منصوبے کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے یوں ٹرمپ کے داماد کی کوششیں بھی بے ثمر ثابت ہوئیں۔ عام خیال ہے کہ ٹرمپ نے اپنے داماد کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے یروشلم کے بارے میں یہ اعلان کیا ہے۔ مبصرین کی رائے ہے کہ اس اعلان کے بعد امریکا اب غیر جانبدار دلال کی حیثیت بھی کھو بیٹھا ہے۔ گو ٹرمپ نے یروشلم کے بارے میں اعلان میں کہا ہے کہ یروشلم کی حدود مذاکرات کے ذریعے طے کی جائیں گی لیکن یہ بے معنی تجویز ہے کیوں کہ مشرقی یروشلم میں جس پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا، اسرائیل نے غیر قانونی یہودی بستیاں تعمیر کر کے اور ان میں دو لاکھ سے زیادہ یہودیوں کو آباد کر کے یروشلم کا نقشہ بدل دیا ہے اور عملی طور پر اسے اسرائیل میں ضم کر لیا گیا ہے۔ 1967 سے پہلے یروشلم اردن کے زیر انتظام تھا اور اس وقت یہاں فلسطینیوں کی آبادی تین لاکھ تھی جو اب کم ہو کر یہودیوں کے برابر رہ گئی ہے۔
یروشلم کے بارے میں ٹرمپ کے اعلان کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ امریکا کے اناجیلی عیسائی (Evengelical) یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے زبردست حامی ہیں کیوں کہ ان کے عقیدے کے مطابق اسرائیل کا قیام اللہ تعالیٰ کا معجزہ ہے اور اسرائیل کی بقا میں ان کی بقا مضمر ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ امریکا کے 80 فی صد اناجیلی عیسائیوں نے ٹرمپ کو ووٹ دیے تھے۔ ٹرمپ اور ان عیسائیوں کے درمیان نائب صدر پینس رابطہ کار ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس وقت جب وہائٹ ہاؤس میں ٹرمپ یروشلم کے بارے میں اعلان کر رہے تھے تو ان کے پیچھے نائب صدر کھڑے تھے جس کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ اس مسئلہ میں نائب صدر پینس ان کے حامی ہیں کیوں کہ یہ خبریں عام تھیں کہ وزیر خارجہ ٹلرسن اور وزیر دفاع جنرل میٹیس سفارتی اور سیاسی مضمرات کے پیش نظر اس اعلان کے حق میں نہیں تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ بروکنگز انسٹیٹیوشن کے سروے میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے 63 فی صد عوام اس اقدام کے خلاف ہیں۔
صدر ٹرمپ اپنے آپ کو تاریخی صدر قرار دینے کے جوش میں یہ بالکل فراموش کر گئے کہ ان کے اعلان پر فلسطینی عوام کے طیش کا طوفان کس زور سے اٹھے گا۔ ٹرمپ غالباً یہ سوچتے ہیں کہ وہ امریکا کی فوجی، سیاسی اور اقتصادی قوت کے بل پر عرب حکمرانوں کو بالآخر اپنا ہم نوا بنا نے میں کامیاب رہیں گے۔ ایسا جان پڑتا ہے کہ ٹرمپ نے تاریخ کا بخوبی مطالعہ نہیں کیا ہے کہ جب فلسطینی عوام چاروں سمت سے گھر جاتے ہیں تو وہ زخمی شیر کی طرح جھپٹتے ہیں۔ ان فلسطینیوں نے پہلے اور دوسرے انتفاضہ میں اپنی ایسی طاقت دکھائی ہے کہ اسرائیل کو گھٹنے ٹیک دینے پڑے ہیں۔ 30 سال قبل پہلے انتفاضہ میں فلسطینیوں کی مزاحمت کے دوران، 1962 فلسطینی شہید ہوئے اور 277 اسرائیلی فوجی اور پولس افسر ہلاک ہوئے تھے۔ پچھلے دنوں اسرائیلیوں نے مسجد اقصیٰ جانے والے راستوں پر سیکورٹی کے رکاوٹیں کھڑی کر کے فلسطینیوں کو مسجد میں جانے سے روک دیا تھا۔ اس کے خلاف فلسطینیوں کی کارروائی کے سامنے اسرائیلی حکام کو یہ رکاوٹیں ہٹانی پڑیں۔ اگلے جمعہ 8 دسمبر کو پہلے انتفاضہ کی 30ویں سالگرہ ہے۔ ٹرمپ کے اعلان پر ان کا کیا ردعمل ہوتا ہے اس کے بارے میں محض قیاس ہی کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال فلسطینیوں کے نزدیک یروشلم کے بارے میں ٹرمپ کا تباہ کن طوفان خیزاعلان، مشرقی یروشلم کو فلسطین کی آزاد مملکت کے دارالحکومت کی صورت میں دیکھنے کی خواہش اور تمنا کو ملیا میٹ کرنے کے مترادف ہے اور اب اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان صلح کے سمجھوتے کے لیے مذاکرات کے رہے سہے امکانات بھی دم توڑ گئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ