طلاق کا حق صرف شوہر کو کیوں ۔۔۔۔؟

245

مفتی زین الاسلام

طلاق کے بارے میں شریعت کا مزاج ہے کہ طلاق کسی وقتی منافرت اور عارضی اختلاف کی وجہ سے نہیں دینی چاہیے؛ بلکہ طلاق سے پہلے شریعت کی بتلائی ہوئی تدابیر اور ہدایات پر عمل کرنے کے بعد بھی اگرمسئلہ حل نہ ہو اور میاں بیوی دونوں کو اس کا یقین ہو کہ ہمارے لیے عافیت اور سلامتی جدائی ہی میں ہے، تو ایسی صورت میں سوجھ بوجھ اور باقاعدہ ہوش وحواس کے ساتھ طلاق دینی چاہیے۔ ظاہر ہے کہ طلاق سے متعلق اسلام کےِ اس معتدل اور عدل و انصاف پر مبنی فطری نظام میں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ طلاق کا حق صرف شوہر کو کیوں دیا گیا، عورت کو کیوں نہیں دیا گیا۔ اس لیے کہ اس سوال کا منشا یہ ہے کہ نعوذ باللہ اسلام نے طلاق کا حق صرف مردوں کو دے کر عورت کے ساتھ ناانصافی کا معاملہ کیا ہے؛ حالانکہ اسلام میں طلاق کا نظام عین عدل اور انصاف کے مطابق ہے، اْس نظام کو اگر اسی طرح برتا جائے، جیسا شریعت کا منشا ہے، تو یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوگا۔
تاہم اْن لوگوں کے لیے جو احکامِ اسلام کے مصالح اور حکمتوں کو ناقص عقل انسانی کے زاویے سے دیکھنا چاہتے ہیں، نیز بعض اْن لوگوں کے لیے بھی، جن کو شریعت کے ہر حکم پر مکمل بصیرت اور انشراح ہے؛ لیکن وہ مزید اطمینان حاصل کرناچاہتے ہیں؛ ہم اس کی ایک اہم حکمت پیش کرتے ہیں۔
طلاق کا حق مرد کو دیا جانا مرد کے مزاج و طبیعت کے موافق ہے، اس کے برخلاف عورت کو یہ حق ملنا خود اْس کی فطری شرم وحیا اور مزاج و طبیعت کے خلاف ہے؛ اس لیے کہ اس حق کا صحیح استعمال کرنے کے لیے بہت سی اْن صفات کا ہونا ضروری ہے، جن صفات میں اللہ تعالی نے مردوں کو عورتوں کے مقابلے میں ایک گونہ فوقیت عطا فرمائی ہے، مثلاً: طاقت و قوت، جرأت وہمت، خود اعتمادی، دوسروں سے متا ثر نہ ہونا، زبان پر قابو رکھنا، دور اندیشی، جلد بازی اور جذباتیت سے بچنا؛ یہ اور ان کے علاوہ بہت سی صفات ہیں، جن میں اللہ تعالی نے مردوں کو عورتوں کے مقابلے میں عام طور پر فوقیت عطا فرمائی ہے، دوسری طرف اللہ تعالی نے عورتوں کو بھی مردوں پر بہت سی صفات اور خوبیوں میں فوقیت عطا فرمائی ہے، مثلاً: الفت و محبت، رحم دلی اور نرمی، تحمل و برداشت۔ مرد اور عورت کے اِس طبعی فرق کو ساری دنیا کے سمجھدار لوگ تسلیم کرتے ہیں؛ اس لیے کہ نظامِ عالم کے متوازن طریقے پر چلنے کے لیے مرد اور عورت کے درمیان اس فطری فرق کا ہونا لازمی اور ضروری ہے۔
حقِ طلاق بھی اسی لیے مردوں کو دیا گیا کہ اْن کے اندر اللہ کی طرف سے ودیعت کی جانے والی مذکورہ بعض خصوصی صفات کی بنا پر عورتوں کی بہ نسبت اس حق کو صحیح استعمال کرنے کی صلاحیت اور اہلیت زیادہ ہے؛ اسی لیے اگر کوئی مرد اس حق کا غلط استعمال کرتا ہے، تو شریعتِ اسلامی کی نگاہ میں وہ سخت مجرم اور نافرمان سمجھا جاتا ہے؛ کیونکہ اْس نے صلاحیت اور اہلیت کے باوجود جان بوجھ کر اپنے حق سے غلط فائدہ اٹھایا۔
یہ حکمت ہم نے مثال کے طور پر پیش کر دی ہے، علما نے اس کی اور بھی حکمتیں بیان کی ہیں، جن کا ذکر ہم یہاں ضروری نہیں سمجھتے؛ بلکہ یہاں پر ہم خاص طور پر اپنے مسلمان بھائیوں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ شریعت اسلامی اللہ کا وہ پسندیدہ مذہب ہے، جو ہر اعتبار سے کامل و مکمل کر دیا گیا ہے اور اس مذہب کا ہر حکم اپنے اندر ہزار ہا ہزار حکمتوں اور مصلحتوں کو لیے ہوئے ہے، ایک مسلمان کی بندگی اور عبدیت کی اصل شان یہ ہے کہ وہ ہر حکم الٰہی کو فکری اور عملی طور پر محض اس بنیاد پر تسلیم کرے کہ یہ ساری دنیا کے مالک و خالق، بندوں کے مشفق ومحسن، بندوں کی مصلحتوں اور فائدوں کو اْن سے زیادہ جاننے والے، غیب کے بھیدوں سے واقف اور کائنات کے نظام کو چلانے والے ایک معبود حقیقی کا حکم ہے۔ حکمِ الٰہی کی گہرائیوں اور اْس کی حقیقی حکمتوں کا انسان کی ناقص عقل کے ذریعے پورے طور پر ادراک نہیں کیا جاسکتا۔ بندگی کی یہ شان ایک مسلمان کے ایمان کا اعلی مقام ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ