ٹریفک کامسئلہ -ذمے دارکون؟

53

پورے ملک میں آج کل ٹریفک کے گمبھیر مسائل نے لوگوں کا جینا دوبھر کردیا ہے لیکن کراچی میں صورت حال بہت ہی زیادہ خراب ہے،اہم شاہراہوں پر ہروقت گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آتی ہیں جس میں پھنسنے والے لوگ گھنٹوں گرمی وسردی کا عذاب سہتے رہتے ہیں، صبح سویرے ضروریات کے لیے نکلنے والے ان قطاروں میں پھنس کر کبھی بھی وقت پر جائے مقصود پر نہیں پہنچ پاتے۔ افسوس تو اس وقت بھی ہوتا ہے جب ٹریفک کے اس ازدحام میں کوئی ایمبولنس پھنس جاتی ہے اورراستہ نہ ملنے کے باعث اکثر قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔جہاں روزانہ گاڑیوں میں کروڑوں روپوں کا ایندھن پھنک جاتا ہے،وہیں لاکھوں لوگوں کا قیمتی وقت ٹریفک جام میں ضائع ہوتاہے،عوام میں چڑچڑا پن اور بلڈ پریشر بڑھنے کی وجہ بھی زیادہ تر یہی ٹریفک جام کا مسئلہ ہے،آپس میں غیر اخلاقی رویوں کے باعث بیشتر شہری آپس میں گتھم گتھا ہوکر بے عزتی و بے توقیری کا شکار بھی ہوتے ہیں ،شہریوں کو ٹریفک جام کے عذاب سے بچانے کے لیے سب سے پہلے کراچی کی آبادی کا صحیح تعین کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ صحیح معلومات کے بغیر ٹریفک جام یا کسی بھی قسم کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ناممکن ہے،کراچی میں پرائیویٹ بسوں اور سرکاری بسوں کے نظام کا محدود ہونا بھی ٹریفک کے مسائل میں اضافہ کررہا ہے،یہ ہی وجہ ہے کہ لوگ بسوں کی چھتوں پر سفر کرنے پر بھی مجبور ہیں۔رکشا اور چنگچی شہریوں کے لیے سستی سروس ضرور مہیا کررہے ہیں مگر یہ سروس کراچی کے رہے سہے ٹریفک نظام کو برباد کرنے اور حادثات کی شرح بڑھانے کا ایک بڑا ذریعہ بن گئی ہے،جگہ جگہ ان کے غیر قانونی اڈے اور اسٹاپ کے بغیر ہر جگہ پرسواریوں کے لیے کہیں بھی رک جانا ٹریفک کے نظام کو بری طرح متاثر کررہا ہے،ان رکشا چلانے والوں میں جرائم پیشہ افراد کے ساتھ زیادہ ترایسے افراد ہیں جن کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہی نہیں ہے ،بلکہ ان میں سے کئی تو ایسے ہیں جن کی شناختی کارڈ بنانے کی عمر بھی نہیں ہوئی ،پرائیویٹ اور کمرشل سیکٹر میں80فیصد بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑیاں نہ صرف چلا رہے ہیں بلکہ اڑا رہے ہیں،دن دہاڑے شہر کی مصروف شاہراہوں پر رواں دواں ٹینکرز سے گرنے والا آئل اور پانی سڑکوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ حادثات کا بھی سبب بنتا ہے، یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ کراچی کی اکثر سڑکوں کے نیچے بچھا ہوا سیوریج کا نظام تین ہزار گیلن یا 21 ٹن سے زیادہ کا وزن برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا مگر اب شہر میں 5 تا 10 ہزار گیلن پانی اور تیل لے جانے والے ٹینکرز کی ایک
بڑی تعداد موجود ہے، جس کے باعث اکثر مین ہولز کے ڈھکن آپ کو ٹوٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ مخصوص اوقات کی پابندی پر عمل نہ کرنے والے ہیوی ٹرالر بھی چھوٹی گاڑیوں کے لیے خطرہ بنے ہوتے ہیں۔شہر کے تمام فٹ پاتھوں اور خالی جگہوں پر نرسریاں قائم ہوگئی ہیں، جس کے باعث پیدل چلنے والے بھی سڑک پر چلتے ہیں اور یہ ٹریفک میں خلل اور حادثات کا بڑاسبب بنتے ہیں۔ بجلی کے بحران کے سبب فٹ پاتھوں پر رکھے دیو قامت جنریٹرز اور سڑکوں کے کنارے پڑے تعمیراتی سامان اور ملبے کی وجہ سے بھی سروس روڈز پر ٹریفک جام رہتا ہے۔ شہر میںVIP شخصیات کی آمدورفت ، احتجاجی مظاہروں اور سٹرکوں پر تعمیراتی کام کی وجہ سے بھی ٹریفک کی روانی میں زبردست خلل پڑتا ہے ۔کارشوروم مالکان بھی شہر میں ٹریفک جام کے مسائل کے ذمے دار ہیں جو اپنی گاڑیاں اہم شاہراہوں پر پارک کردیتے ہیں جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات پر طارق روڈ سے گاڑیوں کی پارکنگ کا سلسلہ ختم ہوا ہے لیکن ایم اے جناح روڈ سمیت دوسری شاہراہوں پر کارشوروم مالکان کی جانب سے گاڑیاں پارک کی جارہی ہیں ۔عام طور پر ٹریفک پولیس کو کراچی میں ٹریفک کی بد نظمی کا ذمے دار قرار دیا جاتا ہے لیکن مسئلہ شہر میں قانونی حکمرانی، عوامی شعور اور تحمل و برداشت کی کمی کاہے۔کراچی میں کم از کم بڑی شاہراہوں پر لین مارکنگ کرکے کراچی کے ٹریفک کو نظم و ضبط میں لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ کراچی میں کم از کم 200 سے زائد ایسے مقامات ہیں،جہاں کسی بھی شکل میں ٹریفک جام ہوتا ہے، اگر ان 200 مقامات کو بھی پلاننگ کے تحت رواں کر دیا جائے تو 25 فیصد ٹریفک کے مسائل ٹھیک ہو سکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ