سابق وزیر اعظم کی بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا

1942

ا سلام آباد (آن لائن ) اسلام آباد کی احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نوازشریف کی بینک اکاونٹ کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد کمرہ عدالت3 بار قہقہوں سے گونج اٹھا۔ بعدازں فاضل جج نے مزید سماعت آج تک کے لیے ملتوی کر دی۔ عدالت عالیہ کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر خان نے سماعت شروع کی تو سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف کے نمائندے ظافر خان عدالت میں پیش ہوئے ۔استغاثہ کے گواہ ملک طیب جوکہ نجی بینک کے ملازم ہیں نے اپنے بیان میں بتایاکہ ڈالر، پاؤنڈز اور یورو کرنسی اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کرا دی جس کے مطابق 7 فروری 2017ء کو نواز شریف نے اپنے اکاؤنٹ سے 2200 ڈالرز کیش کرائے،11مارچ 2017ء کو 4لاکھ ڈالر نواز شریف نے پاکستانی کرنسی اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے ،جس میں نواز شریف نے 4 ٹرانزیکشن کیں،29 مئی2017ء کو نواز شریف نے 2 لاکھ ڈالرز پاکستانی اکاؤنٹ میں ٹرانسفرکیے ،حسین نواز نے 23 دسمبر2010ء کو 30 ہزار پاؤنڈ نواز شریف کو بھجوائے، 15 نومبر 2015ء کو نواز شریف نے 25 ہزار پاؤنڈ پاکستانی کرنسی اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے ۔30 اپریل 2016ء کو نواز شریف نے 10پاؤنڈ اپنے پاکستانی کرنسی اکاؤنٹ میں ٹرانسفرکیے۔ جس پرفاضل جج نے ریمارکس دیے کہ اپنے ہی اکاؤنٹ سے اپنے دوسرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر پر کیا آپ کواعتراض ہے جس پر نوازشریف کے ناظر کا کہنا تھا کہ ہمیں دستاویزات پر اعتراض ہے جس پر معزز جج نے استفسار کیا یہ تو نواز شریف نے خود ٹرانسفر کیے کیا10پاؤنڈ کا چیک جاری ہونے پر بھی اعتراض کریں گے جس پر عدالت میں زور دار قہقہے لگے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ