بنگلا دیش میں پھانسیوں کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے‘ حافظ نعیم

75

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بنگلا دیش میں بھارت نواز حسینہ واجد حکومت کی طرف سے جماعت اسلامی کے مزید 6قائدین کو پھانسی کی سزا سنانے پر انتہائی افسوس اور دکھ کا اظہار کر تے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس معاملے کو عالمی سطح پر اُٹھایا جائے ۔پھانسیوں کے عمل کو رُکوانے کے لیے عالمی برادری سے تعاون کی اپیل کی جائے اور پاکستان ،بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان ہو نے والے سہ فریقی معاہدے کو عالمی عدالت میں لے جایا جائے ۔جس میں فریقین نے 1971ء کی جنگ و سقوطِ ڈھاکا کے واقعات پر کسی کو بھی سزا نہ دینے اور عام معافی کا اعلان کیا تھا اور تینوں ملکوں کے سر براہان نے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بنگلا دیش میں نام نہاد ٹریبونلز کی جانب سے سقوطِ مشرقی پاکستان کے دوران ہو نے والے واقعات کو بنیاد بنا کر اسلام اور پاکستان سے محبت کر نے والوں اور بالخصوص جماعت اسلامی کے قائدین اور کارکنوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا جبکہ جماعت اسلامی کے مرکزی قائدین سمیت درجنوں رہنماؤں کو صرف پاکستان سے محبت اور وفاداری نبھانے کے جرم میں پھانسیاں دی جا چکی ہیں اور بھارت نواز حسینہ واجد حکومت کی پاکستان دشمنی اور پاکستان مخالف جذبات ختم نہیں ہو رہے ۔ بد قسمتی سے پاکستان کے اندر ان پھانسیوں اور انتقامی کارروائیوں کے خلاف کوئی آواز نہیں اُٹھ رہی ۔ پاکستان سے محبت کر نے والوں کو بنگلا دیش کی ظالم حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے مگر حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بنگلا دیش میں جماعت اسلامی نے پاکستان کی سالمیت کے لیے بڑی قر بانیاں دی ہیں اور قر بانیوں کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔یہ قر بانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور بنگلا دیش میں جماعت اسلامی ظلم و جبر اور ریاستی تشدد کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود اپنی جدو جہد جاری رکھے گی اور ان شاء اللہ نئی قوت اور طاقت کے ساتھ اُبھرے گی ۔

حصہ