سیوریج کا نظام تباہ، برساتی نالہ مکینوں کے لیے عذاب بن گیا

23

یوسی 29 میں سیوریج کا نظام تو تباہ ہے یوسی میں گزرنے والے20فٹ چوڑے برساتی نالہ پوری یوسی کے لیے عذاب کا باعث بناہواہے۔ ایک طرف برساتی نالے میں موجود ٹنوں کے حساب سے کچرا تو دوسری جانب نالے پر قائم ہونے والی تجاوزات کی وجہ سے نالے کی صفائی کرنا مشکل ہے۔ ایمر جنسی کی صورت میں بھی اس نالے کی صفائی ناممکن ہوتی ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس برس ہونے والی بارشوں میں نالے کا پانی محلوں میں داخل ہو گیا اور نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ اسی نالے کا پانی مرکزی راستوں اور گلیوں میں بہتا رہتا ہے۔ نالے کے پانی کے ساتھ آنے والا کچرا اور غلاظت کئی دنوں تک یو سی کی مرکزی راستوں پر پڑی رہتی ہے ۔جس کی وجہ سے علاقے میں کاروبار اور دکانیں کئی دنوں تک بند رہتی ہیں۔ نالے کا گندا پانی راشن کی دکانوں میں داخل ہوتا ہے جوکہ لاکھوں روپے کے نقصان کا باعث بنتاہے۔ اس حوالے سے یوسی کے علاقے میں موجود دکاندار جہانگیر برادرز کے مالک وارث خان سے بات کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ ہمشہ بارشوں میں برساتی نالے میں کیچڑ کی بہتات کی وجہ سے پانی باہر روڈ پر نکل آتاہے۔ جس کی سطح تیزی سے بلند ہوتی ہے۔ اور روڈ پر موجود دوکانوں میں یہ گندا پانی داخل ہوجاتاہے۔ گزشتہ بارش میں بھی گندہ پانی دکانوں میں داخل ہونے کی پر ہمیں لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔برساتی نالے پر بنائے گئے پل کی سطح کچرے کی سطح سے کم ہے علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کے جب تک اس پل کو توڑکر اس کے اندر سے مکمل صفائی نہیں کروائی جاتی اس وقت تک مسائل پیدا ہوتے رہیں گے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا سابقہ ٹاؤن ناظم کامران اختر نے بارش کے دوران اس پل کو ایمرجنسی بنیادوں پر توڑنے کے احکامات جاری کیے تا کہ علاقے کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے علاقہ مکینوں سے وعدہ کیا تھا پل توڑنے کے بعد اس کی از سرنو تعمیر کروائی جائے گی ۔لیکن سیاسی عداوت رکھنے والے عناصر نے ان کو کام نہیں کرنے دیا اور آج تک مسئلہ جوں کا توں ہے اگر آج ان کو کام کرنے دیا جاتا تو اقبال روڈ کے سیوریج کے سارے مسائل حل ہوچکے ہوتے ۔اسی طرح برساتی نالے کا پانی علاقے کی بڑی جامع مسجد سبحانیہ کے اطراف میں بھی کئی دنوں تک جمع رہتاہے، جس کی وجہ سے نمازیوں کو مسجد میں آنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مسجد امام مولانا عمر زادہ صاحب کا کہنا تھا کہ نالے اور مسجد کے درمیان کافی فاصلہ ہے اور درمیان میں کافی آبادی ہے پر نالے میں غیر قانونی تجاوزات اور کچرے کی بہتات کی وجہ سے پانی کی نکاسی نہیں ہوپاتی جس کی وجہ سے گندہ پانی گلیوں میں داخل ہوکر جمع پڑا رہتاہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ منتخب نمائندے مسائل کو حل کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ اگر چہ نالے کی بروقت صفائی سے کافی حد تک مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس علاقے میں ندی نالوں کا پانی مساجد کے اطراف میں جمع ہو اور منتخب نمائندے خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہوں ایسے علاقے کے لیے دعا کے سوا کچھ نہیں کیاجاسکتا۔یوسی کے علاقے ڈی تھراور سی تھری کا علاقہ یوسی کا ترقی یافتہ علاقہ سمجھا جاتا تھا پر اب حقیقت اس کے برعکس ہے اس علاقے کی ہر دوسری گلی میں میں ہول کھلے پڑے ہیں، سیوریج لائینوں کا پانی گلیوں میں بہتا رہتا ہے ۔علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کے عوامی نمائندے کام کرتے ہیں پر مسائل کی بہتات کی وجہ سے مسائل حل نہیں ہو پا رہے ۔

حصہ