بے وقعت سوالوں کے سوا آپ کے پاس ہے کیا

1110

Abasحضور یہ کسی ملک بھی نہیں ہوتا۔ ہو ہی نہیں سکتا، ملک اور معاشروں کے فیصلے ہوں یا اداروں کے، گلی محلوں میں طے ہوتے ہیں نہ سوشل میڈیا اور ٹی وی اسکرینوں پر۔ جب جب اور جس جس شہر میں، چاہے وہ لاہور ہو، گوجرانوالہ، گوجرہ اور احمد پور شرقیہ یا کراچی، یہ فیصلہ عوام الناس کو کرنے دیا گیا تو انہوں نے صرف ایک ہی فیصلہ کیا، لوگ جلا جلا کر مار دیے۔ وہ لوگ جو مجرم بھی نہیں تھے۔ گوجرانوالہ میں جماعتِ اسلامی کے ایک ڈاکٹر کو پتھر مار مار شہید کردیا گیا اور مارنے کے لیے پولیس کی حراست سے آزاد بھی کروایا گیا۔ سیالکوٹ کا واقعہ آپ کب بھولے ہوں گے۔ کراچی میں ڈاکووں کو مار کر زندہ جلانے کا کام اس بری طرح شروع ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے گلی محلوں تک آ گیا تھا۔ پھر اس کو قانون کے قوتِ بازو سے روکنا پڑا تھا۔
سماجیات کا علم یہ با اصرار کہتا ہے کہ انسانوں کی اکثریت بھیڑوں کی طرح ہوتی ہے۔ کم فہم، کم حوصلہ، کم ظرف سوائے اپنے پانی، اپنے چارے، اور اپنی جائے آرام کے کچھ خیال نہیں ہوتا، کچھ ہدف بھی نہیں ہوتا گاہے مل جائیں اور کسی گروہ کی صورت اختیار کر لیں تو بھیڑیے بن جاتے ہیں، بے رحم اور خود غرض۔ مل کر حملہ کرتے ہیں اور چیر پھاڑ کر رکھ دیتے ہیں، اکثر اس کی وجہ کوئی ضرورت اور بھوک نہیں ہوتی، اکٹھے ہونے کا زعم ہوتا ہے۔



اس کے برعکس انسانی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ لوگ اس چیر پھاڑ سے بچنے کے لیے اپنے میں سے اہلِ عقل اور اہل فہم سردار چنے، افواج بنائیں، سالار چنے، پھر انتظامی اور قانونی ادارے وجود میں آئے۔ یہ عہدے دار شوقیہ فنکار یا مہمان اداکار نہیں تھے۔ انہیں فیصلوں کا اختیار تھا۔ اپنی قوم کے مستقبل کو بہتر بنانے اور آگے لے جانے کا کام اور مشن ان کے پیشِ نظر تھا۔ جب سے جمہوری دور شروع ہوا، لوگ سردار اور نمائندے منتخب کر کے اسمبلیوں میں جانے لگے۔ عام لوگ فیصلوں سے بے نیاز ہو کر اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں کیوں کہ اب اگلے 4-5سال یہ ان کے نمائندوں کی ذمے داری ہے۔ پسند ہوں نہ ہوں، جس کو اکثریت نے مان لیا، سمجھو فیصلوں کا مان اور اختیار دے دیا۔ ان کی مشاورت کے لیے ایوان بالا کی شکل میں ادارے اور افراد الگ سے چن لیے گئے۔ مقننہ، عدلیہ‘ انتظامیہ بنا کر قومی اتفاق کر لیا گیا کہ یہی ملکی اور نظام چلائیں گے مگر بیچ میں ہمارے جیسے کچھ ملکوں میں فوج کو شوق ہوا کہ ہمارا ادارہ بڑا بھی ہے اور طاقتور بھی اورہمیں فیصلے کرنے بھی آتے ہیں اور انہیں منوانے کی طاقت بھی میسر ہے تو کیوں ناں اقتدار کے کوری ڈور سے بھی حصہ لے لیا جائے، یاد رہے عسکری ادارے ہوں یا نیم فوجی یونٹس، پولیس ہو یا رینجرز انہیں سولین حکم کا پابند رکھا جاتا ہے اور شہروں سے باہر تاکہ وہ روز مرہ معاملات میں داخل نہ ہوں، تاریخ میں ایسا جب جب ہوا فوجی بغاوت کہا گیا اور اس نے ملکوں کو کاٹ کر رجواڑوں اور خود مختار صوبوں کی شکل دی جسے کسی زیادہ طاقتور نے فتح کر کے ہمیشہ نیست ونابود کیا۔ اقتدار کے دستر خواں پہ حصہ لیتے لیتے ہمارے ہاں بھی تیس سال کی دردناک داستان ہے۔ تین سے زائد دہائیاں فوج کا اقتدار پر مکمل قبضہ رہا، پھر قوم نے بڑی مشکل سے ان کو واپس اپنی پوزیشن پر بھیجا کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ کہا جاتا ہے کہ فوج نے نئے عہد کے نئے چلن کو دیکھا تو عدلیہ سے ہاتھ ملا لیا، اسی دوران ایک نیا کھلاڑی میدان میں آگیا



یہ وہ طبقہ تھا جو بطور صحافی شناخت رکھتا تھا یکا یک اسے ٹی وی اسکرین کی سہولت میسر آگئی، یوں اس نے واچ ڈاگ کا فرض بھی خود ہی سنبھال لیا، ان کا اصل کام خبر دینا تھا، اس نے خبر لینے کو اپنا کام بنا لیا اور اکثر معاملے میں خود پارٹی بن گیا، عسکری اداروں کو ایک نیا ساتھی مل گیا اور اس نئے کھلاڑی کو مضبوط پشت پناہ، یوں اقتدار کے کوری ڈورز میں نئے چہرے اور نئے قدموں کے نشان نظر آنے لگے، جناب مصطفےٰ صادق، ضیا الاسلام انصاری، ارشاد حقانی، نجم سیٹھی سے ہوتے ہوئے وزارتوں کا کوٹا مبشر لقمان تک آپہنچا۔ یہ نیا کردار اور اس کی قوت اور لطف کس کو برا لگتا، کھمبیوں کی طرح اگنے والے ٹی وی چینلوں کہ بعض کو ان کے مالکوں اور اسٹاف کے علاوہ کوئی دیکھتا بھی نہیں وہ بھی یہی خوا پال بیٹھے ہیں۔ اب یوں ہونے لگا ہے کہ سر شام، اپنے اپنے اسٹوڈیو میں ایک ایک اینکر اپنی پسند کے چند ایسے عسکری ماہرین کو بٹھا لیتا ہے جس کے بارے میں وہاں چھاتہ بردار کی اصطلاح عام ہے، یہ چینل کی حیثیت اور اہمیت کے اعتبار سے رینک کے ساتھ اتارے جاتے ہیں اور ان کا کہا حرف آخر جانا جاتا ہے، یہ ایک ہی شام ایک ہی وقت ایک ہی موضوع پر بات کر رہے ہوتے ہیں اور ایم کیو ایم کے دوستوں کی طرح ان کی ڈکشن اور لہجے بھی ایک سے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ عوام کی عدالت سے کامیابی کی سند پانے میں ناکامی کا داغ لیے ہوئے بھی ہیں۔ یہ کسی سرکاری ادارے کے اہم ملازم رہے یا پھر کسی عسکری ادارے سے ملازمت کی عمر پوری کر کے بغیر کوئی کارنامہ کیے ریٹائر کر دیے گئے تھے، ان کو سیاست کی نزاکتوں کا علم ہے نہ تاریخ کا شعور۔ اپنے ناقص مشاہدے، مطالعے اور ادھورے علم میں بھیگے جملے اور نفرت انگیز باتیں۔ یہی نیا چلن ہے جس کے بعد ہر فہم رکھنے والا کہہ اٹھتا ہے کہ لائن دی گئی ہے اب یہ چاہتے ہیں کہ اقتدار کے کوری ڈورز میں یہ بھی جبری جگہ پا لیں، ان کی پشت پناہی کے حامل بعض اینکرز کے تو دودھ کے دانت بھی نہیں نکلے مگر اسکرین کی وجہ سے خواہش بڑی پال بیٹھے ہیں، ان کی دانش نے ان کو بتایا کہ چوں کہ فوج بھی اس کھیل میں اپنا حصہ زیادہ چاہتی ہے تو انہیں یہ آسان لگا کہ مل کر پیش قدمی کی جائے اور اپنا حصہ لیا جائے۔



سماج اور آئین نے طے کیا تھا کہ فوج سیاسی حکومت اور سربراہ کی پالیسی کی روشنی میں چلے گی، اور جہاں فوج اپنی طاقت کے زعم میں اس بات سے مستثنیٰ ہونے کی کوشش کرے گی وہاں آئین کی دفعہ چھ پورے کروفر سے کھڑی کی گئی تھی۔ ہاں اپنے اپنے کام خود مختاری سے کرنے کا مینڈیٹ اداروں اور سربراہوں کے پاس موجود رہے گا جب تک پارلیمنٹ وہ حق واپس نہیں لے لیتی یا سلب نہیں کر لیتی۔ سندھ اسمبلی اگر نیب کے اختیار واپس لے کر کوئی نیا نظام اختیار کرتی ہے تو تحفظات کے باوجود اسے اس کا اختیار حاصل ہے۔ آپ کو پسند نہیں تو الیکشن تک کا انتظار کرنا ہو گا۔ اسمبلی کے خلاف ٹی وی اسکرین پر شامِ غریباں سجانا نہ آپ کا کام ہے اور نہ سوسائٹی نے آپ کو اس کا اختیار دیا ہے۔ یہ آپ کس برتے پر اور کیسے کہہ لیتے ہیں کہ سیاسی لوگ ووٹ اچک کر، چھین کر یا خرید کر لائے ہیں، قبلہ ان سب کو اس شعبے میں ووٹوں سے جیتتے دہائیاں ہو چکی ہیں، آپ فرماتے ہو یہ بے پیندے کے بدبودار لوٹے ہیں، ان کی عزت کیوں کی جائے۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ آپ اجازت دیں گے تو ہی عزت دی جا سکے گی۔ یہ کب آئین میں شامل ہوا ہے کہ وزیرِ اعظم، وزراء اعلیٰ، اسپیکر، پارلیمانی لیڈر، پارلیمنٹیرین، حکومت کے سیکرٹریز، محکموں کے سربراہ سب کے کام مختص، اختیار واضح اور احتساب کے ضابطے آپ سے پوچھ کر طے ہوں گے۔ کرکٹ میچ اچھا نہیں چل رہا تو بھی کھلاڑی ہی کھیلیں گے آپ اپنی صلاحیتوں کے خود ساختہ زعم میں پچ تک نہیں پہنچ سکیں گے کہ اب میں باری لیتا ہوں اور کھیل کر دکھاتا ہوں آپ نے جب جب یوں جبری باری لی بری طرح آؤٹ ہوئے، کھیلیں گے وہی جو اس کام کے لیے ایک پراسس کے ذریعے چنے گئے ہیں، آپ کو زیادہ شوق ہوا ہے تو اپنی جگہ چھوڑ کر آ جائیے اور آنے والے الیکشن میں قسمت آزمائیے کہ لوگ آپ پر اعتماد کر لیں اعتبار کر لیں، پارلیمنٹ بھیج دیں یا چکوال سے واپس ڈان بھیج دیں، کھیلے گا وہی جو اس کام کے لیے منتخب ہے۔ آپ اس زعم میں کہ اچھی ہٹ لگا سکتے ہیں، ٹُل لگانے نہیں پہنچ جائیں گے۔ [ویسے ایسے سبھی دعوے داروں کو ان کی اپنی برادری پریس کلب کے انتخاب میں چار ووٹ دینے پر آمادہ نہیں ہوتی، لیکن یہ اپنے تئیں خود ہی حکمران ساز بنے بیٹھے ہیں]
ان سارے اینکرز، ان کے مہمانوں اور عسکری تجزیہ نگاروں کو آئینہ دکھانے کا وقت آ گیا ہے کہ قوم نے آپ کو پارلیمنٹ کا متبادل نظام قرار نہیں دیا نہ عدلیہ کو ختم کر کے آپ کو عدالتیں لگانے کا کام سونپا ہے اور نہ ہی ملک کے دوستوں اور دشمنوں کی پوزیشن بدلنے کا اختیار دیا ہے۔بہت بھی ہوا تو آپ خبر دینے والے ایک تنخواہ دارغیر جانبدار تجزیہ کار ہو سکتے ہیں۔ جبری حکومتی مشاورت کار اور فیصلہ ساز کا کردار نہیں لے سکتے، یہ نہیں ہو گا کہ ہر بات پر آپ قول فیصل دیں، عدالت لگائیں، قوم اور حکمرانوں کو ڈرائیں، سیاسی نظام ہو یا کھیل کا، نمائندوں اور کھلاڑیوں کی اہلیت اور نا اہلیت کے حتمی فیصلہ گر آپ نہیں ہیں۔



ابھی تک قوم اور پارلیمنٹ نے کسی قانون اور ترمیم کے ذریعے یہ اختیار آپ کو نہیں دیا کہ قوم کے سربراہوں کی روز بے عزتی کریں، جگ ہنسائی اور تماشے کا باعث بنیں۔ ان کے نام بگاڑیں، اپنے مقام سے مطمئن نہیں تو اس کھیل کا حصہ بنیے جس کی اصلاح چاہتے ہیں، ایک صاحب فرماتے ہیں کہ وزیر خزانہ استعفا نہیں دے رہا استعفا تو اس کا باپ بھی دے گا، دوسرے صاحب جو مایوسی اور نفرت کے گرو کا روپ دھارے بیٹھے ہیں، بولے اس نظام پر سو بار لعنت ان حکمرانوں پر لعنت، یہ تم چالیس پچاس لوگوں کو مار کیوں نہیں دیتے کہ ملک ٹھیک ہو جائے ان کا خون بہاو گے تو سب ٹھیک ہو گا [ ممکن ہے انہوں نے لسٹ بھی بنا رکھی ہو]۔ کیا ہم کسی ایسے نئے سماج کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں جہاں گالیاں اور بدزبانی فیصلے کریں، سیاسی قیادت کو پالیسیاں بنانے کا اختیار ہو نہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا، کسی کے مینڈیٹ کی عزت ہو نہ انتخاب کی وقعت۔ یہ اپنے اداروں، پروگراموں اور اخبارات کی نوکریوں کی بنیاد پر حکم فرمائیں تو راتوں رات لوگ لٹکا دیے جائیں، یہ کہیں تو انہیں آزاد کردیا جائے، یہ کہیں تو دیس نکالا دے دیا جائے، ان کی مرضی پوچھ کر تبادلے کیے جائیں یہ کہیں تو عدالتیں اپنے فیصلے بدل دیں، روزمرہ سے لے کر تاریخ کا حصہ بنانے اور بننے کے معاملات ہوں تو ان سے پوچھا جائے خود تو کسی ایک ادارے کے بھی وفادار نہیں جہاں چار پیسے اور بڑا عہدہ ملا، اپنی ٹہنی چھوڑ کر وہاں جا پہنچتے ہیں اور حکومتی فیصلوں میں جبری شمولیت اور حکومتی اختیار اور شراکت اقتدار کے دعوے دار بن بیٹھے ہیں، صرف اس لیے کہ ایک گھنٹہ مسلسل بول رہے ہوتے ہیں، کسی نہ کسی کی بے عزتی کر رہے ہوتے ہیں، کسی نہ کسی فیصلے پر سوال اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ ان بے وقعت سوالوں کے سوا آپ کے پاس ہے کیا کہ چوتھا ستون بننے کا یک اور سوال اپنے لیے بھی لے کر کھڑے ہو گئے ہیں۔

حصہ