فاٹا اصلاحات ،سراج الحق نے ڈیڈ لائن دیدی

514

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے اعلان کیاہے کہ اگر عید تک فاٹا اصلاحات پر عملد رآمد نہ ہوا تو 25 ستمبر کو پشاور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرینگے۔یہ خاموش سمندر اسلام اباد پہنچا تو مقابلہ نہ کر سکو گے۔ قبائلی عوام نے انگریزوں کا مقابلہ کیا ملک کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کیا تو پھر ان کی قسمت میں اندھیرے کیوں ہیں اورکیوں ان کو حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔قبائلی علاقوں میں دوبارہ مردم شماری کرائی جائے ، قبائلی عوام کی آباد کم دکھا کر ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جارہاہے۔

 وہ پشاور میں جماعت اسلامی فاٹا کے زیر اہتمام فاٹا اصلاحات کیلئے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیرمشتاق احمد خان ،سابق ممبر قومی اسمبلی صا حبزادہ ہارون الرشید ، امیر جماعت اسلامی فاٹا سردار خان ،سیکرٹری جنرل محمد رفیق آفریدی،صوبائی سیکرٹری اطلاعات سید جماعت علی شاہ،تحریک انصاف فاٹا کے اقبال آفریدی ‘ پختونخوا اولسی تحریک کے رہنماء ڈاکٹر سید محسود اور دیگر بھی موجود تھے ، دھرنے میں کثیر تعداد میں جماعت اسلامی کے عہدیداروں اورکارکنوں نے شرکت کی۔

jamaat-e-islami

سراج الحق نے کہاکہ گورنر ہاؤس کے سامنے قبائلی عوام روڈ پر بیٹھی ہے لیکن گورنر صاحب آرام سے بیٹھے ہیں،اگر دھرنے میں گورنر صاحب آجاتے تو قبائلی عوام کو اپنے گورنر کو دیکھ کر مایوسی کچھ کم ہوجاتی،جب بھی پاکستان پر مشکل وقت آیا قبائلی عوام نے دھرتی پر جانوں کا نذرانہ پیش کیا،قربانیوں کا صلہ مایوسی اور غلامی قبائل کو ملی۔62,63کو ہر قسم پر لاگو ہونا چاہئے اور جو قوتیں اس کے خلاف ہیں ان کے خلاف ہم آواز اٹھائیں گے۔62,63 کو ججز ، جرنیلوں اور سیاست دانوں پر لاگو کیا جائے۔ شاہد خاقان عباسی مزید نواز شریف سے ڈکٹیشن نہ لیں کیونکہ وہ بیس کروڑ عوام کے وزیراعظم ہیں لیکن شاید انکو اپنے آپ پر اعتماد نہیں اسی لیے وہ ہر بات پر جاتی امرا کی طرف دیکھتے ہیں،ہمیں غربت قبول ہے لیکن امریکی غلامی قبول نہیں، ٹرمپ اپنی امداد اور اپنی شرائط اپنے پاس رکھے۔

سراج الحق نے کہاکہ قبائلی علاقوں میں دوبارہ مردم شماری کرائی جائے قبائلی عوام کی آبادی کم دکھا کر ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے،ہم پختونوں کی تقسیم کو نہیں مانتے،آئین کے آرٹیکل 62 اور63 کو ہر کسی پر لاگو ہونا چاہیے اور جو قوتیں اس کے خلاف ہیں ان کے خلاف ہم آواز اْٹھائینگے ،ہم پاکستان کوفلاحی اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں جس میں اسلامی قانون نافذ ہو۔ لوگوں کو نوکریاں ملیں اور اْن کو اپنے حقوق حاصل ہوں۔

jamaat

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ ہمارا مذہب، لباس، رہن سہن ایک ہے تو پھر کیوں قبائلی عوام اور بندوبستی علاقوں میں عوام کو تقسیم کیا گیا،حکمرانوں کے لیے صادق اور امین ہونا ضروری ہے کیونکہ اگر لیڈر سچا نہیں تو اسکو لیڈر ہونے کا حق نہیں ہے،قبائل کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔

سراج الحق کا کہنا تھاکہ مردم شماری قبائلی علاقوں میں دوبارہ کرائی جائے، قبائلی عوام اپنے علاقوں میں موجود نہیں تو کیسے مردم شماری ممکن ہو گئی، نوجوانوں کی اس دھرنے میں اتنی بڑی تعداد اس بات کی ضمانت ہے کہ مزید قبائل ایف سی آر منظور نہیں، قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کو ختم کیا جائے کیونکہ ایف سی آر انگریز کا بنایا کالا قانون ہے،اورعید تک اگر ایف سی آر کا خاتمہ اور قبائل کو خیبر پختون خوا میں ضم نہ کیا گیا تو 25 ستمبر کو اسلام آباد تک لانگ مارچ ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ