پانامالیکس کیس پر عدالتی رویے سے مایوسی ہوئی، سراج الحق

92

امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس پر عدالت سے مایوسی ہوئی ،کروڑوں پاکستانیوں کی نظریں پانامہ کیس پر لگی ہیں ۔عوام شدت سے فیصلے کے منتظرہیں ، مفاد عامہ کے تناظر میں عدالت کو اس نازک موڑ پر چھٹیاں نہیں کرنی چاہئیں تھی ۔ کرپشن کے اس معاملہ کی وجہ سے ملک و قوم کو خطرات لاحق ہیں،مودی کو پھر بتاتا ہوں کہ اگر تم نے پانی بند کیا تو ہم تمھاری گردن دبوچ لیں گے ،ہندوستان تقسیم در تقسیم اور پاکستان عظیم سے عظیم بنے گا۔ ہم ہر محاذ پر ہندوستان کا مقابلہ کرینگے ۔فاطمی کے بیان کہ ٹرمپ اور ہمارے وزیر اعظم کا مزاج کاروباری ہے نے بہت سے سوالات پیدا کردیئے ہیں۔ امریکی کاسہ لیسی کی وجہ سے ہمارے پینسٹھ ہزار لوگ شہید ہوگئے ہیں ،وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ان تمام عناصر کا محاسبہ کریںجن کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میدان جنگ بنا۔حکمرانوں نے پاکستان کو میدان جنگ بنانے کے عوض امریکی ڈالرزکے ملنے کا اعتراف کیا تھاقوم کو جائے کہ وہ ڈالر کہاںاورکس کی جیب میں گئے ؟

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور یونیورسٹی کیمپس میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام سٹوڈنٹ فیسٹیول کے تیسرے روز آخری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے یونیورسٹی اساتذہ اور طالب علموں میں یادگاری شیلڈ بھی تقسیم کئے ۔

sirajul-haq-addressing-student-festival-at-peshawar-university-campus-2

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بلٹ پروف گاڑیوں میں پھرنے والے اپنے لوگوں ہی سے موت کے خوف میں مبتلا ہیں ۔ عوام کے خادم بلٹ پروف کاڑیوں میں نہیں پھرتے بلکہ وہ پہرہ اور عوام کو تحفظ فراہم کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ مسئلہ قیادت کا ہے جب قوم کو قیادت ملتی ہے تو انہیں آزادی ملتی ہے لیکن جب قیادت بزدل ہوتو پھر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنتا ہے اورنوے ہزارفوج کا کمانڈر ہندوستانی جرنیل کے سامنے ہتھیار ڈال دیتاہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی قیادت جن کا پیسہ باہر اور بچے باہر کے سکول میں پڑھتے ہیں جو حکمرانی سے فارغ ہوکر باہر چلے جاتے ہیں ایسی قیادت کبھی بھی ملک و قوم کو ترقی نہیں دے سکتی بلکہ ایسے لوگ بدنامی اور غلامی ہی دیتے ہےں،ان سیاسی پنڈتوں سے ہم سوال کرتے ہیں کہ اگر یہ لوگ پاکستان سے محبت کرتے ہیں تو انکے بچے باہر کیوں پڑھتے ہیں ،کیا انکے بچے پاکستان کے سکول میں پڑھتے اور یہاں سے علاج کرتے ہیں ،اگر پاکستان سے محبت کرتے ہیں تو انکے پیسے آف شور کمپنیوں میں کیوں ہیں اور پھر پانامہ اور دبئی لیکس میں انکے نام کیوں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں پیش کیا جانے والا بل نظریاتی اور آئینی کرپشن ہے ، میں نے آصف علی زرداری کو فون کرکے کہا کہ یہ بل انسانی حقوق ور آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے اگر ایک چودہ پندرہ سال کا بچہ اپنی مرضی کی شادی کرسکتا ہے تو وہ اپنی مرضی سے اسلام کیوں قبول نہیں کرسکتا انہوں نے کہا کہ جو لوگ زبردستی اسلام کی قبولیت کی بات کرتے ہیں، ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ اسلام میں زبردستی نہیں اور یہی قران میں حکم ہے ۔ سندھ اسمبلی نے جب یہ قانون پاس کیا تو تمام سیکولر جماعتوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور کہا کہ آج سے ہم پاکستان کا ایک نیا چہرہ دنیا کو دکھانے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن میں سندھ حکومت سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اس قانون کو واپس لے لے ورنہ یہی قانون ان کے گلے کی ہڈی بن جائیگا ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہمارے بزرگوں ،جوانوں ،ماﺅں اور بہنوں نے بے شمار قربانیاں دیکر پاکستان حاصل کیا اور ہمارے حکمرانوں نے اس ملک کا خزانہ لوٹ کر ذاتی اکاﺅنٹس میں اضافہ کیا اوربیرون ملک جاگیریں بنائیں،بلوچستان میں سونے کے ذخائر دریافت ہورہے ہیں لیکن اس منصوبے سے بلوچ بچوں کوکوئی فائدہ نہیں مل رہا،پاکستان میں پانچ دریا،تین کروڑ ٹن سے زیادہ کوئلے کے ذخائرموجود ہیں لیکن اسکے باوجود لوڈشیڈنگ ہے ،ہم کسان اور کاشتکار کو جاگیراور مزدور کو کارخانے کی پیداوار میں شریک کرینگے،حکمرانوں کے پاس ذاتی اقتدارکو تسلسل دینے کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں ،حکمرانوں نے قوم کو بدامنی ،مہنگائی ،غربت ،دہشت گردی،امریکی غلامی اور انڈیا کے سامنے جھکنے کے تحفے دیئے ،ہم قوم کو عزم اور وقار کے ساتھ جینے کا ڈھنگ سکھائیں گے ،انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں موقع دیا تو قون کے خادم اور پہرے دار بنیں گے تاکہ وہ سکون اوراطمینان سے زندگی گزار سکیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ