خواتین کو کامیابی کے لئے حضرت عائشہ اور حضرت فاطمہ کو رول ماڈل بناناہوگا،سراج الحق

308

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ دنیامیں عزت اور آخرت میں کامیابی کے لیے حضرت عائشہؓ اور حضرت فاطمہؓ کو رول ماڈل بنانا ہو گا۔ مغرب نے امت مسلمہ کو نقصان پہنچانے اور تباہ کرنے کے لیے خاندانی نظام اور خواتین کو ہدف بنایا ہے۔ انقلاب اور تبدیلی جدوجہد میں خواتین کردار بہت اہم اور کلیدی ہے۔ کنونشن میں اور خواتین کانفرنس میں سندھ بھر سے ہزاروں خواتین کی شرکت پر میں تمام خواتین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ان کے حوصلوں اور جذبوں کو سراہتا ہوں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ ورکرزکنونش کے دوسرے دن خواتین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔خواتین کانفرنس سے اسلامی نظریاتی کونسل کی رکن و سابق رکن قومی اسمبلی سمیحہ راحیل قاضی ، صدر انٹرنیشنل ویمن یونین سابق سینیٹر ڈاکٹر کوثر فردوس ، سابق رکن قومی اسمبلی عائشہ منور اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ خواتین کانفرنس میں ایک مشترکہ اعلامیہ بھی منظور کیا گیا ۔ ناظمہ جماعت اسلامی کراچی فرحانہ اورنگزیب نے مشترکہ اعلامیہ پیش کیا۔

سراج الحق نے مزید کہا کہ سندھ ورکرزکنوشن اور خواتین کانفرنس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے ۔ یہ ظلم کے خاتمے اور عدل و انصاف کی جدوجہد میں اہم پیش رفت ثابت ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ خواتین کا اتحاد اور یکجہتی اور اپنے نظریے اور عقیدے سے پختہ وابستگی امریکی حواریوں اور دجالی تہذیب کو شکست سے دوچار کرے گی ۔سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ سندھ کی خوشحالی پورے ملک کی خوشحالی ہے ۔ غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری سے خواتین براہ راست متاثر ہوتی ہیں ۔جماعت اسلامی حلقہ خواتین خواتین کے فلاح بہبود اور خواتین کو ان کا حق دلانے کے لیے کوشاں ہیں ۔ اسلام نے خواتین کو جو عزت دی و وقار اور حقوق دیے ہیں وہ کسی اور نے نہیں دیے ۔ اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے خواتین کو توقیر اور حقوق مل سکتے ہیں ۔ موجودہ حالات میں خواتین کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے منظم و متحد ہونے اور حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہے ۔ حالات سے گھبرانے کے بجائے ان کے مقابلے کی تیاری کرنے کی ضرورت ہے ۔

10-ji

دردانہ صدیقی نے کہا کہ ایک اسلامی اور خوشحال پاکستان ہی عوام میں دکھوں اور غموں کا مداوا اور مسائل کا حل ہوسکتا ہے ، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزارنے والے نہ خود کسی پر ظلم کرتے ہیں اور نہ ظلم کرنے دیتے ہیں ۔ اسلامی اصولوں کے مطابق حکومت کرنے والے عوام دوست اور عوا م کی امانتوں کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں ۔جماعت اسلامی قوم کو اخوت اور محبت اور یگانگت کا درس دیتی ہے ۔ اللہ کی کتاب اور نبی مہربان سنت ہمارے لیے بہترین نمونہ اور مشعل راہ ہے ۔ حکمرانوں نے 70سالوں سے ملک کو لوٹا ہے اور قیام پاکستان کے مقاصد کو فراموش کردیا ہے ۔ ملک کو اس کے مقاصد سے ہم آہنگ کرنے اور عوام کو مسائل سے نجات دلانے کے لیے جماعت اسلامی کی اہل اور دیانت دار قیادت کو مضبو ط کرنے اور بر سر اقتدار لانے کی ضرورت ہے ۔

11-ji

عائشہ منور نے کہا کہ آج عورت کو معاشی ترقی اور معاش کی ذمہ داری میں بنیادی اہمیت دے دی گئی ہے جس سے معاشرے میں مرد کے خلاف ایک فضا اور ماحول بنادیا گیا ہے اور خاندانی نظام میں تباہی اور خرابیاں پیدا ہونے لگی ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان خرابیوں سے بچا جائے ہم قومی اسمبلی اور سینٹ میں یہی کوشش کرتے ہیں کہ خواتین کی فطری ذمہ داری کے برخلاف اور دین سے متصادم کوئی قانون سازی نہ ہوسکے ۔ ہم پہلے سے موجودخواتین کا جائزہ لیتے رہتے ہیں کہ ان کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ بنایا جائے۔

12-ji

کوثر فردوس نے کہا کہ طلاق کی شرح میں اضافہ خاندانی نظام میں کمزوری کی طرف واضح اشارہ ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ پہلے یہ دیکھتے تھے کہ لڑکے ملازمت پیشہ ہیں کہ نہیں لیکن اب یہ دیکھا جاتا ہے کہ لڑکی کی ملازمت کیسی ہے ۔ پہلے مناسب عمروں میں شادیاں ہوجاتی تھیں لیکن اب عمریں زیادہ جاتی ہیں ۔ میڈیا کے ذریعے ہمارے خاندانی نظام پر تہذیب و ثقافت اور تمدن پر حملہ کیا جارہا ہے ۔ان امور کو دیکھنے اور انہیں درست کرنے کی ضرورت ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ